غزوہ بدر: حق و باطل کی پہلی جنگ اور 313 کا عظیم لشکر ۔۔

غزوہ بدر: حق و باطل کی پہلی جنگ اور 313 کا عظیم لشکر ۔۔

21 views

فضائے بدر کو ایک آپ بیتی یادہے اب تک
یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک

سنہ 3 ھجری 17 رمضان المبارک مقام بدر میں تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان یادگار دن ہے جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی ۔

صبحین عماد

جس میں کفار قریش کے طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیواؤں کو وہ ابدی طاقت اور رشکِ زمانہ غلبہ نصیب ہوا جس پر آج تک مسلمان فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ اِس کو غزوہ بدرِ عظمیٰ اور غزوہ بدرِ کبریٰ بھی کہتے ہیں۔ بدر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے قریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بستی بدر بن حارث سے منسوب ہے جس نے یہاں کنواں کھودا تھا یا بدر بن مخلد بن نصر بن کنانہ سے منسوب و مشہور ہے جس نے اِس جگہ پڑاو کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں‘ وہاں ایک بوڑھا شخص مدتوں سے رہتا تھا جس کا نام بدر تھا‘ اِس بنا پر اِس بستی کو اِسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

یہ بہت عظیم غزوہ تھا جس کے ذریعے دینِ اسلام کو چار چاند لگے۔ اِس غزوہ نے حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز کر دیا۔ اِس لئے اِس غزوہ کے دن کو ”یوم الفرقان“ بھی کہتے ہیں جیسا کہ قرآنِ مجید میں بیان ہے (الانفال۔41) ”اور اِس پر جو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر ”فیصلہ کے دن“ اُتارا جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں۔“

یعنی مسلمان مجاہدین اور کافر دہشت گرد اِس دن جمع ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ذِلّت آمیز شکستِ فاش سے مشرکین مکہ کو ذلیل وخوار کیا تھا ۔

حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے ہم راہ جب مدینہ ہجرت فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ منورہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔  ہجرت کے محض دو سال بعد ہی انہوں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور لوٹ مار کر کے فرار ہوگئے۔

اسی اثناء میں نبی کریم ﷺ کو قریش کے تجارتی قافلے کی خبر ملی جو شام سے واپس آ رہا تھا۔ آپؐ اپنے اصحابؓ کے ساتھ اس تجارتی قافلے کو تلاش کرنے نکلے، جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن قریش اس خبر کو سنتے ہی اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے امڈ پڑے اور یوں مسلمانوں پر جنگ مسلط کر دی گئی۔

تاریخی روایات کے مطابق مسلمانوں کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی اور ساز و سامان میں 60 اونٹ، 60 زرہیں اور چند تلواریں تھیں۔ جب کہ دشمن کی تعداد ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور وہ ہر طرح سے لیس تھے۔ اُن کے پاس 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے تھے۔ دنیاوی سازوسامان کی قلّت کے باوجود مسلمانوں نے ایک ہی دن میں معرکہ جیت لیا۔ کافروں کے نام ور70 سردار مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے۔

غزوۂ بدر وہ تاریخ ساز اور فیصلہ کن لڑائی تھی، جس میں ملّت اسلامیہ کی تقدیر اور دعوت حق کے مستقبل کا فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد آج تک مسلمانوں کو جتنی فتوحات نصیب ہوئیں وہ سب اسی ’’ فتح مبین‘‘ کی مرہونِ منت تھیں جو بدر کے میدان میں اس مٹھی بھر جماعت کو حاصل ہوئی۔

اﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں اسے ’’یوم الفرقان‘‘ حق و باطل میں فرق کا دن قرار دیا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح نے واضح کر دیا کہ اسلام حق ہے اور حق فتح یاب ہوتا ہے، کفر و شرک باطل ہے اور باطل مٹ جانے والا ہے۔ اس فیصلہ کن فتح نے اسلام اور مسلمانوں کو عرب میں ایک طاقت کے طور پر متعارف کروایا اور اس جنگ کے بہت ہی دُور رس اور دیرپا اثرات مرتب ہوئے، جنہوں نے اسلامی ریاست کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔

معرکہ بدر کے اثرات میں سے ایک امر مسلمانوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہونا ہے۔ وہ مسلمان جو تیرہ سال تک مکہ میں کفار کے ہر طرح کے ظلم کا سامنا کرتے رہے، ایمان لانے کے جرم میں جن کی زندگی اجیرن کر دی گئی، ان پر آبائی سرزمین تنگ کر دی گئی اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ ان حالات میں اہلِ مکہ کے خلاف ناصرف جنگ لڑنا بل کہ اس میں فتح یاب بھی ہونا مسلمانوں کے لیے خوشی، مسرت اور اعتماد کا وہ ذریعہ بنا جو اور کسی طریقے سے کبھی حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ اﷲ کی رحمت سے وقت نے یوں پلٹا کھایا کہ مظلوم مسلمان فاتح بنے اور جیت کے احساس کے ساتھ رب کے سامنے شُکرگزار ہوئے۔

ظاہری حالات کے مطابق مسلمانوں کی ناکامی یقینی تھی۔ محض تین سو تیرہ افراد، جن کے پاس ہتھیار بھی پورے نہیں تھے اور مقابلہ اس لشکرِ جرار سے تھا، جو سر سے پاؤں تک لوہے کے حفاظتی لباس میں ڈوبا ہوا تھا اور ان کے پاس ہتھیاروں اور گھوڑوں کی کوئی کمی نہ تھی، کھانے کے لیے ایک دن نوّے اور دوسرے دن سو اونٹ ذبح ہوتے تھے۔ ان حالات میں قرآن مجید کے مطابق یہ محض حق کی قوت تھی، جس نے مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کیا۔

مقام بدر میں لڑی جانے والی اس فیصلہ کن جنگ نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان نہ صرف ایک قوم بلکہ مضبوط اور طاقتور فوج رکھنے کے ساتھ بہترین نیزہ باز، گھڑ سوار اور دشمن کے وار کو ناکام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر اسلام کے فلسفہ جہاد نقطہ آغاز ہے، یہ وہ اولین معرکہ ہے جس میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والے جنت میں داخل ہونے میں بھی پہل کرنے والے ہیں، قرآنِ پاک کی کئی آیات اور احادیث مبارکہ غزوہ بدر میں حصہ لینے والوں کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں۔

ایک آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ

میں ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔
(سورۂ انفال آیت9)

غزوہ بدر کو چودہ سو سال گذر چکے ہیں لیکن اس کی یاد آج کے گئے گذرے مسلمانوں کے ایمان کو بھی تازہ کر دیتی ہے۔ صدیوں بعد آج بھی مقام بدر کفار مکہ شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتا ہے، موجودہ دور میں مسلمانوں زوال پزیری اور کفار کے غالب آنے وجہ یہی ہے کہ آج مسلمانوں کے تمام وسائل موجود ہونے کے باوجود بھی وہ بدر و احد کے جذبے سے آری ہیں۔

عزوہ بدر کے واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ثابت قدمی ، جذبہ جہاد ، شوق شہادت ، اطاعت ِ امیر سے کڑے حالات کو اچھے حالات کی طرف موڑا جا سکتا ہے، محض دنیاوی وسائل، آلات جنگ اور سپاہیوں کی کثرت ہی جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔

source:media reports
content :sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *