forest1 808x454

جنگلات کے تحفظ کا منصوبہ ،ریڈ پلس۔۔۔اب ہر درخت سرمایہ ہے

107 views

کلائمیٹ چینج یا موسمیاتی تبدیلیاں اب اتنی واضح ہوچکی ہیں کہ ان سے انکار کرنے والوں کے پاس اب سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہیں رہا۔ پاکستان اگرچہ گرین ہاﺅس گیسیں پیدا کرنے والے ممالک میں بہت نیچے کے نمبروں پر موجود ہے لیکن گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق خطرات سے دوچار ممالک میں اس کا نمبرآٹھواں ہے۔

تحریر : شبینہ فراز
ترتیب و تدوین: غانیہ نورین 

پاکستان جیسی کم زور معیشت کا حامل ملک اپنے متنوع جغرافیے کے باعث کلائمیٹ چینج کے مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے۔ پہاڑوں میں گلیشئر کا پگھلاﺅ، مسلسل سیلاب، بے موسم اور کم وقت میں تیز بارشیں،سمندر کی سطح میں اضافہ اور صحراﺅں میں خشک سالی اب معمول بنتی جارہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ان تما م مسائل کی جڑ کہیں نہ کہیں جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے بھی وابستہ ہے۔

اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ تجزیہ حقیقی نظر آتا ہے۔اس کی چند مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے ”شان دار“ فیصلوں کے باعث باغات کا شہرلاہور درختوں سے خالی ہوکر ” اسموگ ٹریپ “ ،کراچی ” ہیٹ ٹریپ“ اور” اسلام آباد ” پلوشن ٹریپ“بنتا جارہا ہے۔ لیکن حالیہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے اپنے گرین ایجنڈے کے تحت بلین ٹری ایفارسٹیشن  اور اب ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں سے ملک بھرمیں جنگلات اور شجرکاری کے حوالے سے نہ صرف صورت حال کو بہتر بنایا ہے بلکہ عام آدمی کو بھی ان منصوبوں میں شریک کردیا ہے۔

Climate change and environmental degradation | Knowledge for policy

یاد رہے کہ کسی بھی ملک کی خوش حالی اور استحکام کا اندازہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سے نہیں بلکہ اس کے قدرتی وسائل سے لگایا جاتا ہے۔ یہ جنگلاتی وسائل ہی ہیں جو معیشت کی مضبوطی، دریاﺅں میں پانی کی روانی اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: لینڈ مافیا نے سمندر کو بھی نہیں چھوڑا : مینگرووز خطرے میں

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ IPCCکے مطابق بھی کسی ملکی معیشت اور ماحول کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہاں 25 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہوں جبکہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں جننگلات کل رقبے کاصرف5.7 فیصد ہے یعنی4.78 ملین ہیکٹر رقبے پر جنگلات موجود ہیں۔

دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی اور ان کا غیر مستحکم نظام پیدا ہونے والے کاربن کی11 فیصد آلودگی کا سبب ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان مضر گیسوں اور ان سے بڑھنے والے درجہ ءحرارت میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے محدود کرنے کی عالمی کوششیں اس وقت تک بارآور نہیں ہوسکتیں جب تک جنگلات کے وسائل کو محفوظ نہ کرلیا جائے۔

Colombian Youth Sue for Recognition of the Rights of Future Generations

دنیا بھر اور خصوصا ترقی پزیر ممالک میں مقامی لوگوں کو جنگلات کے تحفظ اور انتظامی معاملات میں شامل کرنے کے لیے عالمی سطح پر بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں سر فہرست ریڈ پلس (REDD+)منصوبہ ہے۔

اقوام متحدہ کےذیلی کنونشن

 United Nations Framework Convention on Climate Change (UNFCCC)  نے جنگلات کی کٹائی اور ان کے عدم استحکام کو روکنے کے لیے  Reducing emissions from deforestation and forest degradation (REDD+)  نامی ایک طریقہ ءکارمتعارف کروایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا صاف ہوا پر بھی کراچی والوں کا حق نہیں

اس طریقہ ءکارکے تحت پہلی بار جنگلات کے وسائل کی مالی حیثیت کوپرکھا گیا ہے مثلا درختوں میں ذخیرہ ہونے والی کاربن کا مالیاتی تخمینہ لگایا گیا تاکہ درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے ترقی پزیر ممالک کو اس کاربن کے برابرایسی مالی ترغیبات دی جاسکیں کہ وہ قدرتی جنگلات کے تحفظ اور کٹائ کو کم کر سکیں۔

ریڈ پلس ( REDD +)صرف جنگلات کی کٹائی یا ان کی تنزلی تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ، پائیدار بنیادوں پر جنگلات کا انتظام اور جنگلات کا بطور کاربن ذخیرہ گاہ میں اضافے جیسے طریقہ ءکارکا بھی احاطہ کرتا ہے۔

REDD+ (Reducing Emissions from Deforestation and Forest Degradation)

پاکستان میں  ریڈ پلس میں شمولیت اور عمل درآمد کے لیے2015 سےFCPF کے مالی تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے کے تحت ریڈ پلس کے ابتدائی  مرحلے کی سرگرمیاں مکمل کی گئیں ہیں ۔جس میں  قومی سطح ، ریڈ کی حکمت عملی، جنگلات کا مانیٹرنگ سسٹم ، گیسوں کے اخراج کا تخمینہ ، سیف گارڈ انفارمیشن سسٹم، مشاورت اور ابلاغ شامل تھا۔

اس منصوبے کے تحت قومی سطح پر ریڈپلس کے آفس کا قیام بھی عمل میں آیا جو کینکن معاہدے ، وارسا فریم ورک اور پیرس معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت پاکستان کے وعدوں اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے ملک میں تحفظ جنگلات کے عمل کویقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ریڈ پلس کے قومی آفس کا بنیادی مقصد پاکستان میں ریڈ پلس کے حوالے سے معلومات اور تیاری اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ معاشرتی ، ماحولیاتی ، اور تکنیکی طور پر مستحکم قومی ریڈ پلس حکمت عملی کے ذریعے جنگلات کے شعبے میں گرین ہاﺅس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے پاکستان میں کام کیا جاسکے ۔

ہر درخت قیمتی ہے !

 عالمی سطح پر ریڈ پلس کے قیام کے بعد یہ سمجھ لیجیے کہ اب ہر درخت قیمتی ہے ، یہ ایک ایسا ٹینک ہے جو آلودہ فضا سے کاربن کو اپنے اندرذخیرہ کرلیتا ہے۔

ہر درخت کے ذریعے چونکہ فضا سے ایک مخصوص مقدار میں کاربن کو کم کرلیا جاتا ہے لہذا اس کے بدلے جنگل کے مالک کومالی رقم فراہم کی جائے گی ۔ بشرطیکہ اس کو کاٹنے سے محفوظ رکھا جاۓ۔ اب بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر درخت قیمتی اور نقد آور ہے۔

درختوں کی اہمیت !

زمین پر زندگی کے تمام رنگ قدرتی وسائل کے مرہون منت ہیں۔ مالامال سمندر ،دریا، دنیا کے بلند پہاڑ ان کے دامن میں جھومتے بارشوں کو کھینچتے سیکڑوں سال قدیم درخت، زرخیز مٹی کے میدان، سرسبز کھیت کھلیان اور رنگ برنگا حیاتی تنوع ہی ہماری اصل دولت ہے۔ انسان دراصل دو گھروں کا مکین ہے، ایک اس کا ذاتی گھر اور دوسرا کرہءارض۔ ہمیں دونوں گھروں کا یکساں تحفظ کرنا ہے، لیکن ہم نے اپنی عاقبت نااندیشی سے اپنے ان دونوں گھروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مزید پڑھیں :  فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج

 زمینی وسائل کے استعمال اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو ہرے بھرے مناظر کو صحراﺅں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لیے ایک عام سے وسائل ہیں، لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔ یہی موسموں کے جن کو قابو میں رکھتے ہیں۔ جنگلات کو اگر ماحول کا نگہبان کہیں تو غلط نہ ہوگا۔

Role of forests in the water cycle.... | Download Scientific Diagramیہ بڑے پیمانے پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں،آکسیجن فراہم کرتے ہیں، درجہءحرارت اور بارش کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ان کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ بے شمار جانور اور پرندوں کے لیے فطری مساکن اور لاکھوں افراد کے لیے وطن کا کام کرتے ہیں۔

Planet Surface - an overview | ScienceDirect Topics

نباتات اور حیوانات کی یہ رنگارنگی خوراک کی زبردست دولت اور انسانی صحت کے لیے بیش بہا ادویات فراہم کرتی ہے۔ جنگلات سے ایندھن اور تعمیرات کے لیے لکڑی، حیوانات کے لیے چارا، پھل، شہد، پروٹین ، دواﺅں کے عرق اور دوسری بہت سی خام اشیا مثلاً گوند ، موم اور سریش وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ جنگلات کروڑوں مویشیوں، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے لیے چارے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران 

ملک کے بڑے بڑے آب گیر علاقوں (واٹر شیڈز) میں اگنے والا یہ حفاظتی پردہ نہ صرف ماحولیاتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے بلکہ مٹی کو اپنی جگہ قائم رکھ کر سیلابوں کے مقابلے میں رکاوٹ کا کام بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی بے خوفی سے جاری ہے۔ حتی کہ برازیل کے قدیم جنگلات کا ایک تہائی حصہ صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے ۔ سائنس دانوں کے مطابق ان بارانی جنگلات کے رقبے میں کمی سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے اور جنگل میں لگنے والی آگ کی شرح بھی بڑھی ہے۔ برازیل کے علاقے میں واقع امیزون جنگل کی خلائی سیارے کی مدد سے لی گئی تصاویر اور جائزوں سے دنیا کے ان گھنے ترین بارانی جنگلات کی تباہی آسانی سے نظر آجاتی ہے۔

پاکستان میں جنگلاتی رقبہ

 پاکستان میں بھی جنگلات کے حوالے سے کوئی تسلی بخش صورت حال نظر نہیں آتی ۔وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ریڈ پلس پاکستان کی حالیہ جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ Forest Reference Emission Level  کے مطابق پاکستان میں قدرتی جنگلاتی رقبہ 5.45 سے5.67    فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس جنگلاتی رقبے میں باغات اور زرعی زمینوں پر موجود درخت شامل نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طوفانی بارشوں کو ہفتوں گزرگئے،نیاناظم آباد کے اب بھی درد ناک مناظر

 اسی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اعدادو شمار بہت کم دستیاب ہیں لیکن اس کے باوجود2004سے2012 کے درمیان جنگلات کی کٹائی کا تخمینہ سالانہ 11,000ہیکٹرز تھا۔

Classification of Forests and Forest Types of Pakistan (Detailed Note)

جنگلات کی بحالی اور ان کے انتظام میں مقامی لوگوں کی شرکت اور درختوں کو بچانے کے عوض مالی ترغیبات کے لیے ریڈ پلس اور اس جیسے دیگرپروگرام بلاشبہ قابل تعریف ہیں مگر ضروری ہے کہ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات عام لوگوں تک پہنچائی جایے تاکہ آنے والے سالوں میں ہمیں اس حوالے سے مثبت فرق نظر آئے۔

Source:Express News

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *