خاقان عباسی صاحب پوری قوم منتظر آپ کب جوتا اٹھاکر مارینگے

خاقان عباسی صاحب پوری قوم منتظر آپ کب جوتا اٹھاکر مارینگے

170 views

میں صرف اللہ تعالی کی ذات سے معافی مانگتاہوں، اس کے علاوہ کسی اور سے معافی نہیں مانگوں گا۔ شاہد خاقان عباسی۔

فہمیدہ یوسفی

پاکستانی سیاستدانوں کے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے کے واقعات ایکدوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بیانات اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں ایوان کی کاروائیاں روکنا اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤکرنا ٹی وی شوز میں چیخ چیخ کر لڑنا کونسے نئے اور انوکھے واقعات ہیں۔ کہنے کو جمہوری روایتوں کے پاسدار ہمارے سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویے اور حساس معاملات پر انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ یہ ثابت کررہا ہے کہ ہمارے سیاستدان پاکستان کے اندرونی بیرونی خطرات کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں۔

گذشتہ چند روز میں پاکستان بھر میں کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج تصادم اور اس کے بعد مذہبی جماعتوں کے ردعمل کے باعث نہ صرف وزیر اعظم پاکستان کو قوم سے خطاب کرنا پڑگیا بلکہ قومی اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کرنا پڑگیا ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے معزز قومی اسمبلی کے ممبران فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق معاملے کو سنجیدگی اور معاملہ فہمی سے دیکھتے لیکن توقعات کے عین مطابق وہاں سے آنے والی خبریں جو تمام ٹی وی اسکرینز پر بریکنگ کے طور پر دکھائی گئیں وہ یہ نہیں تھیں کہ قومی اسمبلی نے مشترکہ طور پرفرانسسیسی سفیر کے ملک بدری سے متعلق معاملہ افہام اور تفہیم سے حل کرلیا بلکہ خبر یہ تھی۔

Abbasi's missive laments lack of production orders for MPs

قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں جب حکومت نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کی اور اس حوالے سے خصوصی کمیٹی بنانے کی درخواست کی جس پر وہاں موجود اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

اسی دوران شاہدخاقان عباسی اور اسپیکر کے درمیان شدید تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کوجوتاماروں گا ۔

خاقان عباسی کے منہ سے یہ نکلنا تھا تمام نظریں اصل ایشو کو بھول بھال کر اس جوتے مارنے دھمکی پر ٹک کر رہ گئیں۔ اور ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وفاقی حکومت کے وزرا اس معاملے پر اپنا ردعمل نہ دیتے اور جس طرض کا طرز تخاطب ایکدوسرے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس کی مثال تو بس پاکستانی پارلیمنٹرین کا وطیرہ ہے ۔

فیصل واڈا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کسی کے باپ کو گالی، کبھی کسی کو جوتا مارنے کی دھمکی، شاہد خاقان عباسی پھدکنا چھوڑ ، کرکےدکھا ،وہ سلوک کریں گے کہ تیری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔

باقی وزرا کے ردعمل بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہیں جو ملک میں عروج پر پہنچی سیاسی تلخی کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم لیگ ن کے سینیر رہنما اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم اپنے نامناسب رویے پر اسپیکر سے معافی مانگ کر آگے بڑھ جاتے تاہم آثار بتارہے ہیں کہ اس معاملے میں ابھی مزید سیاسی رنگ بازیاں اصل ایشو کو کہیں پیچھے ہی چھوڑ دینگی۔

اب خبروں لے مطابق سپیکر اسد قیصر نے شاہد خاقان عباسی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیاہے جس میں کہا گیاہے کہ شاہدخاقان عباسی نے اپنے طرز عمل سے ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کیا ، ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال کر سپیکر کے منصب کا تمسخر اڑایا ، شاہد خاقان عباسی سات روز کے اندر معذرت اور اپنی پوزیشن کو واضح کریں ۔

Imageشاہد خاقان عباسی نے یہ اعتراف تو کرلیا ہے کہ ان کا رویہ غلط تھا لیکن ساتھ ہی یہ واضح کردیا ہے کہ وہ سوائے اللہ کے کسی اور سے معافی نہیں مانگیں گے انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ میں صرف اللہ تعالی کی ذات سے معافی مانگتاہوں، اس کے علاوہ کسی اور سے معافی نہیں مانگوں گا
عدم برداشت تحمل میں کمی اور عدم رواداری کایہ رویہ دراصل ہمارے سیاستدانوں کا نہیں بلکہ ہمارا قومی مزاج ہے۔

جب رہاست کے اعلی ایوانوں میں عدم برداشت الزام تراشیاں دیگر منفی رویے تیزی سے پنپ رہے ہیں تو پھر سڑک پر ایک دوسرے کو جوتے مارنا بھی غلط نہیں ہے۔

شاہد خاقان عباسی صاحب آپ جیسے سینیر اور سنجیدہ سیاستدان سے اس قسم کے رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی امید کی جارہی تھی کہ آپ اپنے رویے پر نظر ثانی کرلینگے لیکن بات تو آپ کی بھی کہاں غلط آپ نے بھی تو صرف جوتا اٹھاکر مارنے کی بات کی تھی کونسا اٹھاکر ماردیا۔

Image

عوام کا کیا ہے اس کو تو در در ٹھوکریں اور جوتے کھانے کی عادت ہے چاہے وہ مہنگائی کی صورت میں ہو ناانصافی کی صورت میں ہو ۔

لیکن شاہد خاقان عباسی صاحب یہ قوم منتظر ہے کہ اب ایکدوسرے کو دھمکیاں مت دیں بلکہ جوتا اٹھاکر ماردیں نظریں ٹی وی اسکرین پر ٹکی ہیں کہ کب یہ بریکنگ نیوز چلیگی کیونکہ اس سے بڑی خبر اس ملک کے لیے ہو بھی کیا سکتی ہے جہاں ملک کے نمائیندہ افراد ایکدوسرے کو اب جوتے مارنے کی باتیں کرنے لگے  ہیں۔

ویسے بھی جوتا مارنا ہی اصل جمہوری روایت ہے جس کے آپ سمیت باقی سب بھی امین ہیں تو بس پھر بسم اللہ کریں اور اٹھا کر ماردیں جوتا ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *