1 5 808x454

رنگ برنگے عید کارڈ ۔۔ہائے وہ بچپن کی یاد ۔۔۔

204 views

نازک سی انگلی منہ میں چبانا
عید کارڈ پڑھنے سے پہلے تھوڑا مسکرانا۔

کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہوتی ہے،یا یوں کہیے کہ عید تو بس بچپن میں ہوا کرتی تھی آج اگر کسی بزرگ نما جوان یا پھر فورٹی پلس کی عمرکے لوگوں سے پوچھیں کہ عید کیسی گزری؟ تو ایک ہی جواب سننے کو ملے گا، جناب عید تو بچوں کی  ہوتی ہے، اب وہ بچپن کی عیدیں کہاں؟؟۔سچ بھی یہی ہے، پہلے عید منائی جاتی تھی، اب عید گزاری جاتی ہے۔

صبحین عماد

بچوں کی عید کا ذکر نکلا ہے تو ذہن کے کے بردے پر بچپن کی عید کے بھی سارے رنگ جھلک اٹھے ہیں ،بچپن والی عید تو اصل معنوں میں 4 دن پہلے ہی شروع ہوجاتی تھی کیونکہ عید کارڈ اسٹالز لگنا جیسے ہی شروع ہوتے تھے بس سمجھیں بچوں کی عید کا آغاز ہوگیا ۔رنگ برنگے عید کارڈ ہر ایک دوست کے لیے خریدنا بھی بڑا اہم کام سمجھا جاتا تھا ،بچپن میں اکثر محلے کے بڑے بچے بھی عید کارڈ کا اسٹال لگا لیا کرتے تھے کہ کچھ تھوڑا بہت کما لیں گے اور یہ سب بس شوقیہ ہوا کتا تھا چاند رات کو تو سب سے زیادہ ضروری ہوتا تھا کہ کوئی کارڈ رہ نہ جائے اور ساری ہی کلیکشن ہمارے پاس موجود ہو اور پھر اس کے پیچھے ذمہ داری سے عید کا شعر بھی لکھنا اہم ترین فریضہ تھا اور اشعار بھی ایسے جس میں یعد کا ذکر لازم تھا کچھ شعر تو اب بھی ذہن کے کسے کونے میں محفوظ ہیں

چاول چُنتے چُنتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی

عید آئی ہے زمانے میں
بھیا گر پڑے غسل خانے میں

ایسے ایسے اشعار کو ڈھونڈ کر استعمال کیا جاتا تھا جس میں عید کا ذکر بھی ہو اور ہنسی بھی آئے

 سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں
آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کے لئے بھی رکھی ہیں

جبکہ چاند رات کی بھی اپنی ہی ایک الگ رونق ہوتی تھی امی ابو کی صبح کے لیے تیاریاں ،استری کرنے والے کپڑوں کا ڈھیر نئی سینڈل کو سامنے نفاصت سے رکھ کر بار بار دیکھنا ،لڑکیوں کی چوڑیوں کی سیٹنگ ،ابا بھائی کے شلوار قمیض کی کڑک پریس ،آخری مراحل اور شاپنگ کا بھی ایک آخری چکر لازمی ہوتا تھا ،پھر مہندی کے لیے ایک طویل انتظار اللہ لمبی زندگی دے ہمارے باپ بھائیوں کو جو دیر رات تک ہمارے انتظار میں سوکھتے رہتے تھے کہ کب ہم مہندی لگوا کر انہیں کال کریں کہ اب ہمیں گھر لے جاو ۔سڑکوں بازاروں مین گہما گہمی ہر طرف ایک شور ہلچل ،بیکری پر بھی صبح کا ناشتہ لینے والوں کا رش دیکھنے والا ہوتا تھا جبکہ خوتین بھی کسی مشین کی طرح سب کام جلدی جلدی نمٹانے مین لگی رہتی تھیں،چاند رات کو ہی کپڑے استری کرکے ہینگ کرنا ، نئی بیڈ شیٹ لگانا کشن پر کور چڑھانا یہ بھی عید کا ایک اہم کام ہوتا تھا پھر صبح کے ناچتے کی تیاری رات سے ہی شروع ہوجاتی تھی

 جبکہ بچوں کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکراہٹ یہ صاف صاف بتا رہی ہوتی تھی یہ صرف اس لیے  ہے کہ صبح ڈھیر ساری عیدی جمع ہونے والی ہے۔

بچپن میں عید کی صبح سات بجتے ہی امی اٹھا دیا کرتی تھیں گویا ہم اگر صبح نہ اٹھیں گے تو عید ہی نہ کہلائے گی۔ اٹھتے ہی نہا کر تیار ہو کر ابو اور بھائی کا نمازِ عید سے واپسی کا الگ ہی اہتمام ہوتا ہے۔ اگر کوئی عید کی نماز سے قبل تیار نہ ہو تو اس کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور بلا بلا کے پوچھا جاتا تھا کہ بیٹا کیا بات ہے ابھی تک عید کے کپڑے پہن کر تیار کیوں نہیں ہوئے؟ کیونکہ یہ بھی عید کا حصہ تھا کہ عید شروع ہی جب ہوگی جب عید کے کہڑے پہنے جائیں گے ۔

ابو، امی سے عیدی ملنے کے بعد ایک الگ ہی امیری کی کیفیت طاری ہوجایا کر تی تھی جیسے آج ہم تمام دنیا خرید لیں گے۔ رشتے داروں کی آمد کا انتظار اس طرح سے ہوتا تھا جیسے ہم اپنا کوئی قیمتی سامان ان کے گھر بھول آئے ہوں اور وہ ہمیں واپس لوٹانے کے لئے گھر آنے والے ہوں۔

 رشتے داروں کی دی ہوئی عیدی کو بار بار گننا، اور اپنے تمام رقوم کا حساب لگانا کسی نیشنل بینک کے حساب سے کم نہ تھا۔ کسی اجباب کا بغیر عیدی دیے الوداع کرنا عجیب کشمکش میں ڈال دیتا تھا کہ خدارا اس کو کسی طرح یاد آجائے کی انہوں نے ہمیں عیدی نہیں دی اور اچانک انہیں حقیقتاً یاد آکر عیدی دینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالتے دکھائی دینے سے دل میں ایسی خوشی کی لہر دوڑنے کے مترادف تھا گویا ہم نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔

دکان پر جاکر دس چیزوں کو بار بار کھا کر جو تسکین ملتی تھی وہ شاید ہی کسی چیز کے کھانے پر میسر ہو۔ دوپہر کو واپس گھر آکر، دوبارہ تیار ہو کر جو دوستوں میں گھومنے کا مزہ تھا وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔ عید کی صبح، دوپہر، شام اور رات کی جو الگ الگ تیاری اور کھانا پینا چلتا تھا ان تین دنوں کی تیاری کی تفصیل بتانا گقیا نا ممکن ہے الغرض یہ کہ پچپن کی عید کی تیاری سے عید کی تیسرے دن کی رات تک کی خوشی انوکھی ہوا کرتی تھی۔لیکن جب سے بچپن ختم ہوا عید کا دن منایا کم، چھٹی کا دن سمجھ کر آرام زیادہ کیا جاتا ہے۔ مہمانوں کے جانے کے بعد عیدی گننے اور حساب کرنے کی سوچ کے بجائے کچن میں برتن سمیٹنے کی ٹینشن لاحق ہوجاتی ہے۔ عید پہ چیزیں کھانے کے بجائے، مہمانوں کے لئے مزید کھانے کی چیزیں دسترخوان پہ لگانے کی سوچ دماغ پہ حاوی ہوتی ہے۔ ہر وقت مہمان نوازی کی پرواہ رہتی ہے کہ کسی طرح کوئی کمی نہ رہ جائے

لیکن بت تو یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی مہندی لگتی ہے اوراس کا رنگ بھی نہیں بدلا۔ چوڑیاں آج بھی کلائیوں میں ویسے ہی کھنکتی ہیں۔ ویسے ہی ماں باپ کی انگلی تھامے بچے بازاروں میں عید کی خوشیاں خریدنے گھوم رہے ہوتے تھے لیکن اب کے حالات مختلف ہیں ایک وبا کورونا نے سب ہی کچھ جیسے روک دیا ہے ہر طرف خوف ہے عید کی خوشی کے ساتھ ایک ڈر ہے ہر ایک چہرے پر کہیں موت کو سناٹا تو کہیں صف ماتم بچھا ہے جہاں پہلے ان دنوں شاپنگ مالز مارکیٹوں میں رش ہوا کرتا تھا اب وہ رش ہسپتالوں میں ہے شاید یہی وجہ ہے کہ یہ عید اب وہ بچپن والی عید نہیں رہی ۔

content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *