حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مذاکرات: کیا کچھ ہوتا رہا

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مذاکرات: کیا کچھ ہوتا رہا

173 views

حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی میں میں بات چیت چل پڑی ہے، امید ہے کالعدم ٹی ایل پی سے تمام معاملات طے پا جائیں گے : وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

تحریر: فہمیدہ یوسفی
ترتیب وتدوین:غانیہ نورین

مزید بات آگے بڑھانے سے پہلے جان لیتے ہیں کہ آخر کالعدم تنظیم تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی نوبت کیوں آئی؟؟

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر معاہدہ

گزشتہ سال ستمبر 2020 میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے ایک بار پھر پیغمبر اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کو دوبارہ شائع کیا تھا جس کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور دنیا بھی میں شدید احتجاج اور مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

پاکستان میں تحریک لبیک ان مذہبی تنظیموں میں شامل ہے جو اس مسئلے پر پاکستان میں شدید احتجاج کرتی رہی ہیں۔

Protests across Pakistan after far-right TLP leader arrested | Protests News | Al Jazeera

بی بی سی کے مطابق حکومت پاکستان نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا۔

جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

Saad Rizvi's message to members of banned Tehreek-e-Labeek Shura – IG News - IG News

خادم حسین رضوی کے چہلم پر ان کے صاحبزادے اور ٹی ایل پی کے نئے سربراہ سعد رضوی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ’اگر آپ اپنا معاہدہ بھول گئے ہیں تو ہماری تاریخ دیکھ لیں، اب ہم (حضور ﷺ کی ناموس کے لیے) مرنے کو مزید تیار ہیں، آپ کے پاس فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے لیے 17 فروری تک کا وقت ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: جلالی طبیعت کے مالک علامہ خادم حسین رضوی

سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی کی گرفتاری اور صورتحال

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ۔ جس کے بعد احتجاج کے طور پر کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں جن میں خاص طور پر لاہور، اسلام آباد اور کراچی شامل ہیں سڑکیں بند کر کے دھرنے شروع کردیے جس کے باعث شہریوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سڑکوں پرشہری گھنٹوں پھنسے رہے ۔

TLP activists throw traffic out of gear in twin cities - Pakistan - DAWN.COM

جبکہ جماعت کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ اور ایمبولینس کو راستہ نہ دینے جیسے واقعات بھی سامنے آئے اسی دوران کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران تصادم میں اندازے کے مطابق تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اور دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد بھی جان کی بازی ہارگئے ۔

Police, TLP supporters clash in Pakistan's Lahore, area cordoned off; casualties expected - World News

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک لبیک کی جانب سے گذشتہ تین دن سے جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ملک بھر سے 2135 افراد گرفتار کیے گئے جن میں سے 1669 پنجاب اور 228 سندھ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

Pakistan: At least four policemen killed as violence erupts after TLP chief's arrest

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے 193 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 45 افراد گرفتار ہوئے جبکہ گرفتار افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے۔

Clashes in Pakistan after TLP takes several police hostage | Pakistan News | Al Jazeera

اٹھارہ اپریل بروز اتوار پاکستان بھر میں کیا ہوتا رہا

اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ لاہور میں پولیس اور رینجرز اہل کاروں کو اغوا کیا گیا جس پر آپریشن ہوا، حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بلیک میل نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل لا ہور پولیس کے مطابق ی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئی ہیں۔

11 policemen taken hostage by TLP released after first round of talks with Punjab govt: Sheikh Rashid - Pakistan - DAWN.COM

ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زخمی حالت میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے قبضے میں تھے۔

دوسری جانب کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شورٰی کے رہنما علامہ شفیق امینی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں ان کے دو کارکن ہلاک اور 15 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

Pakistan's Capital Blocked Off Over Anti-France Protest – Channels Television

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہلاک کارکنان کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ’فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال نہیں دیا جاتا۔

ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے

اس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی نے ملک کی 192 جگہوں کو بند کیا تھا، جن میں سے 191 جگہیں کلیئر کرا لی گئی ہیں۔

صرف لاہور یتیم خانہ چوک بند ہے اور اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

ملک بھر میں حالات کشیدہ اور ہڑتال کی کال

لاہور میں جاری کشیدہ صورتحال کے بعد مختلف مذہبی جماعتوں کو ردعمل بھی سامنے آگیاہے

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے اتوار کی شب ک پریس کانفرنس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر یں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حکومت نے لاہور میں جو خونریزی کی اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد نے پولیس پر جوحملے کیے وہ بھی یقیناً غلط تھے لیکن حکومت دانشمندی سے کام لے۔

بروز پیر وزیر داخلہ کا وڈیو بیان

وزیر داخلہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

شیخ رشید نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’تحریک لبیک پاکستان کے کارکن اب لاہور میں مسجد کے اندر چلے گئے ہیں اور پولیس بھی پیچھے ہٹ گئی ہے۔ بات چیت کے دوسرے راؤنڈ میں باقی ماندہ معاملات بھی طے پا جائیں گے‘۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’یہ مذاکرات پنجاب حکومت نے کامیابی سے کیے ہیں۔ اللہ سے امید ہے کہ دوسری میٹنگ جو سحری کے بعد شروع ہوگی بہتری کی طرف جائے گی‘۔

کراچی کی صورتحال

کراچی میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے لاہور واقعے کے خلاف مفتی منیب کی جانب سے ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

آل سٹی تاجر اتحاد کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ الائنس میں شامل تمام بازارپیر کو بند رہیں گے۔ اسی طرح ٹریڈرز ایسوسی ایشن میریٹ روڈ نے بھی علما کرام کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے میریٹ روڈ، بولٹن مارکیٹ اور اطراف کے بازار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی کے چیئرمین رضوان عرفان کے مطابق کراچی کے تمام الیکٹرانک بازار اور موبائل مارکیٹس آج بند رہیں گی۔

اسی طرح گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد حسین کے مطابق پیر کو ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ہڑتال کی حمایت میں تمام ٹرانسپورٹ بند رکھیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کا بیان

لاہور میں پولیس اور کالعدم تحریک لبیک کے تصادم کے بعد وزیراعظم پاکستان کا اہم ترین بیان سامنے آیا ہے۔

انہوں نے تحریک لبیک پر براہ راست تنقید سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی سیاسی ودینی جماعتیں اسلام کو غلط استعمال کرتی ہیں، یہ جماعتیں اسلام کو استعمال کر کے ملک کو نقصان پہنچا دیتی ہیں، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، ملک میں توڑ پھوڑ سے عالمی سطح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم عالمی سطح پرمہم چلائیں گے، عالمی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہے ہیں،

کیا ریاست کی جانب سے طاقت کا استعمال درست فیصلہ ہے؟

کل کے ہونے والے افسوسناک واقعات میں نہ صرف پولیس اہلکا ر بلکہ تحریک لبیک کے کارکن بھی زخمی ہوئے ہیں اور لاہور میں خانہ جنگی جیسے مناظر دیکھنے میں آتے رہے جس کے نتیجے میں مذہبی جماعتوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے آج ہڑتال کی کال دیدی ہے دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے بھی کئی حلقوں کی جانب سے اس فعل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے ہمدردوں کی ایک بڑی تعداد مختلف بااثر سیاسی قتوں ست تعلق رکھتی ہے۔ جس معاملے کو بات چیت اور افہام تفہیم سے حل کیا جاسکتا تھا اس کے لیے رمضان جیسے مقدس مہینے میں خون بہانے کی ضرورت نہیں تھی۔حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو حل کرنا چاہیئے۔

کیونکہ ماضی کے تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ پابندیاں مسلے کا حل نہیں ہیں۔ بہتر ہوگا کہ  اس مسلے کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔ اور آگ کو آگ سے بجھانے کی کوشش نہ کریں۔

مزید پڑھیں: تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کیا درست فیصلہ ہوگا؟

Source: Media Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *