india black fungus 808x454

کورونا کے بعد بھارت میں ایک اور جان لیوا بیماری کا حملہ

58 views

بھارتیوں کی مشکلات کم نہ ہوئیں، کورونا وائرس کے بعد بلیک فنگس کی وباء نے بھی بھارتی ریاستوں میں اپنے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

غانیہ نورین

بھارت ایک طرف کورونا وائرس جیسی جان لیوا وباء کے قہر سے دوچار ہے تو دوسری طرف ملک کی بڑی ریاستوں میں بلیک فنگس ( کالی پھپھوندی) نامی ایک اور جان لیوا بیماری اپنی جڑیں مضبوط کررہا ہے جس کے باعث کئی بھارتی لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ متعدد شہری اپنی آنکھیں گنوا بیٹھیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں کووڈ سے جڑے خطرناک بلیک فنگس کے 8800 سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں اور اس بیماری کو بھی اب وبا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بڑھتے کورونا کیسز کے بعد بھارت کو سمندری طوفان کا سامنا

میوکورمائیکوسز نامی یہ انفیکشن اتنا عام نہیں مگر اس سے موت کی شرح 50 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ اس کے کچھ مریض نابینا ہوچکے ہیں اور کچھ کی زندگی ان کی آنکھ نکال کر بچائی گئی ہے۔

کورونا سے پہلے سال میں اس بیماری کے تین، چار کیسز سامنے آتے تھے لیکن اب روزانہ 6 افراد اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔  صرف راجستھان میں ہی 15 سو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے اکثریت کی عمر 20 سال سے بھی کم ہے۔

Black fungus: India reports nearly 9,000 cases of rare infection - BBC News

بھارتی میڈیا کے مطابق کالی پھپھوندی کورونا میں مبتلا اور اس سے صحت یاب ہونے والے ہزاروں مریضوں کو متاثر کررہی ہے جب کہ اس ہلاکت خیز بیماری کا کوئی موثر علاج نہ ہونے اور ادویات کی قلت کی وجہ سے بیماری کو دماغ تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ہزاروں مریضوں کی آنکھوں کے ڈیلے اور پتلیاں نکال دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا دیوی :بھارت واسی قوم پرستی کے بوجھ تلے

بھارت کی بہت سی ریاستوں میں اسپتال کالی پھپھوندی سے متاثرہ مریضوں سے بھر چکے ہیں جب کہ اس بیماری میں مبتلا 60 فیصد مریضوں کی ایک یا دو آنکھیں نکال دی گئی ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹر کی مغربی ریاستوں میں نصف سے زیادہ بلیک فنگس کے مریضوں کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

کم از کم 15 سے زیادہ ریاستوں میں آٹھ سے 900 کے درمیان مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ انڈیا میں اب 29 ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ بلیک فنگس کو وبا قرار دیا جائے۔

India battles rash of 'black fungus' cases hitting COVID patients |  Coronavirus pandemic News | Al Jazeera

ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں بلیک فنگس انفیکشن کے علاج کے نئے وارڈ تیزی سے بھر رہے ہیں۔ جبکہ اینٹی فنگس ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

بلیک فنگس کیا ہے؟؟

میوکورمائیکوسز کو سائنس میں ’زگومائی کوسز‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری فنگس کی نسل ’میوکوریلز‘ سے پھیلتی ہے۔

اس نسل کا فنگس ماحول میں عام پایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ مٹی میں بھی ہوتا ہے اور پھل یا سبزی جیسے نامیاتی مادے کے زمین میں گلنے سڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔

فنگس کی اس قسم سے انسانوں میں ’ریزوپس اوریزا‘ نامی انفیکشن ہوتا ہے۔ انڈیا میں فنگس کی اسی نسل کی ایک اور قسم پائی جاتی ہے جس کا نام اپوفیسو مائیسیز ہے۔ یہ ٹراپیکل یعنی گرم اور مرطوب علاقوں میں عموماً پایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوویڈ19: بھارت میں لاشوں کا انبار،حالات خراب کیسے ہوئے؟؟

لیبارٹری میں یہ فنگس تیزی سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی شکل سیاہ براؤن ہوتی ہے مگر دھندلی دکھائی دیتی ہے۔

As the black fungus infection in Covid patients is rising, there are some  preventive measure which could help to reduce the threat.

انسانوں میں بیماری پھیلانے والے یہ فنگس جسمانی درجہ حرارت اور تیزابیت کے ماحول میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب کوئی ٹشو مردہ حالت میں ہو، بے جان ہونے کے قریب ہو یا بے قابو ذیابیطس سے متاثر ہو۔

علامات کیا ہیں؟؟

بلیک فنگس کی علامات میں ناک کے سیاہ پڑنا یا رنگ تبدیل ہونا، دھندلا یا دہرا نظر آنا، سینے میں درد، سانس لینے میں تکلیف اور کھانسی میں خون آنا شامل ہیں۔

بلیک  فنگس کے اثرات

یہ ایسے لوگوں کو متاثر کرتا ہے جن کا مدافعتی نظام پہلے سے کمزور ہوتا ہے یا ان کا کوئی ٹشو کمزور ہوتا ہے۔کالی پھپھوندیاں انسانی دماغ، پھیپھڑوں یا پھر ناک/ حلق میں جڑیں بنا لیتی ہیں اور بڑھنا شروع کردیتی ہیں۔

J&K reports first death due to 'black fungus' | Deccan Herald

مزید پڑھیں: بھارت کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر آکسیجن کی بھیک مانگتی عوام

بھارت میں بلیک فنگس کی وجہ؟؟

طبّی ماہرین کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ میں کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والے سیکڑوں افراد میں کالی پھپھوندی ہی یا تو موت کی وجہ بنی ہے یا پھر خطرناک آپریشن کے بعد انہیں متاثرہ اعضاء سے محرومی اور معذوری کا شکار ہونا پڑا ہے۔

بھارت میں اس بیماری نے سب سے پہلے کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا تاہم اب یہ بیماری دیگر افراد میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

Source:Express/BBC
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *