b fungus 808x454

بھارت میں پھیلنے والی بیماری بلیک فنگس کیا ہے؟علامات اور وجوہات

115 views

بھارت میں کورونا وائرس کی لہر کے ساتھ شہریوں میں بلیک فنگس جیسی ایک اور جان لیوا بیماری خطرناک حد تک پھیل رہی ہے ، جس سے متاثرہ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی جان بچانے کیلئے آنکھیں نکال لی گئی ہیں۔

غانیہ نورین

بھارت میں خونی وباء کا قہر برقرار ہے جہاں روزانہ کی بنیاد میں لاکھوں کی تعداد میں مثبت کیسز اور اموات نئے عالمی ریکارڈ بنارہے ہیں وہیں بھارتی شہریوں میں میوکورمائیکوسس یعنی بلیک فنگس جیسی بیماری بھی خطرناک حد تک پھیل چکی ہے۔

میوکورمائیکوسز نامی یہ انفیکشن اتنا عام نہیں مگر اس سے موت کی شرح 50 فیصد بتائی جا رہی ہے۔  کورونا سے پہلے سال میں اس بیماری کے تین، چار کیسز سامنے آتے تھے لیکن اب روزانہ 6 افراد اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔  صرف راجستھان میں ہی 15 سو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے اکثریت کی عمر 20 سال سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کے بعد بھارت میں ایک اور جان لیوا بیماری کا حملہ

 بھارتی میڈیا کے مطابق کالی پھپھوندی کورونا میں مبتلا اور اس سے صحت یاب ہونے والے ہزاروں مریضوں کو متاثر کررہی ہے جب کہ اس ہلاکت خیز بیماری کا کوئی موثر علاج نہ ہونے اور ادویات کی قلت کی وجہ سے بیماری کو دماغ تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ہزاروں مریضوں کی آنکھوں کے ڈیلے اور پتلیاں نکال دی گئی ہیں۔

بھارت کی بہت سی ریاستوں میں اسپتال کالی پھپھوندی سے متاثرہ مریضوں سے بھر چکے ہیں جب کہ اس بیماری میں مبتلا 60 فیصد مریضوں کی ایک یا دو آنکھیں نکال دی گئی ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹر کی مغربی ریاستوں میں نصف سے زیادہ بلیک فنگس کے مریضوں کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

کم از کم 15 سے زیادہ ریاستوں میں آٹھ سے 900 کے درمیان مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ انڈیا میں اب 29 ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ بلیک فنگس کو وبا قرار دیا جائے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں بلیک فنگس انفیکشن کے علاج کے نئے وارڈ تیزی سے بھر رہے ہیں۔ جبکہ اینٹی فنگس ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا دیوی :بھارت واسی قوم پرستی کے بوجھ تلے

بلیک فنگس کیا ہے؟؟

میوکورمائیکوسز کو سائنس میں ’زگومائی کوسز‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری فنگس کی نسل ’میوکوریلز‘ سے پھیلتی ہے۔

اس نسل کا فنگس ماحول میں عام پایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ مٹی میں بھی ہوتا ہے اور پھل یا سبزی جیسے نامیاتی مادے کے زمین میں گلنے سڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔

فنگس کی اس قسم سے انسانوں میں ’ریزوپس اوریزا‘ نامی انفیکشن ہوتا ہے۔ انڈیا میں فنگس کی اسی نسل کی ایک اور قسم پائی جاتی ہے جس کا نام اپوفیسو مائیسیز ہے۔ یہ ٹراپیکل یعنی گرم اور مرطوب علاقوں میں عموماً پایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوویڈ19: بھارت میں لاشوں کا انبار،حالات خراب کیسے ہوئے؟؟

لیبارٹری میں یہ فنگس تیزی سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی شکل سیاہ براؤن ہوتی ہے مگر دھندلی دکھائی دیتی ہے۔

انسانوں میں بیماری پھیلانے والے یہ فنگس جسمانی درجہ حرارت اور تیزابیت کے ماحول میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب کوئی ٹشو مردہ حالت میں ہو، بے جان ہونے کے قریب ہو یا بے قابو ذیابیطس سے متاثر ہو۔

علامات کیا ہیں؟؟

بلیک فنگس کی علامات میں ناک کے سیاہ پڑنا یا رنگ تبدیل ہونا، دھندلا یا دہرا نظر آنا، سینے میں درد، سانس لینے میں تکلیف اور کھانسی میں خون آنا شامل ہیں۔

بلیک  فنگس کے اثرات

یہ ایسے لوگوں کو متاثر کرتا ہے جن کا مدافعتی نظام پہلے سے کمزور ہوتا ہے یا ان کا کوئی ٹشو کمزور ہوتا ہے۔کالی پھپھوندیاں انسانی دماغ، پھیپھڑوں یا پھر ناک/ حلق میں جڑیں بنا لیتی ہیں اور بڑھنا شروع کردیتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر آکسیجن کی بھیک مانگتی عوام

بھارت میں بلیک فنگس کی وجہ؟؟

طبّی ماہرین کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ میں کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والے سیکڑوں افراد میں کالی پھپھوندی ہی یا تو موت کی وجہ بنی ہے یا پھر خطرناک آپریشن کے بعد انہیں متاثرہ اعضاء سے محرومی اور معذوری کا شکار ہونا پڑا ہے۔

بھارت میں اس بیماری نے سب سے پہلے کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا تاہم اب یہ بیماری دیگر افراد میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

Source:Media Reports
Content : Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *