india co 808x454

بھارت: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا

54 views

بھارت میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

غانیہ نورین

بھارت میں ایک طرف ویسٹ بنگال میں انتخابی مہم کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہے تو دوسری طرف مذہبی تہوار کمبھ میلے میں شریک سینکڑوں ہندو عقیدت مندوں کی تعداد نے کورونا وباء کی گرفت کو ملک میں مضبوط کردیا ہے۔

روزانہ کی تعداد میں لاکھوں کی تعداد میں جان لیوا وائرس کے مثبت کیسز نے مودی سرکار کی ناکام کورونا پالیسی کے ساتھ ساتھ بھارت واسیوں کی لاپرواہی سب کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بڑے بڑے دعوے کرنا والا نام نہاد سیکولر ملک بھارت عالمی وباء کے آگے بے بس دکھائی دے رہا ہے، نیوزی لینڈ اور  پاکستان کے بعد برطانوی حکومت نے بھارتی مسافروں پر پابندی عائد کردی ہے۔

COVID-19 second wave: An unimaginable tragedy confronts India | Op-eds – Gulf News

بھارت میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے 2،95،041 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

بھارت میں کورونا کے ریکارڈ کیسز کا سلسلہ تھم نہ سکا

منگل کو کووڈ انفیکشن کی وجہ سے مجموعی طور پر 2023 افراد ہلاک ہوئے۔ پہلی بار 2000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ لگاتار ساتواں دن ہے جب کورونا کے نئے کیس دو لاکھ سے اوپر آئے ہیں۔ اب تک انڈیا میں کورونا انفیکشن سے مرنے والے افراد کی تعداد 1،82،553 ہوگئی ہے۔

اب تک بھارت میں 1.56 کروڑ افراد اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور برازیل سے آگے ہے۔ انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق اس وقت 21 لاکھ 57 ہزار 538 کورونا کے ایکٹو کیسز ہیں۔

As COVID cases surge in India, what next for the economy? | Business and  Economy News | Al Jazeera

کورونا وائرس کے لاتعداد کیسز کے باعث اسپتالوں میں آکسیجن اور بستروں کی کمی کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے، منگل کی رات دہلی میں کووڈ مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں میڈیکل آکسیجن کی فراہمی کچھ گھنٹوں کے لیے روک دی گئی۔

مزید پڑھیں: بھارت: کورونا کے سائے تلے کمبھ میلہ،دو لاکھ سے زائد کیسز

دہلی کے وزیر اعلی نے ٹویٹ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر آکسیجن کی فراہمی فوری طور پر نہ کی گئی تو تباہ کن صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کی صبح دہلی کے بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں میڈیکل آکسیجن فراہم کردی گئی ہے۔

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے منگل کی شب ٹویٹ کیا تھا کہ جی ٹی بی اسپتال میں آکسیجن چار گھنٹے سے زیادہ نہیں چل پائے گی جبکہ کوویڈ کے 500 سے زیادہ مریض آکسیجن پر ہیں۔

منگل کے روز انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کے جذبے کو سراہا کہ ’قوم نے وبا کا تحمل سے مقابلہ کیا۔ تاہم انہوں نے ملک گیر لاک ڈاؤن کو خارج از امکان قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حکومت ایک سال سے کوشش کر رہی ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جائے۔

بھارت میں جہاں عام انسان جان لیوا وائرس کا شکار ہورہے ہیں وہیں بڑی تعداد میں شوبز اور سیاسی شخصیات بھی عالمی وباء کی گرفت میں آچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: دنیا میں کورونا وائرس سے متاثر ہر 6 میں ایک بھارتی مریض

بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی بھی کورونا کا شکار ہوگئے جس پر انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے جب کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

Manmohan Singh may head panel to assist Rahul Gandhi

دونوں کانگریس رہنماؤں من موہن سنگھ اور راہول گاندھی نے حال ہی میں پارٹی میٹنگ میں شرکت کی تھی اور تین ریاستوں میں جاری انتخابی مہم میں بھی شریک رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر راہول گاندھی نے کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی۔

کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی ان دنوں کیرالہ، آسام اور مغربی بنگال میں جاری الیکشن میں کافی متحرک تھے اور ان ریاستوں میں انتخابی جلسوں، ریلیوں میں بھرپور شرکت کی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس : نیوزی لینڈ کا بھارت کے خلاف بڑا اقدام

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سابق انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کے کورونا میں مبتلا ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کی دعا کی ہے۔

منگل کو اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ ’سابق انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کی کورونا سے جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

خیال رہے کہ بھارت کی تین ریاستوں میں الیکشن اور کمبھ میلے میں لاکھوں افراد بغیر احتیاطی تدابیر کے حصہ لے رہے ہیں جس کے باعث یومیہ کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

Source: BBC
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *