کیا یتیم کو صرف کفالت کی ضرورت ہے ۔۔؟؟

کیا یتیم کو صرف کفالت کی ضرورت ہے ۔۔؟؟

230 views

ان کی دعا نہیں باپ کی شفقت کا سایہ نہیں
میرے مقدر میں ماں باپ کا پیار تو آیا نہیں
میرے حال سے کسی کو ہے نہ کوئی بھی واسطہ
مجھے تو مدتوں سے کسی نے بیٹا کہ کر بلایا نہیں

کہتے ہیں کہ جب تک باپ زندہ ہو تو سورج کی تپش بھی محسوس نہیں ہوتی باپ کی ذات اولاد کے سر پر ایسا سایہ ہے جو کڑی دھوپ میں بھی آنچ نہیں آنے دیتا اور جب یہ سایہ سروں سے آٹھ جاتا ہے تو وہ نظریں جو کبھی اٹھتی نہیں تھیں چھبنے لگتیں ہیں ،جب بھی لفظ یتیم سننے کو ملتا ہے تو باپ کے نا ہونے کا غم کیسے تازاہ ہوجاتا ہوگا اس بات کا اندازا ہم اور آپ چاہ کر بھی نہیں لگا سکتے،

فہمیدہ یوسیفی/صبحین عماد

جب جب کھلونوں کی دکان سے گزر ہو تو ایک ہی خیال آتا ہے کہ آج بھی بچے ماں سے بات نہ منوا سکیں تو باپ سے منوا کر اپنی من مرضی کھلونا بھی لے لیتے ہیں لیکن ان لاکھوں بچوں کے دل کیسے اتنے مظبوط ہوجاتے ہیں وہ کیسے ایک دم اتنے بڑے ہوجتے ہیں کہ کھلونے کی دکان سے گزریں تو نظتیں جھکا لیتے ہین سوال نہیں کرتے کوئی ضد بھی نہیں کرتے کیونکہ شاید وہ یہ جان جاتے ہین کہ ان کی ضدیں پوری کرنے والا دنیا کے سامنے ہاتھ تھام کر چلنے والا اب نہیں رہا کیونکہ ناگہانی آفات، بدامنی کے خلاف جنگ، صحت عامہ کی سہولیات کی کمی اور روزمرہ حادثات کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، وہیں لاکھوں بچے بھی اپنے خاندان کے کفیل سے محروم ہوکر معاشرے کے یتیم ٹھہرتے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال پندرہ رمضان المبارک کو یتیموں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک میں بے شمار ادارے ہیں جو یتیموں کی کفالت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ۔ لیکن اس سال چونکہ پوری دنیا پر ایک مہلک وائرس سے پھیلنے والی عالمی وباء کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ اس لیے خیراتی اداروں اور مخیر حضرات کی زیادہ تر توجہ کرونا وائرس اور اس سے متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے۔ جو کہ درست اور وقت کی ضرورت ہے۔

لیکن ایسے میں یتیموں کی خبر گیری رکھنے والے اور ان کا آسرا بننے والےالخدمت فاونڈیشن نے کراچی میں اپنےیتیم بچوں کے اس دن کو منانے کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا ۔اس پروگرام کا مقصد یتیم بچوں اور ان کی ماوں کی دل جوئی کرنا ہے

اسی سلسلے میں راوا سے بات کرتے ہوئے اس پروگرام کی انچارج آمنہ ملک کا کہنا ہے کہ ہر سال ہم یہ پروگرام کرتے ہیں اور جو مائیں اور بچے ہمارے پاس رجسٹر ہیں ان کو اس تقریب میں بلایا جاتا ہے اور ان کو تحائف دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو اپنوں کا احساس رہے جبکہ ان کی خودداری کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس سال بھی ہم نے اپنے رجسٹرڈ ماوں اور بچوں میں سے تقریبا چالیس سے پچاس فیمیلز کو بلایا ہے لیکن کووڈ کی وجہ سے زیادہ بچوں کو نہیں بلا سکے ۔


وہاں موجود ایک خاتون نے راوا سے بات کرتے ہونے بتایا کہ وہ دو تین سالوں سے آرہی ہیں اور یہاں آکر بہت اچھا لگتا ہے وہاں موجود ایک اور خٓاتون سے راوا نے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ الخدمت فاونڈیشن کی جانب سے ہر طرح سے بچوں کی مدد کی جاتی ہے اور بچوں کو گفٹ ملتے ہیں اور بچے خوش ہوتے ہیں۔اورنگی ٹاون سے موجود اس تقریب میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ تیرہ سال ہوگئے میرے شوہر کا انتقال ہوئے گزارہ محنت مزدوری کرکے کرتے ہیں،وہاں موجود بچوں نے بتایا ہمیں اپنے تحفوں کی خوشی ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 50 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں، جن کی عمریں 17 سال سے کم ہیں اور ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت، صحت اور خوراک کی مناسب سہولیات میسر نہیں۔ بدقسمتی سے روزبروز بگڑتی معاشی صورتحال، کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتیموں کے خاندان کےلیے اُس کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہیں، بلکہ کئی تو بے راہ روی تک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث ان کی تعلیم و تربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

تعلیم، صحت، خوراک اور ذہنی و جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی ضرویات سے محرومی تو اِن بچوں کا مقدر ٹھہرتا ہی ہے، لیکن اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان بچوں کو کتابیں پکڑنے کے بجائے اوزار اٹھانے پڑتے ہیں، چائلڈ لیبر کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میں معاشرے میں چھپے مسخ چہرے انہی بچوں کو منشیات، گداگری، اسمگلنگ اور جنسی زیادتی جیسے گھنائونے جرائم میں استعمال کرتے ہیں۔ ۔ جو بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں، ان کےلیے بچوں کے اخراجات مکمل کرنا بھی کبھی مشکل تو کبھی ناممکن ہوجاتا ہے اسی سلسلے میں الخدمت 14 ہزار بچوں کی کفالت کرتا ہے اور ہر سال 15 رمضان المبارک کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر مناتا ہے
آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے، اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ محرومیاں اس بچے کے مستقبل پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ، جو ملک و قوم کا وارث بننے جارہا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نوازیں۔ اگر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ اپنے معاشرے کےلیے مفید شہری ثابت ہونے کے بجائے خطرہ بن جائے گا۔
یتامیٰ کی کفالت کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمے داری نہیں، بلکہ معاشرے اور قوم اور حکومت کی اجتماعی ذمے داری ہے۔ ہر بچے میں خداداد صلاحیتیں ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس یتیم بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ ایک مفید شہری کے طور پر ملک و قوم کی خدمت کرسکے۔

لوگ بڑے شوق سے مناتے ہیں اپنے گھروں میں خوشیاں
میں نے تو مدتوں سے کبھی عید کا جشن بھی منایا نہیں

content: Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *