pak 808x454

لگادو پابندیاں ختم نبوتﷺ قانون پر سمجھوتا نہیں ہو گاپاکستان کا فیصلہ

87 views

چاہے پابندیاں لگادو لیکن ہمارے دلوں سے ہمارے نبی کی محبت کم نہیں ہوگی چاہے ہمارے خلاف قراردادیں منظور کرلو لیکن حرمت رسولﷺ پر پاکستان کی ایک آواز ہوگی ایک ہی فیصلہ ہوگا اور وہ یہی ہے کہ پاکستان کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا ۔

راوا اسپیشل

تاہم یہ شور اچانک کیوں اٹھا آخر پاکستان میں توہین رسالت کی سزا یورپی پارلیمنٹ کو کیوں کھٹک رہی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک قرارداد یورپی پارلیمنٹ کی ایکسٹرنل ایکشن سروس سے وابستہ کئی ماہرین نے پیش کی ہے جس میں یورپی یونین سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے پر نظرثانی کرے یا اسے عارضی طور پر ختم کردے۔

بدقسمتی سے اس قرار داد کے کئی نکات میں خصوصی طور پر پاکستان کے توہینِ رسالت کے قانون آرٹیکل 295 بی اور سی کا باربار ذکر کیا گیا ہے اور اس قانون پر شدید تنقید کی گئی بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: گزارش ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں: ترک صدر

ہاں لیکن اس قرارداد کی جانب داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے اسلام دشمن اخبار چارلی ہیبڈو کی کئی عشروں سے مسلم دشمنی اور فرانسیسی حکومتی عہدے داروں کی ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا اور الٹا پاکستان میں فرانس مخالف جذبات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یورپیئن ایکسٹرنل ایکشن سروس (ای ای اے ایس) فوری طور پر پاکستان کو دیئے جانے والے جی ایس پی پلس درجے پر نظرثانی کرے یا اسے جزوقتی طور پر موقوف کرکے پاکستان پر دباؤ بڑھائے۔ قرارداد میں کئی مرتبہ شفقت ایمانوئیل اور شگفتہ کوثر کا ذکر کیا ہے جو آرٹیکل 295 بی کے تحت گرفتار ہیں۔

مزید پڑھیں :اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ

جواب میں پاکستان حکومت کا بھی بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے یورپی پارلیمنٹ کی پاکستان مخالف قرارداد کے جواب میں ختم نبوت ﷺ کے قانون اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے معاملےپر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں گزشتہ روز اجلاس منعقد ہوا جس میں یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظرثانی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد کی صورتحال اور قرار داد کے نکات کا جائز ہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق شرکا کو بتایا گیا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم ہونے سے پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہوسکتا ہے ، یورپی یونین کے ساتھ انسانی آزادیوں کے حقوق، جبری گمشدگیوں کے خاتمے ، اقلیتوں کے تحفظ، خواتین کے حقوق سمیت 8 معاہدے ہوئے تھے لیکن معاہدے میں مذہب کے حوالے سے کوئی شرط طے نہیں کی گئی تھی، کابینہ کی قانون ساز کمیٹی سے منظوری لے کر جلد مسودے اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے ۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے قانون اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، پاکستان کی ریاست نہ خود اور نہ کسی کو مذہب کے نام پر تشدد کی اجازت دے گی، یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک سے اس معاملے پر بات کی جائے گی،اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ۔

مزید پڑھیں: حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مذاکرات: کیا کچھ ہوتا رہا

ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت ﷺکے قانون پر سمجھوتا نہیں ہو گا۔ البتہ یورپی یونین کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان سے او آئی سی کے ممبر ممالک کے سفیروں نے ملاقات کی جس میں اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے اقدامات کا مقصد باہمی افہام و تفہیم پیدا کرنا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے ، اسلامو فوبیا تہذیبوں کے مابین بین المذاہب منافرت اور عدم استحکام پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ، وزیر اعظم نے دنیا بھر میں اس طرح کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیاہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ففتھ جنریشن وارفئیر جعلی خبروں کی روک تھام ضروری

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ غلط طور پر جوڑنا دنیا بھر کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے اور انھیں بدنام کرنے کاباعث بن رہا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی انتہائی مقدس مذہبی شخصیات کی توہین کو اظہار رائے کی آزادی سے جوڑنا دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے ۔

وزیر اعظم نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو حضور اکرم ﷺاور قرآن مجید کے لئے تمام مسلمانوں کی گہری محبت اور عقیدت کو سمجھانے کیلئے مل کر کام کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ففتھ جنریشن وارفئیر جعلی خبروں کی روک تھام ضروری

اسلامی تعاون تنظیم عالمی برادری کو اس حساسیت سے آگاہ کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے ،ہمیں ملکر دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہمارے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کا کتنا احترام ہے ،دنیا بھر کے مذاہب کے مقدسات کو قانونی تحفظ دینے کی ضرورت ہے ۔

Source PMoffice Reuters

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *