یہ بچے کچھ نہیں کرسکیں گے ۔۔تھیلسیمیا پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا ۔۔

یہ بچے کچھ نہیں کرسکیں گے ۔۔تھیلسیمیا پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا ۔۔

576 views

یہ خون کی تلاش اور ہر بوند زندگی کی بقا کی ضرورت ۔

فہمیدہ یوسفی/صبحین عماد

کئی دفعہ ہم بات کرتے ہیں کہ لاک ڈاؤن  کے دوران بہت سی پریشانیوں میں مبتلاہوئے،کوئی ڈپریشن میں گیاکوئی جان کی بازی ہار گیا۔کسی کو روزگار کی فکر اور کسی کو بیماری کی پریشانی ہوئی۔

ہم جب اپنے گھروں میں قید ہوئے تو ہم نے ایک بے گناہ قیدی کے احساسات کو محسوس کیا۔کبھی ہمیں مزدور طبقہ کا خیال آیا کبھی ہمیں کرونا میں مبتلا افراد کا خیال آیا۔لیکن کسی کی موت حادثاتی ہو یا کسی بیماری میں مبتلا ہوکر اس کے گھر قیامت ہی ہوتی ہے۔

مگر کیا آپ نےکبھی غور کیا کہ بہت سے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے سہارے ہوتے ہیں،جنھیں اصل معنوں میں زندگی کی ایک ایک سانس کا اندازہ ہوتا ہے ہمارے سہارے سے جنہیں ایک نئی زندگی ملتی ہے۔کیاآپ نے کبھی سوچا کہ ہم ان مشکل وقت میں گھر میں رہ کراللہ کی ہر نعمت سے لطف اندوز ہوتے رہے،لیکن ان کا کیا حال ہوگا جن پر ایک بیماری کے ساتھ دوسری بیماری کا بھی بوجھ پڑا ہو جنھیں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ فکر بھی ہو کہ خون کا انتظام کرنا ہے خود کو زندہ رکھنے کے لیے ہر بار ایک نا ختم ہونے والی تکلیف سے گزرنا ہے ۔ ۔

جی ہاں میں یہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی بات کررہی ہوں،جو اپنے ساتھ ایک مسلسل جنگ لڑتے ہیں۔ان کے لئے کرونا وائرس ہو یا کوئی اور بیماری انہوں نے تو مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔تھیلیسیمیما جو کہ ایک خطرناک خون کی بیماری ہے جس پر حکومتی سطح پر کوئی بات ہی نہیں کرتا۔

تھیلیسیمیا خون کی وہ بیماری ہے جس کا مریض صرف جب تک ہی زندہ رہ سکتا ہے جب تک اسے خون ملتا رہے جبکہ پاکستان میں اس پر ناجانے کیوں بات نہیں ہوتی

جبکہ پاکستان میں اندازے کے مطابق 2 لاکھ تھیلیسیمیا کے میجر مریض موجود ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس بیماری سے متاثرہ ڈیڑھ کروڑ مائنر بھی ہوسکتے ہیں ۔

راوا کی ٹیم نے تھیلیسیما سے لڑنے والی عائشہ محمود سے خصوصی ملاقات کی اور انہوں اس بیماری کے حوالے سے تفصیل سے آگاہی دی ۔

راوا کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے عائشہ کا کہنا تھا کہ اس بیماری میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے سپورٹ کی کیونکہ یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کو بوجھ نا سمجھیں ،ایک سوال کے جواب میں عائشہ نے بتایا کہ انٹر فیملی میرج کے حوالے سے حکومتی سطح پر اس کی آگاہی بہت ضروری ہے انٹر فیملی میرج سے منع ہر گز نہیں لیکن کرنے سے پہلے ایک ٹیسٹ ضرور کروا لیں ۔اس ضمن میں والدین کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ کہیں ہونے والے دلہادلہن میں سے کوئی ایک تھیلیسمیا مائینر کا شکار تو نہیں ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھا جاسکے

ان کا مزید کہنا تھا کہ خون پر زندہ رہنے والے مریض کی ادویات کے معاملے میں بھی حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے ۔

عائشہ نے راوا کو بتایا کہ یہ المیہ ہے کہ ہمیں آج تک معلوم ہی نہیں ہے کہ پاکستان میں اب تک تھیلیسیمیا کے مریض کتنے ہیں۔کیونکہ ہم نے کبھی اس کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔

تھیلیسیمیا کے مریض کو ریڈ بلڈ سیل ( Red Blood Cell)کی بے حد ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ خون چاہیے ماہانہ لیکن اس پر نہ آگاہی ہے نا حکومتی سطح پر کوئی اقدام ہے ۔

لاک ڈاون اور کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عائشہ نے بتایا کہ کہ اس مشکل وقت میں تھیلیسیمیا  متاثرین کے لیے دوہری مشکل کا سامنا تھا کیونکہ پاکستان میں بلڈ کیمپ ۔ورک شاپ اسکول کالجز کے ذریعے بلڈ ڈونیشن کے طور پر جمع کیا جاتا ہے ۔

لیکن لاک ڈاون کے دوران ایسا کچھ نہ ہونے کی وجہ ہے تھیلیسمیا کے مریضوں نے ایک ساتھ دو جنگیں لڑنا شروع کیں تھیں ۔

Premium Vector | Blood donation concept set. give blood and save life, become donor. idea of charity and help. doctor with a blood vial.

کیونکہ لوگ کورونا سے اسقدر خوفزدہ تھے کہ بلڈ دینے سے بھی ایک ڈر بیٹھ گیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے لوگوں سے مدد کی اپیل کی جس کے بعد عام لوگ بھی سامنے آئے مدد کی غرض سے ۔

تھیلیسمیا کے حوالے سے عائشہ نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام سب سے پہلے والدین کے لیے ہے کہ کہ اپنے بچے کو جس کو تھیلیسیمیا ہے اس کو نارمل طریقے سے ٹریٹ کریں ،انہیں مریض کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور نہ کریں کیونکہ و ہ پہلے ہی ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اور اسے دوہری مشکل میں نا ڈالیں اپنے رویوں سے اس کوہمت اور حوصلہ دیں ۔

مزید پڑھیں:  بلڈ کینسر سے لڑنے والا 7 سالہ ننھا بہادر۔۔راوا اسپیشل ۔۔

خیال رہے کہ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا عالمی دن ہر سال 8 مئی کو پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے ۔اس دن کے منانے کا مقصد عوام الناس کو تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی اور اس بیماری سے بچاؤ کیلئے ہرممکن اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کر نا ہے۔

تھیلیسمیا سے کیا مراد ہے اور یہ اتنی خطرناک کیوں؟؟

تھیلیسیمیا یونانی لفظ Thallusسے اخذکیا گیا ہے جس کا مطلب سمندر ہے اور ایمیا کا مطلب خون کے ہیں ۔یہ بیماری سب سے پہلے یونان میں تشخیص ہوئی اور اب یہ مرض پوری دنیا میں عام ہوچکا ہے ۔ مغرب سے شروع ہوکر افریقا مشرق وسطی ایران پاکستان اور بھارت سے گزرتے ہوئے مشرق بعید چین اور انڈونیشیا کے علاقے تک پہنچ گیا۔

تھیلیسیمیا خون کی وہ خطرناک بیماری ہے جس میں متاثرہ مریض کے خون کے خلیوں میں ہیموگلوبن کی باقاعدگی کی وجہ سے خون بننے کا عمل رک جاتا ہے ۔

Beta thalassemia: MedlinePlus Genetics

تھیلیسیمیا خون کی موروثی بیماری ہے،جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔اس بیماری میں بچہ ایک عمر کو پہنچ کر جان کی بازی ہار جاتا ہے۔اس بیماری میں مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے۔

What is Thalassemia? | Evexia

اس مرض کا شکار افراد اور بچوں میں تھکن کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ۔ تھیلیسیمیا کے مریض دیگر افراد کی نسبت غیر متحرک ہوتے ہیں بیماری کے باعث مریضوں کی جلد زرد ہوجاتی ہے جبکہ انہیں ہڈیوں میں تکالیف کے امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

تھیلیسیمیا سے لا علمی ۔۔

بد قسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے،جس میں تھیلیسیما کے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر یہ ہی صورتحال رہی تو ہم بہت مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے یہ بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔

World Thalassemia Day: Green Veggies, Dates, Raisins And Other Foods To Avoid & Why - Nutrition & Thalassemia | The Economic Times

لاعلمی سب سے بڑی وجہ ہے جو ہمیں اس بیماری کی طرف لے کر جارہی ہے۔اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اس بیماری سے کیسے بچا جاسکتا ہے تو اس بیماری سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔

والدین کی مشکلات ۔۔

پاکستان میں بہت سے جوڑے ایسے ہیں،جو بہت خوشی سے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں،لیکن جلد ہی وہ مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں شادی سے پہلے کسی ٹیسٹ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا،اور شادی کردی جاتی ہے۔لیکن تھیلسیمیا میں مبتلا بچے کا درد وہ والدین ہی محسوس کرسکتے ہیں،ہم کھلتے گلابوں کا چہرہ دیکھ کر اندازہ نہیں کر سکتے کہ وہ کس لڑائی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

World Thalassemia Day marked in Pakistan, India - Global Times

سب سے زیادہ دکھ ان والدین کا ہے جو اپنے بچے کو اس بیماری میں دیکھتے ہیں پھر انہیں اپنی خوشیاں بہت چھوٹی لگتی ہیں۔ والدین ان مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں لمحہ بہ لمحہ فکر اور پریشانی میں مبتلا کرتا ہے ۔اس مرض کے علاج میں بھاری رقم بھی چاہیے ہوتی ہے،اور جس ملک میں بےروزگاری ہو،غربت ہو،مسائل ہوں تو وہاں بیماری بھی بوجھ بن جاتی ہے۔

تھیلسیمیا میجر کا مکمل علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے جس کی سہولت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کراچی میں موجود ہے ۔ تاہم ہر شخص اس مہنگے ترین علاج کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی یہ ہر بچے کے لیے مناسب ہے ۔ ایک اور طریقہ کار علاج جس میں ایک مخصوص دوا کے ذریعے خون کے صحت مند خلیے بننا شروع ہوجاتے ہیں اور خون لگوانے کی ضرورت پیش نہیں آتی مگر یہ بھی ہر بچے کے لیے مناسب نہیں ہے

تھیلیسیمیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے ۔۔؟

ہم بہت سے ممالک کی طرح اس مرض سے چھٹکارا پاسکتے ہیں،ہم پاکستان کو تھیلیسیمیا فری پاکستان بنا سکتے ہیں،بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں تھیلسیمیا مائنر کے جراثیم پائے جاتے ہیں،اگر ایک تھیلسیمیا مائنر دوسرے تھیلسیمیا مائنر سے ملتا ہے تو تھیلیسیمیا میجر بنتا ہے۔

Prevention of Thalassemia Dr Tasneem Ara Associate Professor

اگر ہم شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا ٹیسٹ کروا لیں تو اس بیماری سے بچ سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *