hijr aswad 808x454

حجراسود: جدید ترین ٹیکنالوجی سے لی گئی”جنت کے پتھر”کی عکس بندی

410 views

سعودی حکومت نے جدید ترین ٹیکنالوجی سے مسجد الحرام کے اندر مقام ابراہیم اور حجرِ اسود کی واضح ترین تصاویر بنا کر پیش کر دیں۔

غانیہ نورین

حجرِ اسود جنت کے یاقوتوں میں سے ایک ہے جسے سیدنا آدم علیہ السلام اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے، اور تعمیر بیت اللہ کے وقت ایک گوشہ میں نصب فرمایا تھا۔

حجراسود کی فضیلت کیلئے یہ بات کافی ہے کہ نبی کریمؐ کا دست مبارک اور مبارک ہونٹ اس پر لگے ہیں صحیحین میں مذکور ہے کہ عمربن خطاب ؓنے حجراسود کو بوسہ دیا اور فرمایا مجھے یقین ہے کہ توایک پتھرہے جو نقصان دے سکتا ہے نہ نفع اور اگرمیں نے رسولؐ اللہ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا توکبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔

العریبیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدارت عمومی برائے انتظامی امور حرمین شریفین نے تصویر اتارنے کی جدید ترین تکنیک کو استعمال میں لاتے ہوئے حجر اسود کو اس کی انتہائی بنیادی تفصیل کے ساتھ پہلی مرتبہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

کرونا وبا کی وجہ سے زائرین اور معتمرین ان دنوں حجر اسود کو بوسہ دینے کی سعادت سے محروم ہیں تاہم فوکس اسٹیک پینوراما تکنیک کے استعمال سے حجر اسود زیادہ مختلف زاویوں سے زیادہ واضح اور نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

الحجر الأسود ومحاط بسياج من فضه

منفرد ٹکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے حجر اسود کی پیش کردہ تصاویر اتارنے میں 7 گھنٹوں کا وقت صرف ہوا۔ اس مدت کے دوران اس مقدس پتھر کی 1050 تصاویر اتاری گئیں جن کی ریزولوشن 49 ہزار میگا پکسلز تھی۔ انہیں 50 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا کر پراسس کیا گیا۔

حجر اسود کے ٹکرے سیاہ رنگ میں دیکھے جا سکتے ہیں

حجر اسود کعبہ شریف کے جنوب مشرقی کونے میں باہر کی سمت پایا جاتا ہے۔ اسی مقام سے طواف کا آغاز اور یہیں اس کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ زمین سے ڈیڑھ میٹر اونچائی پر نصب کیا گیا ہے۔

ہجر اسود

حجر اسود کا رنگ سرخی مائل سیاہ ہے اور اس کا اندرونی حصہ پیالے کی طرح ہے۔ حجر اسود کو چاروں طرف سے خالص چاندی کے فریم سے تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور پتھر کی جگہ بیضوی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔

حجر اسود کی 49 ہزار میگا پکسلز ریزولوشن تصویر

جنت کا پتھر

اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ روایات کے مطابق یہ پتھر اس وقت جنت سے اتارا گیا تھا جب حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی۔

پیغمبر اسلام کو نبوت دینے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت ہوئی تھی جس کے بعد حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصل ہوگا۔

اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمد کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیں اور تمام قبائل نے ان کے فیصلے کو قبول کیا۔

حجراسود کا نور

مختلف حوالوں سے یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ زمین پر بھیجے جانے سے پہلے حجر اسود کا رنگ چمک دار اور سفید تھا مگر اللہ نے اس کا نور واپس لے لیا۔ یہ بات حدیث نبوی سے ثابت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ “حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں۔ اللہ نے ان دونوں کا نور لے لیا۔ اگر ان کا نور غائب نہ کیا جاتا تو وہ مشرق اور مغرب کے درمیان کو روشن کر دیتا”۔

حجر اسود پتھر کے 8 چھوٹے ٹکڑوں‌ پر مشتمل ہے، جسے دن میں پانچ مرتبہ بیش قیمت عطریات سے معطر کیا جاتا ہے۔

Content: Ghania Naureen
Source: AlArabiya

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *