بھارت جیسے حالات سے بچنے کیلئے پاکستان کے کیا اقدامات ہیں؟؟

بھارت جیسے حالات سے بچنے کیلئے پاکستان کے کیا اقدامات ہیں؟؟

30 views

بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر قہر ثابت ہورہی ہے جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے پر پاکستان میں بھی یہ حالات ہوسکتے ہیں۔

غانیہ نورین

بھارت میں عالمی وبا نے خوفناک شکل اختیار کرلی ہے، بھارتی حکومت کی ناقاص کورونا پالیسی اور عوام کی جانب سے مستقل ماسک نہ پہننے اور سماجی فاصلہ نہ رکھنے پر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں مثب کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ ساتھ ہی اسپتال میں آکسیجن کی قلت کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

جس کے بعد پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے باعث حالات بگڑنے کے خطرات بڑھ چکے ہیں، وزیراعظم عمران خان بھی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو انڈیا جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر آکسیجن کی بھیک مانگتی عوام

پاکستان میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کی صورتحال سب کے سامنے ہیں جہاں عوام کی جانب سے احتیاط برتنے پر بھی نجی و سرکاری اسپتالوں کو مصنوعی آکسیجن، وینٹی لیٹرز ، بستروں سمیت دیگر طبی آلات کا شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اس دوران وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی بھی اپنائی گئی تھی۔

اس وقت پاکستان کورونا وائرس کی تیسری لہر کی گرفت میں جہاں یہ عالمی وباء اپنی پوری طاقت کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد سے اپریل 2021 میں سب سے زیادہ نئے مریض اور اموات دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس سے قبل جون 2020 وہ مہینہ جب ملک میں کیسز اور اموات کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

بی بی سی مطابق اپریل کے مہینے میں اب تک ایک لاکھ 42 ہزار 780 افراد متاثر ہو چکے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ برس جون میں ایک لاکھ 41 ہزار تھی۔

اسی طرح رواں ماہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3150 رہی جبکہ جون 2020 میں یہ تعداد 2852 تھی۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: پاکستان میں پہلی مرتبہ یومیہ ہلاکتیں 200 سے تجاوز

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مارچ کے وسط سے خاصی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے بعد سے حکومت کی جانب سے متعدد پابندیوں کا نفاذ بھی کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ رواں ماہ سب سے زیادہ افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے اور ان کی کل تعداد ایک لاکھ تین ہزار سے زیادہ ہے۔ تاہم گذشتہ برس جون کے مہینے کے دوران مثبت کیسز کی شرح 18 اعشاریہ نو تھی جو اپریل 2021 نو اعشاریہ چھ رہی۔

دوسری جانب ملک میں رمضان المبارک کے باعث عوام کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جارہی ہے، بازاروں ، مارکیٹوں میں لوگوں کا جم غفیر دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ پاک افواج کے اہلکار بھی سڑکوں پر موجود پاکستانی عوام کو کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے تعینات ہیں۔

ملکی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ایسے کونسے اقدامات کر رہا ہے کہ انڈیا جیسی صورتحال سے بچا رہے ؟؟

آکسیجن کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے غیر ملکی میڈیا کو ملک میں آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بناتے ہوئے بتایا کہ س وقت حکومت پانچ طرح کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملک میں آکسیجن کی قلت نہ پیدا ہو۔

آکسیجن کا استعمال اس طرح کیا جا رہا ہے کہ غیر ضروری طور پر اس کا ضیاع نہ ہو۔

مقامی پیداوار کو فوری طور پر 30 میٹرک ٹن تک بڑھایا جا رہا ہے۔

وزارت صنعت اضافی آکسیجن سیلنڈر اور آکسیجن کونسنٹریٹر کی درآمد کر رہی ہے۔

ہنگامی پلان بنایا جا رہا ہے کہ تاکہ صنعت سے آکسیجن کو صحت کی سہولیات کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

چین اور ایران کے ساتھ اضافی مقدار کی درآمد کے لیے بھی مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

وینٹی لیٹرز کے لیے اقدامات

سندھ میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جان لیوا ثابت ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے کئی اضلاع کے سرکاری اسپتال آئی سی یو اور وینٹی لیٹر کی سہولت سے محروم ہیں۔

مگر حال ہی میں اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایٹمى ‏توانائی کمیشن کےسائنسدانوں نے پہلا آئى سى یو وینٹى لیٹر تیارکرلیا ہے، ڈریپ نے اس وینٹى لیٹر ‏کےاستعمال اور تیاری کی با قاعدہ منظوری دے دی ہے۔

Pakistan to start manufacturing ventilators within weeks – science minister  | Arab News PK

ترجمان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق وینٹى لیٹر سائنسدانوں،انجینئرز نےمقامى وسائل سےتیار ‏کیا ہے، یہ وینٹی لیٹر پاکستان انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر اور پاکستان انجینئرنگ کونسل ‏کےمعیارات پر بھى پورا اترا ہے۔

مزید پڑھیں: سرکاری و نجی اسپتالوں کے ناکارہ وینٹی لیٹرز کو کارآمد بنانے کا فیصلہ

اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ مقامی طور پر تیار کردہ وینٹی لیٹر مشین پر جناح ‏اسپتال لاہور میں بھى جانچ کى گئى، جانچ میں کئی ماہرین ،بائیوٹیکنالوجی ،بائیو میڈیکل انجینئرز ‏شامل تھے، مکمل جانچ کے بعد تمام ماہرین نے اس کو کامیاب قرار ديا۔

اس تاریخی کامیابی پر پاکستان ایٹمى توانائی کمیشن کے چیئرمین محمد نعیم نے سائنسدانوں اور ‏انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔

ویکسین سے متعلق کیا اقدامات ہیں؟؟

دوسری جانب ملک میں ویکسینیشن کا عمل جاری مگر سست روی کا شکار ہے۔ اس وقت 40 اور اس سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔

ویکسی نیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ برائے صحت کے حکام نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ سے پاکستان میں کورونا ویکسین تیار کرنے کاآغاز ہوجائے گا۔

اس بارے میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے حکام کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے چینی ماہرین کی ٹیم بھی اسلام آباد میں موجود ہے اورکین سائنو ویکسین کا خام مال بھی مئی کے آغاز میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

مزیدپڑھیں: پہلی مرتبہ ایک لاکھ سے زیادہ افرادکی ویکسینیشن 

حکام کا کہنا ہے کہ چینی ماہرین کی معاونت سے این آئی ایچ میں کورونا ویکسین کی تیاری کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ پاکستان میں تیار ہونے والی کین سائینوسنگل ڈوزکورونا ویکسین مئی کے آخر تک استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔

Pakistan Government Criticized Over Private Imports Of COVID-19 Vaccines

پاکستان اس کورونا ویکسین کو چینی کمپنی کے تعاون سےتیارکرےگا، جس کے لیے خام مال چینی کمپنی فراہم کرےگی۔  جب کہ کین سائنو بائیو کے ماہرین کی جانب سے قومی ادارہ برائے صحت کے ماہرین کوویکسین  بنانے کی تربیت دینے کا عمل بھی جاری ہے۔

دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ  پاکستان کی جانب سے خریدی گئیں سائنو فارم کورونا ویکیسن کی مزید 10 لاکھ خوراکیں کل پاکستان پہنچ جائیں گی۔

خیال رہے کہ جس صورتحال کا اس وقت پاکستان کو سامنا ہے بالکل ایسی ہی صورتحال ایک ماہ پہلے انڈیا کو تھی، اگر رمضان کے آخری عشرے میں اور عید کے موقع پر بندشوں پر عملدرآمد کر لیا گیا تو اگلے ایک ماہ میں کیسز میں کمی آسکتی ہے، لیکن اس سب کا دار و مداد کورونا ایس و پیز پر عملدرآمد سے جڑا ہوا ہے۔

Source:Media Reports
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *