اسرائیل امریکہ کا انوکھا لاڈلا کوئی آج کی بات نہیں

 اسرائیل امریکہ کا انوکھا لاڈلا کوئی آج کی بات نہیں

142 views

جیسے جیسے غزہ پر اسرائیل کی طرف سے جاری ہولناک بمباری میں  فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ویسے ویسے  امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے غزہ کی  صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں مصالحانہ رویے  پر غم اور  غصہ بڑھتا جارہا ہے۔

فہمیدہ یوسفی

اپنے تازہ ترین حملے میں اسرائیلی طیاروں نے بمباری کرتے ہوئے غزہ میں ’الجزیرہ ‘ اورامریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)‘کے دفاتر کو تباہ کردیا  واضح  رہے کہ میڈیا کے دفاتر جس عمارت میں قائم تھے وہ غزہ کی دوسری بلند ترین بلٖڈنگ تھی جس میں رہائشی فلیٹس بھی موجود تھے ۔

دوسری جانب حیران کن طور پر امریکہ  نے اسرائیل کے لئے اپنی غیر واضح حمایت پر زور دیا۔ ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ  امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو دوسری بار اس بحران کے آغاز کے بعد بلایا اور غزہ میں حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی

 ایک بار پھر  غیر مشروط تصدیق کی۔ جبکہ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ  غزہ میں بڑھتی کشیدگی اور جنگ بندی  کے خاتمے کے لیے  واشنگٹن اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے پر  ناکام رہا ہے  اس صورتحال  پر امریکی ترقی پسند قانون ساز ، فلسطین کے وکلا گروپ اور دیگر بائیڈن کی پالیسی سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

تاہم  امریکی صدور کی جانب سے  اسرائیل  کے لیے  یہ موقف نہ نیا ہے نہ انوکھا ہے  اسرائیل کے لئے امریکہ کی جانب سے غیر مشروط مدد اور حمایت  ہمیشہ ہی  کی جاتی رہی ہے  اور اسرائیلی جارحیت کو ہمیشہ نظرا انداز ہی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس، اسرائیل کے خلاف ردعمل

ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ حالیہ صدر جو بائیڈن اور ماضی کے امریکی صدور نے کئی دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت  کا دفاع  کیسے کیا ہے ۔

Timeline: How US presidents have defended Israel over decades | Conflict News | Al Jazeera

مئی 2021 مئی 2021  میں جو بائیڈن  کی جانب سے اسرائیلی حمایت میں  دو بار بیانات جاری کیے جب  غزہ سے اسرائیل کے خلاف راکٹ داغے گئے  ان راکٹ حملوں کے خلاف  امریکہ نے  اسرائیل کے “اپنے دفاع کے حق” کو تسلیم کیا  اور  اپنی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کا اعلان  کیا

 اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ غزہ سے اسرائیل کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کیے گئے ہیں ، جہاں آج تک 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ، جب کہ محصور علاقے پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک کم سے کم 188 فلسطینی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ کے اعلی عہدے داروں نے “اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے لئے مضبوط حمایت” پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اس جنگ کی ڈی ایکسی لیشن  پر زور دے رہا ہے۔

Appalled' by attack on UN-run school in Gaza, Ban urges halt to all fighting | | UN News

تاہم  امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس بیان کو بھی روک دیا جس میں اس تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکہ اسرائیل کو مجبور کرتا کہ وہ اپنی کارروائیوں کو محدود کرے لیکن اندھیر نگری چوپٹ راج امریکی انتظامیہ  اسرائیلی بربریت  کی وکیل بن کر سامنے  آگئی ہے  ۔ اور ہر جگہ ہر فورم  پر  یہ تاثر قائم کرنے پر بضد  ہے کہ  اسرائیل نے اپنے دفاع  میں حملہ  کیا  اور اس کی بینادی وجہ  حماس کی کاروائیاں ہیں۔

Protesters in Major US Cities Decry Airstrikes Over Gaza | California News | US News

مئی 2018سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں غزہ میں درجنوں مظاہرین کے قتل پر اسرائیلی بربریت  پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ  کسی قسم کی  تنقید کو  بھی مسترد کردیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلسطینی “عظیم مارچ آف ریٹرن” ریلی میں شریک تھے اور  اسرائیلی فوج نے ہجوم پر فائرنگ کردی

۔ یہ افسوسناک واقعہ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے ساتھ ہی پیش آیا تھا  ، جب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سفارت خانے کو  تل ابیب سے  پروشلم منتقل  کیا  اس سانحے پر  وائٹ ہاوس سے جاری کردہ  بیان میں کہا گیا  کہ ان اذیت ناک اموات کی ذمہ داری حماس پر پوری طرح عائد ہوتی ہے۔

US-Israel Strategic Partnership in Middle East Under Trump | Centre for Strategic and Contemporary Research

حماس جان بوجھ کر اور ردعمل کو بھڑکا رہا ہے ، اور اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ جولائی اگست 2014اسرائیل نے جولائی 2014 میں اس علاقے میں زمینی کارروائی شروع کرنے سے قبل غزہ کی پٹی پر 10 دن کے ہوائی بمباری کی تھی۔ 18 جولائی کو ، اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو سے ملاقات میں “اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے لئے [اپنی] بھرپور حمایت” کی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی مظام: جہادی شیر فلسطین والوں تمہیں فتح مبارک ۔۔

اوباما نے کہا ، “کسی بھی قوم کو یہ نہیں قبول کرنا چاہئے کہ وہ اپنی حدود میں راکٹ فائر کیے جائیں ، یا دہشت گرد اس کی سرزمین میں سرنگ بنائیں۔”انہوں نے مزید کہا تھا کہ  میں   نے یہ بھی واضح کردیا کہ امریکہ ، اور ہمارے دوست اور حلیف مزید اضافے کے خطرات اور مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ، غزہ میں اسرائیلی فوج کے اس آپریشن میں 500 سے زیادہ بچوں سمیت 1500 سے زیادہ فلسطینی شہری مارے گئے۔

Obama, Netanyahu Say US-Israel Bond 'Unbreakable' | Voice of America - English

نومبر 2012حماس کے فوجی کمانڈر احمد جباری کے قتل کے بعد نومبر 2012 میں جب اسرائیل نے غزہ پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا تو 100 سے زیادہ فلسطینی شہری مارے گئے تھےاوباما نے ایک بار پھر اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیااور  کہا کہ  “زمین پر کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو اپنے شہریوں پر اپنی سرحدوں سے باہر سے گرنے والے میزائلوں کو برداشت کرے۔ لہذا ہم لوگوں کے گھروں پر اترنے والے میزائلوں سے اپنا دفاع کرنے کے اسرائیل کے حق کے مکمل حمایتی ہیں۔

دسمبر 2008 ء جنوری 2009غزہ میں اسرائیل کی کارروائی ، جس کا نام “آپریشن کاسٹ لیڈ” تھا  ، 27 دسمبر 2008 کی صبح سے شروع ہوا۔ جب 22 دن کے بعد اس کا اعلان کیا گیا تھا ، اسرائیلی جارحیت نے قریب 1،400 فلسطینیوں کو ہلاک کیا تھا ، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے ، جبکہ  بیشتر علاقے کو تباہ کردیا تھا  لیکن 2 جنوری کو ، اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش – جو وائٹ ہاؤس میں اپنے وقت کے آخری ہفتوں میں تھے ، نے حماس کی صورتحال کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا۔

بش نے کہا  تھا کہ “اس حالیہ مظاہرے کو حماس نے اکسایا تھا – حماس ایک  فلسطینی دہشت گرد گروہ جو ایران اور شام کے تعاون سے اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی جنگ بندی “جو اسرائیل پر راکٹ حملوں کا باعث بنتی ہے” قابل قبول نہیں ہے۔

US, Israel discuss Iran threats during first strategic group meeting | Al Arabiya English

2000-2005اسرائیلی سیاستدان ایریل شیرون کے ستمبر 2000 میں یروشلم کی مسجد اقصیٰ کے ت دورے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فلسطینی مظاہرے کیے گئے جبکہ  اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں سات فلسطینی ہلاک ہوگئے۔اس وقت کے نو منتخب صدر جارج ڈبلیو بش نے ابتدائی اسرائیلی کارروائیوں کی منظوری نہیں دی تھی ،

لیکن نائن الیون حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نتیجے میں شیرون کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کرتے ہوئے ۔  امریکی اسرائیلی  اتحاد نے  فلسطینیوں کے خلاف  فوجی کارروائیوں کے لئے اسرائیل کو  خطے میں واضح  برتری دی جبکہ اسارئیلی جارحیت میں مزید اضافہ بھی دیکھا گیا   جبکہ امریکہ  کی جانب سے  فلسطینیوں کو  ہی ہر طرح کے تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔جبکہ  بش نے فلسطین کے صدر یاسر عرفات کے ساتھ کسی قسم کی  بات چیت  پر شیرون کے انکار کی بھی حمایت کی تھی۔

2002 کی تقریر میں ، بش پہلے امریکی صدر بنے جنہوں نے عوامی طور پر کسی فلسطینی ریاست کی حمایت کی ، لیکن انہوں نے کہا کہ اس کی حمایت ، فلسطینیوں کی قیادت ، اداروں اور سکیورٹی انتظامات کی مکمل فلسطینی نگرانی پر مشروط ہے۔ انہوں نے کہا ، “آج ، فلسطینی حکام دہشت گردی کی مخالفت ، نہیں کررہے ہیں۔ “یہ ناقابل قبول ہے۔ اور امریکہ اس وقت تک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرے گا جب تک کہ اس کے رہنما دہشت گردوں کے خلاف مستقل لڑائی میں مصروف نہ ہوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کردیں۔

 اپریل 1996امریکی صدر بل کلنٹن نے اسرائیل کا دفاع اس کے بعد کیا جب اسرائیلی  فوج نے جنوبی لبنان کے شہر قانا میں اقوام متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا ، جہاں سینکڑوں شہری ا میں پناہ گزیں تھے۔

US President Bush visit to Israel (9-11 Jan)

اس حملے میں 100 سے زیادہ عام شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔اسرائیل نے کہا کہ یہ حملہ غلطی سے کیا گیا تھا ، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “اگرچہ اس امکان کو پوری طرح مسترد نہیں کیا جاسکتا ، لیکن قانا کے علاقے سے یہ امکان نہیں ملتا ہے کہ اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر گولہ باری کی گئی تھی۔ تکنیکی اور / یا طریقہ کار کی غلطیوں کا نتیجہ “۔

یہ بھی پڑھیں: مان نہ مان میں تیرا مہمان ،اسرائیل کی حمایت پر بھی بھارت نظرانداز

اس قتل عام کے دس دن بعد ، اسرائیل کے حامی لابی گروپ ، امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) سے  اپنے خطاب میں  ، کلنٹن نے قانا میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت کو اسرائیلی دفاع حق قرار دیا جبکہ  حملے کی وجہ  حزب اللہ کی دانستہ ” پوزیشننگ اور فائرنگ کو  قرار دیا .

Israel committing war crimes in Gaza, Palestinian FM tells UN | Benjamin Netanyahu News | Al Jazeera

1987-1991فلسطینیوں کی جانب سے مظاہروں ، ہڑتالوں اور بائیکاٹ کے سلسلے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کے خلاف براہ راست فائر استعمال کیے  اور کریک ڈاؤن کیا  اس بغاوت کی ابتداء اس وقت ہوئی جب امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اسرائیل کو ایک ” “unique strategic asset” کے طور پر تقویت دینا شروع کردی تھی ،

جس سے اسرائیل کو آسانی سے آسانی میسر ہوسکے اور اس ملک کو امریکی فوجی ٹکنالوجی تک خصوصی رسائی حاصل ہو۔  تاہم  1987 میں ریگن انتظامیہ نے اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کی “سخت حفاظتی اقدامات اور براہ راست گولہ بارود کے ضرورت سے زیادہ استعمال” کی مذمت کی۔لیکن ان  کے جانشین جارج ایچ ڈبلیو بش نے اسرائیل کے ساتھ نسبتا مضبوط اور مثبت  موقف اختیار کیا ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاریوں کی تعمیر کو روکنے اور 1991 میں میڈرڈ امن کانفرنس میں شرکت کے بدلے قرضوں کی ضمانتوں میں تاخیر پر زور دیا۔

1982

ریگن نے اعتراف کیا کہ جب اسرائیل نے سرحد پار سے لڑائی کے دوران سن 1982 میں جون میں جنوبی لبنان پر حملہ کیا تو اسرائیل نے کوئی انتباہ نہیں دیا۔  جب ان سے امریکہ کی جانب سے اس کارروائی کی مذمت کرنے میں ناکام ہونے ، یا اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ریگن نے صحافیوں کو بتایا ، “صورتحال اتنی پیچیدہ ہے اور جن مقاصد کو ہم تلاش کرنا چاہتے ہیں وہی ہیں جو ابھی ہمارے طرز عمل کو ڈکٹیٹ کر رہی ہیں۔پھر بھی ، انہوں  حملے کے لئے اسرائیل کو “گرین لائٹ” دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ، “ہم بھی اسی طر ح کے سرپرائز میں  پھنس گئے تھے جیسا کہ باقی سب  ، اور ہم سفارتی حل چاہتے ہیں اور یقین ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔”

bloximages.newyork1.vip.townnews.com/northwestg...

1973اکتوبر 1973 میں ، مصر اور شام کی سربراہی میں متعدد عرب اقوام نے جزیرہ نما سینا اور گولن کی پہاڑیوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں فوجی حملہ کیا ، جس پر  اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور اس پر قبضہ جاری رکھا ہوا تھا۔ناکام جوابی کارروائی کے بعد ، امریکا نے اسرائیل کو ہوائی جہاز منتقل کرنا شروع کیا ، اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر کے ذریعہ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اس منتقلی میں تیزی سے عمل درآمد کیا تھا ۔

1967جون 1967 میں ، اسرائیل نے مصر پر ایک فضائی حملہ کیا او ر نام نہاد چھ روزہ جنگ کا آغاز کیا۔ اس تنازعہ میں ، جس میں اردن اور شام بھی شامل تھے ، اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ ، اور شام کی گولن پہاڑیوں سمیت بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضہ کیا۔امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے  بعد میں نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے  کہا ، اسرائیلی اقدامات کی حمایت کی  اور الزام عرب ممالک اور روس پر ڈالدیا  1948 14 مئی 1948 کو یہودی ایجنسی کے سربراہ نے اسرائیل کی آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کیا کیونکہ اس علاقے پر برطانیہ کا نوآبادیاتی مینڈیٹ ختم ہوگیا تھا ۔

Israeli attack in Gaza death toll now at 67 | Philippine News Agency

امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے فوری طور پر نئی خود مختار قوم کو تسلیم کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ اسرائیل  کی جانب سے کونسا  دفاع کا حق ہے کہ  جس کانشانہ بے گناہ  اور معصوم نہتے شہری ہیں؟ ان کو کس ناکردہ گناہ کی  سزا دی جا رہی ہے؟ اسرائیل کی جانب  سے انسانیت کی دھجیاں کوئی پہلی بار نہیں آرائی جارہی ہیں کیونکہ کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے ،

لیکن وحشت کے اس کھیل کو  امریکہ اور مغرب کی بھرپور حمایت حاصل  ہے   اگر مان بھی لیا جائے کہ اسرائیل کو حماس کی کاروائیوں سے  خطرہ لاحق ہے  تو جواب میں کیا  اسرائیلی فوج محتاط کارروائی نہیں  کر سکتی تھی ۔  یہ اندھا دھند بمباری اور ہوائی فائرنگ تو صرف اور صرف اس کی جارحانہ سوچ کی عکاس ہے جس کو ہمیشہ سے  امریکی سرپرستی حاصل تھی اور رہیگی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *