x 808x454

بحریہ ٹاؤن ترقی کا نہیں تباہی کا منصوبہ ہے کیا یہ سچ ہے؟؟؟

879 views

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جس میں بحریہ ٹاؤن کے مبینہ گارڈزاور اہل کار ملیر کے لوگوں پر تشدد میں ملوث تھے،اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے اور سندھ حکومت کی بحریہ ٹاؤن کی سرپرستی پر سوال اٹھنے لگے۔

فہمیدہ یوسفی

اس سے قبل بھی بحریہ ٹاون کے حوالے سے خبریں اور وڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں ۔ اس وقت وہاں ہو کیا رہا یہی جاننے کے لیے راوا نیوز کی ٹیم نے گوٹھ ہادی بخش گبول کاٹھور کا رخ کرلیا

بحریہ ٹاؤن پس منظر کیا ہے ؟؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی شہر پر وحشت اور دہشت کا راج تھا ۔اندھیروں اور سناٹوں میں ڈوبا شہر اپنے کسی مسیحا کا انتظار کررہا تھا کہ اچانک سال 2013 نومبرمیں کراچی والوں کے لیے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ایک خوشخبری کا اعلان کیا کہ بحریہ ٹاؤن ایک ایسا جدید شہر لیکر آرہا ہے جہاں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائینگے بلکہ شہریوں کے لیے سب کچھ بہت آسانی سے فراہم کیا جائیگا جس میں روزگار کے مواقع بھی شامل کیے گۓ ۔ اس وقت فارم کی قیمت 15000 روپے مقرر کی گئی تھی واضح رہے کہ یہ رقم ناقابل واپسی تھی ۔

جبکہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اعلان کردہ نئے شہر کے پلاٹوں کا رقبہ 125 گز سے لے کر ایک ہزار گز تھا۔تاہم راتوں رات دیکھتے دیکھتے ان پلاٹوں، تعمیری گھروں اور فلیٹس کی فائل کی قیمت ہزاروں سے لاکھوں روپے تک پہنچ گئی۔

بحریہ ٹاؤن منصوبہ کیا ہے ؟؟؟

بحریہ ٹاؤن منصوبہ کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے پر زیر تعمیر ہے۔ اس منصوبے کی شروعات کراچی کے ضلع ملیر سے ہوئی اور یہ دیکھتے دیکھتے اب جامشورو ضلع کی حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ اگرگوگل میپ کے ذریعے بحریہ ٹاؤن کی پیمائش کی جائے تو یہ 30 ہزار ایکڑ پر پھیل چکا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے مطابق انھوں نے پانچ ہزار ایکڑ زمین عام لوگوں سے خرید ی جبکہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسے 9385 ایکڑ زمین فراہم کی۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے جن عام لوگوں سے زمین خریدی ان تمام کی زمینیں بحریہ ٹاؤن کے زیر استعمال علاقے میں نہیں تھیں بلکہ بلوچستان اور ضلع ٹھٹہ و دیگر علاقوں موجود تھی۔ بحریہ نے ان زمینوں کا ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے تبادلہ کیا۔

9 Robberies in Bahria Town Karachi, Residents Protest & asked security from Police – Property Post

بحریہ ٹاؤن اور سپریم کورٹ

بی بی سی اردو کے مطابق سپریم کورٹ نے سرکاری زمین سستی قیمت پر لینے پر بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری مقدمے میں 2019 میں فیصلہ سنایا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو 60 ارب روپے حکومت سندھ کو جرمانہ ادا کرنے ہوں گے اور بحریہ ٹاؤن نے عدالت کو یہ رقم قسطوں میں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

بحریہ ٹاؤن ہمارے لیے نہیں ہے ؟؟

اب ذرا نظر ڈالتے ہیں ملیرضلع جو 2557 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ،اس رقبے میں پہاڑی علاقے کے ساتھ، میدانی علاقے، ندی نالے اور زرعی زمینیں شامل ہیں ، اس ضلع میں کئی سو گاؤں موجود ہیں تاہم انھیں ریگولرائزڈ نہیں کیا گیا۔ باجود اس کے یہاں کے لوگ قیام پاکستان سے قبل سے یہاں آباد ہیں۔

Sindh Govt Hand Clasps With Bahria Town in Land Eviction - News 360

دیہہ لنگجی، کونکر، کاٹھوڑ اور بولھاڑی میں مقیم رہائشیوں کا الزام ہے کہ ان کو زبردستی زمین سے دستبردار کروا لیا جاتا ہے جبکہ ان کی زمین جس کی لیز ان کے پاس موجود ہے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی۔

  بحریہ ٹاؤن متاثرین کو نہ پلا ٹ دے رہا ہے نہ ہی پیسے

 بحریہ ٹاوٌن میں اس وقت صرف زمینوں پر قبضے کا سلسلہ نہیں سامنے  آرہا ہے بلکہ  بحریہ ٹاؤن  کی جانب سے رقم لینے کے باوجود پلاٹ  الاٹ نہ کرنے کا فراڈ بھی سامنے اایا ہے جہاں متاثرین پچھلے دس سال سے سرمایہ لگائے ہوئے ہیں لیکن تاحال ان کو ان کے  پلاٹس کا قبضہ نہیں دیا گیا

 خیال  رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی متاثرین کے  حق میں فیصلہ دیا  تھا اور عدالت کی جانب سے دو مرتبہ بحریہ ٹاؤن کو متاثرین کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا لیکن تاحال  متاثرین  کی رقم واپس نہیں کی گئی۔

 جبکہ اس سے قبل نومبر 2019   میں بحریہ ٹاؤن کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ نے بحریہ پیراڈائز اور بحریہ اسپورٹس سٹی کے ’غیر قبضہ والے‘ علاقوں میں پلاٹوں کے مالکان اور فائل ہولڈرز کو

پروجیکٹ انتظامیہ نے 19 نومبر  2019کو اپنے اعلان میں کہا تھا  کہ رقم کی واپسی کی سہولت صرف ‘مسدود’ اور یا ‘منسوخ فائلوں’ کے لئے دستیاب ہے۔جبکہ اس وقت کہ  بحریہ ٹاؤن کے کنٹری ہیڈ شاہد محمود قریشی نے بحریہ

اسپورٹس سٹی اور بحریہ پیراڈائز کے متاثرین کو ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔اور سو فیصد رقم کی واپسی کی سہولت دینے کا اعلان کیا تھا

انہوں نے یہ بھی  کہا تھا  بحریہ ٹاؤن اپنے وعدے پورے کرے گا اور ان لوگوں کو پلاٹ دے گا جو رقم کی واپسی کی بجائے مذکورہ فراہمی کا انتخاب کریں گے۔ جبکہ ان ادائیگیوں کے خلاف رقم کی واپسی کے لئے درخواست دینے والوں کو جو انہوں نے ڈیولپر کو دی ہے، ان کو 100 فیصد رقم کی واپسی دی جائے گی۔  اور بحریہ ٹاؤن متاثرہ افراد کو بھی رقم کی واپسی کی پیش کش کرے گا۔

لیکن بحریہ ٹاؤن کی جانب سے تاحال اس  پر عمل در آمد نہیں کیا گیا ہے اور متاثرین  اس وقت    شدید پریشانی کا شکار ہیں

سندھ حکومت کی  پرسرار خاموشی

بحریہ ٹائون کی طرف سے قدیمی گوٹھ م قابض ہونے کے معاملے پر ،سندھ اسمبلی میں  پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ اور جی ڈی اے کی نصر ت سحر عباسی نے قرارداد پیش کرنے اور بحث کروانے کا مطالبہ کیا ،

میڈیا  رپورٹس  کے  مطابق سندھ اسمبلی کے ں بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ گڈاپ کے زمیندار فیض محمد گبول کے بیٹے مراد گبول نے اسمبلی پہنچ کر ممبران سے شکایت کی ہے کہ گڈاپ میں نور محمد گبول سمیت دیگر گوٹھوں کو بحریہ ٹائون انتظامیہ مسمار کرنا چاہتی ہے اور لوگ مزاحمت کر رہے ہیں، اسمبلی میں بحث کرنے کی اجازت دی جائے

حلیم عادل شیخ نے حکومت سندھ اور بحریہ ٹائون کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن حیران کن طورپر اسپیکر نے ان کو اجازت نہ دی اور حلیم عادل شیخ کا مائک بند کروا دیا

جب بعد میں میں نصرت سحر عباسی نے  بھی اس معاملے پر بات کرنا چاہی ،تاہم سپیکر نے ان کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی

انڈیجنس رائٹس الائینس کیا ہے

بحریہ ٹاؤن انتطامیہ کے خلاف مقامی لوگوں نے کراچی انڈیجنس رائٹس الائیس کے نام سے اپنی تنظیم  بنائی جس کا اس منصوبے کے خلاف پچھلے چار سالوں سے احتجاج کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دلاں تیر بجا حلقہ این اے 249 پیپلز پارٹی کا بڑا اپ سیٹ

انڈیجنس رائٹس الائینس کی آل پارٹیز کانفرنس

اسی معاملے کو جاننے کے لیے ٹیم راوا نے اتوار ، 23 مئی کے دن ہادی بخش گبول گوٹھ کاٹھوڑ کا رخ کیا جہاں انڈیجنس رائٹس الائینس کی آل پارٹیز کانفرنس کی اے پی سی منعقد کی گئی جس میں تقریبا 50 سے زاید سندھی ، بلوچ قوم پرست جماعتوں کے رہنما ، انسانی حقوق کی تنظیم کے کارکن اور مقامی افراد بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپنی زمین کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے کے لیے موجود تھے۔

اس اے پی سی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے تمام کام فوری طور پر بند کردیئے جائیں کیونکہ یہ منصوبہ سندھ کی تباہی کا حصہ ہے تاکہ سندھیوں کو اقلیت بنایا جاسکے اور صوبے میں اراضی اور ساحلی علاقے کو کنٹرول کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ اسی گاؤں میں 2021 مئی کے پہلے ہفتے میں مقامی افراد کے دعوے کے مطابق بحریہ ٹاؤن حکام کی جانب سے ہادی بخش گبول گاؤں پر بھی پر حملہ کیا گیا تاکہ ان کو  گھروں سے بے دخل کریں۔

راوانیوز سے بات چیت کے دوارن مراد گبول جنھوں نے تین سال قبل بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپنی چار ایکڑ زمین کی ملکیت کے حوالے سے چلنے والے مقدمے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی کہا بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کی زمین غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنادینگے ہم چپ نہیں رہینگے اپنی جان دینگے زمین نہیں

جبکہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور بلاول ہاؤس میں ہونے والی اپنی مبینہ ملاقات سے بھی انکار کیا

ایک اور مقامی رہائشی نے راوا نیوز کو بتایا کہ گاؤں میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے مسلح افراد کی مدد سے ہم پر حملہ کیا ۔ جبکہ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ براہ کرم ہمارے سندھ کو بچائیں۔ براہ کرم ہمارے گھروں کی حفاظت کریں۔

قوم پرست سیاسی جماعتوں اور کارکنوں نے راوا نیوز سے بات چیت میں ن الزام لگایا ہے کہ سندھ میں ، پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی حکمران جماعت بھی ہےجبکہ بااثر حلقے بھی  ملک ریاض کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ بصورت دیگر ، اس میں ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

Awami Yakjehti Mahaz (@yakjehti_mahaz) | Twitter

جبکہ ا ن کا مزید کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے یہ نوآبادیات ہے۔ بحریہ ٹاؤن ہمارے ساحلی علاقے اور سمندر کو کنٹرول کرتا ہے۔

یشنل ڈیموکریٹک پارٹی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے جذباتی انداز میں راوا نیوز سے بات کرتے ہوۓ کہا  یہ مقامی لوگوں کو ان کے آبائی گھروں سے باہر پھینک کر۔ کس قسم کی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہیں ،” ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو موسمیاتی تغیرات کے باعث سالانہ 3.8 بلین ڈالر کا نقصان

جئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین ، نواز خان زور نے راوا سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ لینڈ ایکویسیشن ایکٹ ، 1894 مکمل طور پر ناانصافی پر مبنی ہے اور اس سے آمرانہ حکمرانوں کو مقامی لوگوں کی زمین پر قبضہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہمیں اس کالے قانون  لینڈ ایکویسیشن ایکٹ” پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر مالک بلوچ ، نیشنل پارٹی ، اے پی سی میں شامل نہیں ہوسکے ، لیکن یہ پیغام بھیجا کہ سندھ اور بلوچستان کو ایک پلیٹ فارم میں شامل ہونا چاہئے جس پر دونوں اجتماعی طور پر غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف جدوجہد کریں۔

ڈاکٹر قادر مگسی ، سندھ ترقی پسند پارٹی نے اپنی بات چیت میں کہا کہ آپ فیصلہ کریں کہ آپ لڑتے ہو یا غلام بن کر رہتے ہو۔ سندھ بری طرح متاثر ہوا ہے ، ہم انہیں اپنے گھر والوں اور خواتین کی توہین نہیں کرنے دیںگے  جبکہ آصف زرداری ملک ریاض کے دوست ہیں اس لیے ان کو سندھ میں کوئی روکنے والا نہیں ہے

جبکہ اس آل پارٹیز کانفرنس میں چھ جون کو بحریہ ٹاؤن کے گیٹ پر بھرہور احتجاج کا فیصلہ  بھی کیا گیا جو شاید اس حساس معاملے کو مزید حساس کردیگا

  تاہم اس سلسلے میں سندھ حکومت کی خاموشی  اس بات کی غماز ہے کہ  تمامتر  معاملے میں وہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی درپردہ حمایت کررہے ہیں ۔

ٹیم راوا نے اس سلسلے میں سندھ حکومت اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کا موقف جاننے کی کوشش کی جس میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *