ففتھ جنریشن وارفئیر جعلی خبروں کی روک تھام ضروری

ففتھ جنریشن وارفئیر جعلی خبروں کی روک تھام ضروری

187 views

اٹھارہ اپریل بروز اتوار لاہور میں جاری کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور لاہور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد تو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اچانک ہی مختلف جعلی امیجز اور گمراہ کن وڈیوز #CivilWarinPakistan کے ساتھ مختلف اکاونٹس کے ساتھ ٹویٹ ہونے لگیں ۔ اور دیکھتے دیکھتے ہی #CivilWarinPakistan پاکستان میں ٹویٹر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

فہمیدہ یوسفی

اس ٹرینڈ کے مطابق پاکستان میں خدانخواستہ خانہ جنگی شروع ہوگئی ہے جبکہ مسلح افواج کے اہلکار مستعفی ہورہے ہیں ۔ جبکہ ملک بھر کی سڑکوں پر کوئی لا اینڈ آرڈر نظر نہیں آرہا۔

اس ٹرینڈ کا مقصد کشیدگی کو مزید ہوا دینا تھا تاکہ بدامنی اور بے چینی بڑھے اورصارفین کو تشدد پر اکسایا جاسکے۔ اتنے بڑے اور مربوط طریقے سے چلائی جانے والی پروپیگنڈہ مہم پاکستان کے خلاف جاری ففتھ جنریشن وار کا ہی حصہ تھی ۔ جس کے بارے میں اکثر و بیشتر اب بات ہورہی ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ففتھ جنریشن وار کے بارے میں وارننگ جاری کی جاتی رہی ہے۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کیا ہم نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں ۔ساتھ ہی کیا ان خبروں کے تباہ کن نتائج سے پیدا ہونے والے اثرات کے لیے کوئی قانون بھی وضع کیے ہیں۔

اس ٹرینڈ میں ایک چھ مہینے پرانے جنازے کے جلوس کی وڈیوشئیر کی گئی


نہ صرف یہ بلکہ ایک اور پاک فوج کے ایک سپاہی کی ایک گمنام ویڈیو بھی ٹرینڈ کرگئی جو بعدازاں جعلی ثابت ہوئی

جبکہ پنجاب پولیس اہلکاروں کی ایک اور پرانی وڈیو کو لاہور کشیدگی سے منسوب کیا گیا اور اس ٹرینڈ میں ٹویٹ کیا گیا۔

#CivilWarInPakistan ٹرینڈ ایک بھارتی اکاونٹ @Gif_baaz کے ذریعے پاکستانی وقت کے مطابق دن2 بج کر 2 منٹ پر شروع کیا گیا جبکہ ٹویٹر اکاونٹس بھارتی ریاستوں پونے ، نئی دہلی اور ممبئی سے آپریٹ ہورہے تھے تاہم اس ٹرینڈ میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی شرکت نے معاملات کو مزید خراب کیا۔

اس ٹرینڈ پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے پاکستان کے معروف صحافی اور سینیر اینکر پرسن ارشد شریف نے انکشاف کیا کہ بھارتی عناصر احتجاج کرنے والی جماعت کے کارکنوں کے واٹس ایپ گروپس میں موجود تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تشدد پر اکسارہے تھے۔

اب ذرا ایک بار پھر دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ففتھ جنریشن وارفئیر ہے کیا۔

ففتھ جنریشن وار فئیر کی یہ اصطلاح سب سے پہلے 2005 میں استعمال کی گئی۔ اسکو آسان زبان میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اس جنگ میں دشمن اندرونی تضادات کا بھرپور استعمال کرکے انتشار پھیلاتا ہے۔ففتھ جنریشن وار فئیر میں سب سے پہلے ملک میں خانہ جنگی یا پھر داخلی انتشار کی ٖفضا قائم کی جاتی ہے۔ پھر اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

ارنب گوسوامی فاشسٹ ملک بھارت کی کٹھ پتلی

 یہ جنگ آمنے سامنے نہیں بلکہ ذہنوں سے لڑی جاتی ہے۔ اس کے ہتھیار پراکسیز ٹی وی ریڈیو پرنٹ سوشل میڈیا ہیں جس کا استعمال کرکے ٹارگٹ ملک کے شہریوں کو ان کی ریاست اور ملک کے خلاف ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس سے شہریوں میں ذہنی خلفشار احساس عدم تحفظ پیدا کیا جاتا ہے۔تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ نفسیات کی ایسی جنگ ہے جس میں دشمن اپنی طاقت کے تمام تر ممکنہ ذرائع استعمال کرکے حملہ آور ہوتا ہے لیکن اپنی عسکری طاقت کا استعمال محدود رکھتا ہے۔

ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار فئیر آخر ہے کیا؟؟

اس جنگ میں دشمن تجارتی ثقافتی نظریاتی سفارتی میڈیا اور پروپیگنڈہ کو استعمال کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اور اس وقت پاکستان کو بلاشبہ ففتھ جنریشن وارفئیر کا سامنا ہے جس کا واضح ثبوت پاکستان کے ٹویٹر ہینڈل پر ابھرنے والا #CivilWarInPakistan یہ ٹرینڈ تھا۔

Pakistanis poke fun at Indian media's 'civil war' hyperbole, ministers ask Twitter to take action - World - DAWN.COM
اس حقیقت سے ہر گز انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کی جانب سے نشریاتی چینلز ، پرنٹ میڈیمز اور سوشل میڈیا سمیت ماس میڈیا کو ہتھیار بنا کر سیاسی و مذہبی فالٹ لائنوں کا استحصال کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ناپاک کوششوں میں ففتھ جنریشن وارفئیر کا استعمال ہورہا ہے ۔ جبکہ ففتھ جنریشن وارفئیر کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے اسے اکثر ایک بڑا چیلنج کہا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے بھی ففتھ جنریشن وارفئیر کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت سامنے لایا ہے جس کو دنیا نے بھی بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔جبکہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر نیا چیلنج مسلط کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک اور افواج پاکستان کو بدنام کرکے انتشار پھیلانا ہے۔

Army won't take internal security allowance due to situation caused by virus: ISPR DG - Pakistan - Dunya News
حالیہ ٹرینڈ نے پھر اس طرف توجہ مبذول کی ہے کہ جعلی خبروں اورپاکستان سے متعلق پروپیگنڈہ مہم کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ضرورت ہے۔

جعلی خبروں پر قابو پانے کے لیے سخت اور مربوط لائحہ عمل وقت کی ضرورت ہے۔

بھارت نے شرمندگی سے بچنے کی خاطر جھوٹی خبروں کا سہارا لینا شروع کردیا

دوسری جانب لاہور جیسے حالات میں ، جن میں ریئل ٹائم ٹویٹس ، ہیش ٹیگ اور واٹس ایپ پیغامات استعمال کیے گئے تھے ، حکومت کو مجرموں کی شناخت کیلئے جلد اور بروقت عمل کرنے کی اہلیت ، چاہے وہ مقامی ہو یا بیرون ملک اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعہ اس طرح کے پروپگینڈے کو روکا جائے
یہ بات بلکل واضح ہے کہ اس جنگ کا مقابلہ اکیلی ریاست یا افوج نہیں کرسکتیں اس کے لیے عوام کی حمایت کی بھی بہت ضرورت ہے پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی یہ چیلنج کو اب بہت سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

Indian media ridiculed widely for outlandish stories about 'civil war' in Karachi
ففتھ جنریشن وارفئیر میں پاکستان کے خلاف جعلی خبروں کی روک تھام میں ایک بہت بڑا چیلینج ہے جس کے لیے کچھ سخت اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ پاکستانی صارفین سے بھی گزارش ہے کہ تصدیق کیے بغیر کسی بھی طرح کے مواد پر بھروسہ نہ کریں ، نہ ہی شئیر کریں۔

ففتھ جنریشن وارفئیر پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے لیے تحمل بردباری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *