TLP ban 808x454

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کیا درست فیصلہ ہوگا؟

356 views

پاکستان ایسا ملک نہیں کہ ایمبولنس بھی نہ چل سکے۔ شیخ رشید

فہمیدہ یوسفی

ملک بھر میں دو دن کے پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید نے بلاآخراعلان کردیا کہ حکومت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کررہی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پابندی کی قرارداد حکومت پنجاب کی جانب سے آئی تھی جس کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی ملک میں بے امنی پھیلارہی ہے، پاکستان ایسا ملک نہیں کہ ایمبولنس بھی نہ چل سکے۔

دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کا کہا ہے کہ وہ اس پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے اور پابندی سے ان کی تحریک کو مزید جلا ملے گی۔

تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کی وجہ کیا تھی ؟

بروز پیر تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ۔ جس کے بعد احتجاج کے طور پر کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں جن میں خاص طور پر لاہور، اسلام آباد اور کراچی شامل ہیں سڑکیں بند کر کے دھرنے شروع کردیے جس کے باعث شہریوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سڑکوں پرشہری گھنٹوں پھنسے رہے ۔

جبکہ جماعت کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ اور ایمبولینس کو راستہ نہ دینے جیسے واقعات بھی سامنے آئے اسی دوران کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران تصادم میں اندازے کے مطابق تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اور دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد بھی جان کی بازی ہارگئے ۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک لبیک کی جانب سے گذشتہ تین دن سے جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ملک بھر سے 2135 افراد گرفتار کیے گئے جن میں سے 1669 پنجاب اور 228 سندھ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے خادم رضوی کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کردیا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے 193 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 45 افراد گرفتار ہوئے جبکہ گرفتار افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مطابق وزیراعظم نےتحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سمری منظورکرلی ہے، وفاقی کابینہ 24 گھنٹوں میں سرکلر سمری کے ذریعے پابندی لگانے کی منظوری دے گی۔

سمری میں ہے کہ تحریک لبیک کی پُرتشدد کارروائیوں سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، تحریک لبیک کے 2063 کارکن گرفتار اور 115 ایف آئی آردرج کی گئیں۔

جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نےتحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سمری منظورکرلی ہے، وفاقی کابینہ 24 گھنٹوں میں سرکلر سمری کے ذریعے پابندی لگانے کی منظوری دے گی۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سرکلر سمری وفاقی کابینہ نے بھی منظور کرلی ہے۔سمری میں ہے کہ تحریک لبیک کی پُرتشدد کارروائیوں سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، تحریک لبیک کے 2063 کارکن گرفتار اور 115 ایف آئی آردرج کی گئیں۔

اس پابندی کا تحریک لبیک پر کیا اثر ہوگا؟

تحریک لبیک پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوت ہے جس نے گذشتہ انتخابات میں 22 لاکھ کے قریب ووٹ لیے تھے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر انسدادہشگردی کے قانون 1997 کی شق نمبر 11 B کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے لیکن کیا یہ حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے

تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ شاید اتنا سودمند ثابت نہیں ہوسکے گا کیونکہ اگر ماضی کو سامنے رکھا جائے تو زیادہ چانسز یہ ہیں کہ یہ تنظیم کسی دوسرے نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے گی ۔ جبکہ تحریک کو ملنے والے فنڈز کے بارے میں بھی حکومت کے پاس کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا کی موجودگی میں تحریک کے نظریات کا پرچار روکنا حکومت کے لیے بڑا چیلینج ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: جلالی طبیعت کے مالک علامہ خادم حسین رضوی

جبکہ تحریک لبیک پر پابندی کا اطلاق اس حقیقت کا منعکس ہے کہ حکومت وقت تحریک کی سرگرمیاں روکنے میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے کیونکہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ نہ صرف حکومت بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں میں تحریک لبیک پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے نظرئیہ فکر کے لوگ موجود ہیں۔

جبک تحریک لبیک پاکستان کو بھی اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کی جنگ میں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا عدم برداشت کی پالیسی ان کے نظریے کو کامیابی بخش سکے گی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *