دلاں تیر بجا حلقہ این اے 249 پیپلز پارٹی کا بڑا اپ سیٹ

دلاں تیر بجا حلقہ این اے 249 پیپلز پارٹی کا بڑا اپ سیٹ

135 views

دھند ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے ، راستہ ہے کہ گم ہوتا چلا جارہا ہے ۔ سوال ہیں جو اٹھے چلے جارہے ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

40ڈگری کی گرمی میں بھی دھند، یاد رکھو! مسلم لیگ ن تمہیں یہ سیٹ نگلنے نہیں دے گی، ن لیگ اب اپنا حق لینا سیکھ چکی ہے۔ مریم نواز

بدعنوان پیپلز پارٹی اور صوبائی الیکشن کمیشن نے مل کر کھیل کھیلا۔ علی زیدی

آخر مریم نواز ایک بار پھر اتنے شدید غصے میں کیوں ہیں جبکہ وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی بھی سخت تلملائے ہوئے ہیں ۔ اس بار دونوں کے نشانے پر الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت ہے۔

کبھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قرابتوں کے چرچے تھے تو کہیں میل ملاقاتوں پر ہر نظر ٹہری ہوئی تھی ۔کہیں مریم نواز کراچی میں اور گڑھی خدا بخش میں بےنظیر کے گن کاتی نظر آتی تھیں تو کہیں بلاول ماضی کی سیاست کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا ؑعزم لیے مریم نواز کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ لیکن یہ کم بخت مصلحتیں اور سیا سی مفاہمتیں راہیں جدا کر ہی دیتی ہیں۔

پی ڈی ایم کو پہلا دھچکا جب لگا جب پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم اجلاس میں استعفی دینے سے انکار کردیا اور نواز شریف کوواپس آنے کا کہا۔ مریم نواز کی جذباتی گفتگو پورے میڈیا کی زینت بنی اور اندیشوں کو سچ ثابت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی راہیں آہستہ آہستہ جدا ہوگئیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور اب این اے 249 کے نتائج نے ایک بار پھر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں میں خلیج وسیع کردی ہے ۔

مزید پڑھیں:  حلقہ این اے 249 بلا شیر اور تیر آمنے سامنے کڑا مقابلہ

پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے مورچہ زن ہیں ۔ اس بار وجہ این اے 249 کے نتائج ہیں ، جس کے مطابق پی پی پی کے امیدوار محض کچھ ووٹوں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سے جیت گئے ہیں ۔

اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ حلقہ این اے 249 میں کیا ہوا ایک نظر ذرا وفاقی حکومت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی کراچی کی سیاست پر بھی ڈال لیتے ہیں

سال 2018 میں کراچی کی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی کی لہر اٹھی جس نے سیاسی ماہرین کو حیران کرکے رکھ دیا کہاں 2013 میں کراچی سے تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتی تھی اور کہاں سال 201814 ہو گئی ہیں اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں بڑھ کر 21 تک جا پہنچی لیکن شاید تبدیلی سرکار کراچی کی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط نہیں رکھ سکی اس کی وجوہات میں آپس کی مخالفتیں لوگوں کے مسائل پر عدم توجہ اور غیر سنجیدہ طرز سیاست ہے۔

حلقہ این اے 249میں ہر کمیونٹی کا اپنا ووٹ بینک ہے جبکہ اس حلقے کا سیاسی رجحان بھی تبدیل ہوتا رہا ہے اور سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ یہاں امیدواروں کے درمیان بہت کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ پچھلے الیکشن میں بھی فیصل واوڈا مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے محض 650 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے تھے۔

جبکہ اس ضمنی الیکشن حیرانک ن طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیلنے 16156 ووٹ حاصل لیے اور محض 683 ووٹ کے فرق سے کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل ل 15473 ووٹ لے سکے

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم اور بلاول بھٹو کی راہیں جدا

تاہم پاکستان تحریک انصاف کو اس حلقے سے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے امیدوار امجد اقبال آفریدی 8922 ووٹ حاصل کرکے پانچویں پوزیشن پر رہے۔ یہ نتیجہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس کی سیاسی ساکھ پر سوال ہے۔ اپنی چھوڑی ہوئی نشست پر شکست کھانے کے بعد تحریک انصاف پر کراچی میں عوامی غیر مقبولیت کا ٹھپہ لگ گیا ہے ۔ جبکہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی ایک اور ہار کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ شاید قت آگیا ہے کی تحریک انصاف اپنی غلطیوں پر نظرثانی کرے

اب ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ حلقہ این اے 249 کے ہونے والے ضمنی انتخابات پر

پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل 16،156 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مفتاح اسماعیل 15،473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

ٹی ایل پی کے نذیر احمد 11،125 ووٹوں کے ساتھ تیسرے، پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال 9 ہزار 227 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر، پی ٹی آئی کے امجد آفریدی 8،922 ووٹ لے کر پانچویں نمبر پر اور ایم کیو ایم کے حافظ محمد مرسلین 7،511 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر آئے۔

NA-249 by-poll: PML-N, PTI and others reject PPP's victory

ووٹنگ کے ختم ہونے کے بعد گنتی کے مرحلے میں رات گئے تک ن لیگ کا امیدوار مفتاح اسماعیل سب سے آگے تھے، جبکہ پیپلزپارٹی اور تحریک لبیک کے امیدوار اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔

آثار بتارہے تھے کہ یہ نشست نواز لیگ کی ہوجائیگی ، تاہم آخری غیر حتمی، غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کامیاب قرار پائے ہیں۔

اس نتیجے کے ردعمل میں مسلم لیگ ن نے این اے 249 کے نتیجے کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے اور مریم نواز کا کہنا ہے کہ این اے 249 میں مسلم لیگ (ن) سے الیکشن چوری کیا گیا ہے۔ یہاں بھی دھند پڑ رہی تھی کہ عملہ اتنی دیر سے پہنچا؟ کیا آپ نے ہمیں بے وقوف سمجھا ہے؟

وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے کہا کہ بدعنوان پیپلز پارٹی اور صوبائی الیکشن کمیشن نے مل کر کھیل کھیلا۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کی کہانی: استعفوں سے شروع ،استعفوں پر ختم

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما بھی این اے 249 کے نتائج سے مطمئن نظر نہیں آئے۔ عامر خان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ 2018 کے انتخابات کا تسلسل ہے۔

چیئرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈی آر او آفس میں ڈرامہ کیا گیا، پاک سر زمین پارٹی نتائج کو قبول نہیں کرے گی۔

دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 249 ضمنی انتخاب پر اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ہم کارروائی کریں گے اور قانون کے مطابق شکایت کی سماعت کی جائے گی۔

دیکھا جائے تو دھند ہے کہ بڑھتی جارہی ہے پاکستان میں جمہوری اور انتخابی ڈھانچے پر سوال اٹھتے چلے جارہے ہیں، بلکہ بے چینی اور بے یقینی بھی بڑھتی جارہی ہے

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کی دعویدار ہیں ان کو بھی سوچنا ہوگا کہ معاملہ ڈسکہ یا پھر بلدیہ کی نشست کو ہر حال میں جیتنے کا نہیں ہے بلکہ عوام کے اس کمزور پڑتے اعتماد کا ہے جو اس کو اس کمزور اور دھندلے نظام کا ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *