paf 808x454

کیا پاک فضائیہ بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی طاقت اورجدیدیت کا جواب دیگی؟

441 views

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج کل کی دنیا میں  ٹیکنالوجی کی ترقی  دن بدن بڑھتے دفاعی چیلینجز  اور دور حاضر کے تقاضوں اور جدید تصورات کے پیش نظر ائیرپاور  اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں اس کو آپریشنل استعدادکار کے لئے کلیدی اہمیت  کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ جبکہ ائیر پاور    کو  کسی بھی جنگ کی خطرناک لیکن بہترین   اسٹریٹجک حکمت عملی مانا جاتا ہے۔ 

تحریر : فہمیدہ یوسفی
ترتیب و تدوین: غانیہ نورین

دیکھا جائے تو  ہر سطح پر  زمینی آپریشن کے مقابلے میں  فضائی آپریشن  زیادہ  زیادہ موثر  تیز اور  کارگر ثابت ہوئے ہیں  جس کی بہترین مثال ، پاک فضائیہ کاستائیس  فروری 2019 کا آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ہے ۔ جہاں  فوری اور فیصلہ کن کارروائی نے ائیر پاور  کی اہمیت اور افادیت کو ثابت کیا پاک فضائیہ کے اس شاندار ائیر پاور مظاہرے نے  نہ صرف  دشمن کو موثر نقصان پہنچایا بلکہ  اس  کے نتیجے میں ہونے والے نتائج خاصے دور  رس  ہیں ۔

اب اس  تمہید کے بعد ذرا چلتے ہیں اپنے ٹاپک کی جانب حالیہ عرصے میں  اگر ہم  بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی  بحری بری اور فضائی  افواج مختلف جہتوں میں  اپنے آپ کو  وقت کے تقاضوں  سے نہ صرف لیس کررہی ہیں بلکہ اپنی حربی صلاحیتو ں کو جدید ٹیکنالوجی  سے ہم آہنگ کرکے  اس میں تیزی سے اضافہ بھی کررہی ہیں ۔بھارتی عسکری بیڑے کے لیے   S400 کی خریداری  رافیل طیاروں کی شمولیت اور  دیسی ساختہ ہائپر سونک براہموس کروز میزائیل اس کے مستقبل کے عزائم کی واضح عکاسی کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: قابل ستائش فروری :بھارتی ایئر فورس کو مگ کے بعد تیجس کا جھٹکا

بھارت کی جانب سے  بڑھتی ہوئی حربی اور عسکری  پیشرفت خطے کے اسٹریٹجک استحکام پر غیر مستحکم اثرات مرتب کررہی ہے ۔ دوسری جانب بھارتی عزائم کا سامنا کرنے کے لیے  افواج پاکستان کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں وقت  کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا  انتہائی اہم ہے خصوصی طور پر   پاک فضائیہ کو اپنی  آپریشنل اور اسٹریٹجک سطح پر اپنی فضائی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرتے رہنے کی ضرورت ہے  تاکہ  نہ صرف وہ  اپنی سے چار گنا  بڑی بھارتی فضائیہ  بلکہ اور بھی کسی  جانب سے کی جانے والی ائیر اسٹرائیک کے  لیے تیار رہے۔

 دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ آپریشنل سطح پر ، ملکوں کے مابین  جدید لڑائی میں فیصلہ کن برتری  حاصل کرنے کے لئے الیکٹرانک وارفیئر (ای ڈبلیو) اور کائنےٹک وارفئیر  کی صلاحیتوں کے مابین ہم آہنگی  انتہائی اہم ہے۔ فروری 2019 میں ، بھارت کو EW میں مہارت کی کمی تھی اور وہ معلومات کو محفوظ طریقے سے مربوط اور پھیلانے کے قابل نہیں تھا۔  جبکہ دوسری طرف ، پاکستان نے ای ڈبلیو کو موثر انداز میں استعمال کیا اور  بھارتی فضائیہ  کو آؤٹ کلاس  کیا ، تاہم مستقبل میں ،  پاک فضائیہ  کو الیکٹرانک وارفیئر  کے میدان کو مزید ترقی دینی ہوگی۔

Changing Contours of Electronic Warfare

اب ذرا بات کرتے ہیں انٹیلیجنس سرویلنس اینڈ ریکونسیانس (آئی ایس آر) کی  جو دور جدید ک کے فوجی کاروائیوں  کا لازمی حصہ ہے جو جنگ کے میدان سے متعلق حقیقی وقتی حالات کی آگاہی اور رہنمائی  فراہم  کرتا  ہے  جس کا جنگی فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ہے ۔

 امریکہ بھارت  بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن معاہدے (بی ای سی اے) کے تحت  بھارت اپنی آئی ایس آر کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے ، اور اس حقیقت کے پیش ںظر پاکستان  فضائیہ  کے لیے  اپنی آئی ایس آر   کی صلاحیتوں  میں اضافہ کرنا  انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ یہ صلاحیت دونوں ایٹمی طاقتوں کے
مابین مستقبل کے کسی  بھی ائیرپاور  تنازعہ میں گیم چینجر ثابت ہوگی  ۔

اس ضمن میں  پاک فضائیہ اپنی  ریموٹ سینسنگ مصنوعی سیارہ کی صلاحیتوں کو  مزید ترقی دینے  کی ضرورت ہے جبکہ  پاک فضائیہ  چینی امداد سے اپنی یو اے وی / یو سی اے وی صلاحیتوں کو بہتر بنانے  کے  پلان پر بھی کام  کرسکتی ہے۔

اگر  یو سی اے وی کی بات  کی جائے   تو  یہ  بات سامنے آتی ہے کہ  ائیر پاور  کے لیے ڈرونز کلیدی کردرا ادا کرتے ہیں کرتے ہیں اور کسی بھی فضائیہ کی  ہوائی طاقت کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں ۔

اس وقت بھارتی فضائیہ  کے پاس سیکڑوں ڈرون ہیں وہ  مقامی طور پر بھی ڈرون تیار کررہے ہیں جبکہ   بھارتی فضائیہ اپنی آئی ایس آر کی قابلیت کو مستحکم اور مربوط کرنے کے لئے بغیر پائلٹ کے ایک اعلی طیارے ، ہائی لینٹیڈینٹ ، لانگ انڈیورینس (ایچ اے ایل ای) کی بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔

جواب میں پا کستان فضائیہ  کے پاس بھی  اپنا  مقامی ڈرون پروگرام موجود ہے جس کی مدد سے  بغیر پائلٹ کی (یو سی اے وی) براق تیار کیا ہے جو نہ صرف فضائی  سطح پر لیزر گائیڈڈ میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ  یہ اسٹیشنری اور موبائل اہداف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

Pak UAV Capability - Poised for a Revamp | Vivekananda International Foundation

پاکستان  چین سے 48 یو سی اے وی ونگ لونگ II حاصل کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس  ڈرون کا مقصد بنیادی طور پر ایئرفورس کو نگرانی اور جاسوسی کی مدد فراہم کرنا اور دوسرے استعمال کے علاوہ جنگی کارروائیوں کو موثر انداز میں انجام دینا ہے۔کسی بھی فضائیہ کے لئے فضا  پر کنٹرول حاصل کرنا اولین اور سب سے بڑا چیلنج ہوتا  ہے۔ ، بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک  میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں شدید ہزیمت کے بعد  اب   بھارتی فضائیہ نے فرانس سے جدید ترین رافیل لڑاکا طیارے حاصل کرلئے ہیں  اور اپریل 2022 تک اپنے تمام 36 جیٹ طیاروں کو حاصل کرلیگی ۔

بھارتی فضائیہ کی بڑھتی استعدادکا ر  اور  اپنے بجٹ کی رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ، پاکستان  فضائیہ اپنے جے ایف 17 ‘تھنڈر’ بلاک III طیارے کا جدید ترین ورژن تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔

جے ایف 17 ‘تھنڈر’ بلاک III طیارے کا  جدید ورژن  پی ایل 15 میزائل بھی لے جانے کے قابل ہوگا۔  جبکہ  امکانی طورپر بلاک III کا جدید ورژن  پاک فضائیہ  کو  اس قابل بنائے گا کہ وہ  بھارتی فضائیہ  کی  بڑھتی اہلیت کا موثر جواب  دے سکے  ۔

First Images of Sino-Pakistani JF-17 Block 3 Next Generation Fighter Released

جے ایف 17 تھنڈر کی اپ گریڈیشن کے علاوہ ، چین سے جے 10 سی کا حصول پاک فضائیہ  کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔  کیونکہ جے -10 سی میزائیل  PL-10 اور PL-15 دونوں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ  اس میں بہتر AESA ریڈار ہے اور وہ JF-17 سے کہیں زیادہ بھاری پے بوجھ لے جانے کے قابل ہے۔

مزید پڑھیں: میرے حصار میں یہ عشق دائرہ: JF17BLOCK111

جے ایف 17 بلاک تھری  کا اپ گریڈڈ ورژن اور جے 10 سی کے ساتھ پی ایل 15  میزائیل کا انضمام پاک فضائیہ  کو بھارتی فضائیہ  کے رافیل طیاروں  پر  اسٹریٹجک برتری  فراہم کرے گا۔

 فروری 2020 میں ، پاکستان نے 550 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ اپنے جوہری صلاحیت سے چلنے والے جہاز سے چلنے والے کروز میزائل رعد 2کامیاب تجربہ کیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ رعد 2 زمین پر 600 کلو میٹر تک اور سمندر میں بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ کروز میزائل میں جدید ترین نیوی گیشن نصب ہے۔

Here Are Major Changes Spotted On First JF-17 Thunder Block III Prototype | Fighter Jets World

جواب میں بھارت نے بھی مقامی طور پر اکتوبر 2020 میں اینٹی ریڈی ایشن میزائل Rudram-1 1 تیار کرلیا ۔جبکہ  بھارت پہلے ہی  SEAD (دشمن کے سے دباو ) کی انجام دہی کے لئے پہلے ہی MAR-I تیار کرچکا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے سامنے بھارتی  ایس -400 ہے جو بنیادی طور پر فضائی دفاع کے لئے تیار کیا گیا ہے  جس کا مقابلہ کرنے کے لیے طویل فاصلے سے سطح سے ہوا تک مار کرنے والا میزائل (ایس اے ایم) سسٹم آف ہتھیاروں کی ترسیل کے لئے ضروری ہوگا۔

مزید پڑھیں:  کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف 17ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟

تاہم خوش آئند بات یہ ہے  پاکستان کو اس میدان  میں بھارت پرزیادہ برتری حاصل ہے۔ مزید برآں ، آئی ایس آر کی بہتر صلاحیت کے ساتھ ، پاکستان ایس -400 ب کی تعیناتی اور سسٹم کی اصل کارکردگی کا سراغ لگا سکتا ہے اور اس  کے مقابلے  کے لیے اپنی  حکمت عملی تیار کرسکتا ہے۔

چاہے یہ امن کا وقت ہو یا جنگ ، پاکستان کو فضائی خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنے دائرہ کار اور صلاحیتوں  پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ فضائی آپریشن مزید مشکل اور مہنگا ہوجائے گا ، لہذا ان بڑھتے ہوئے خطرات کو بے اثر کرنے کے لئے لاگت سے بھرپور آپشنز کے ساتھ آنے کی ضرورت ہے۔

India-Pakistan crisis may be easing, but nuclear threat still hangs over the region | CNN

ایئر پاور کے میدان  میں جنگی صلاحیتوں  میں پیشرفت نئی   آپریشنل اسٹریٹجک  حکمت عملیوں کا باعث بنا ہے۔ تاہم فضائی طاقت کے لیے  ماہر انسانی وسائل اور تربیت پہلے کی نسبت اب اور  بھی زیادہ اہم ہوچکے ہیں۔

پاک فضائیہ  کی قیادت کو ان سے وابستہ  توقعات کو پورا کرنے اور آپریشنل مہارت کے بیرتین حصول کے لیے  ، نئے خون  اور باصلاحیت نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور نیکسٹ جنریشن ٹریننگ فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی  کے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔

پاکستان  کے موجودہ معاشی حالات کی وجہ سے ، یہ بھی دانشمندانہ  ہوگا کہ پاکستان فضائیہ  خاص طور پر Niche   ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگائے تاکہ دشمن  پر  اپنی اسٹریٹجک برتری کو ہمیشہ کی طرح برقرار رکھ سکے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *