india twitter 808x454

کیا بھارت میں ٹوئٹر بند ہورہا ہے؟؟

16 views

بھارت میں فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ پر پابندی کا امکان ہے تاہم انہیں پابندی سے بچنے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے جو آج (26 مئی) سے موثر ہونگے۔

غانیہ نورین

فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور واٹس اپ میسنجر کو پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اگر وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے قوانین پر عمل نہیں کرتے جو 26 مئی سے موثر ہوں گے۔

مقامی مائیکرو بلاگنگ ایپ ’بیرنگ کو‘ کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری سوشل میڈیا کمپنی نے نئے قواعد کی تعمیل نہیں کی ہے۔

حکومت نے فروری میں فیس بک ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میسنجر سے کہا تھا کہ وہ آئی ٹی کے نئے قواعد کی تعمیل کریں۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نئے قوانین کی تعمیل کرنا ہے اور آپریشنل پراسیسز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔

نئے قوانین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اضافی مناسب احتیاط کی پیروی اور چیف کمپلائنس افسر، نوڈل رابطہ افسر اور رہائشی شکایت افسر کی تقرری مطلوب ہے۔

مزید پڑھیں: مان نہ مان میں تیرا مہمان ،اسرائیل کی حمایت پر بھی بھارت نظرانداز

اگر فیس بک ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میسنجر قوانین کی پاسداری نہیں کرتے تو یہ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی ثالث حیثیت کھو سکتی ہیں۔ ثالث حیثیت کے باعث تیسرے فریق کی معلومات اور ان کے پلیٹ فارم پر موجود ڈیٹا کے لئے انہیں ذمہ داریوں سے استثنیٰ حاصل ہے۔

دہلی پولیس کا کنٹری ڈائریکٹر کو نوٹس

دوسری جانب بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے کنٹری ڈائریکٹر کو ایک پوسٹ ٹیگ کے معاملے پر نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹوئٹر پرایسی ایک پوسٹ کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان نے بھی ٹیگ کیا تھا۔ٹویٹر نے اس کو’’مسخ شدہ میڈیا‘‘ کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مفاد پرست بھارت کا ٹوئٹر پر بھی قبضہ،مودی اور ٹوئٹرآمنے سامنے

وزیراعظم نریندرمودی کی جماعت بی جے پی کے لیڈروں نے حال ہی میں ٹوئٹر پر ایک دستاویز کے بعض حصے جاری کیے تھے اور یہ کہا تھا کہ اس دستاویز کو حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے تخلیق کیا تھا۔اس میں مودی حکومت کی کووِڈ-19 کی وَبا سے نمٹنے میں ناکامی کو اجاگر کیا گیا تھا۔

کانگریس نے ٹویٹر کو یہ شکایت کی ہے کہ یہ دستاویز من گھڑت ہے۔اس کے بعد امریکی کمپنی نے بعض پوسٹوں کو نشان زد کیا تھا۔ان میں سے ایک بی جے پی کے ترجمان سمبیت پترا کی بھی تھی۔ اس کو ٹوئٹر نے’’مسخ شدہ میڈیا‘‘کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

دہلی پولیس نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو سمبیت پترا کی ٹوئٹ کی درجہ بندی سے متعلق ایک شکایت موصول ہوئی ہے اوراس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ حکام کی ایک ٹیم تحقیقاتی نوٹس دینے کے لیے ٹوئٹر کے علاقائی دفتر میں گئی ہے۔

مزید پڑھیں: “خانہ جنگی کی جھوٹی خبریں: بھارتی میڈیا “شرم تم کو مگر آتی نہیں

پولیس کے مطابق ٹوئٹرانڈیا کے ایم ڈی کا جواب بہت ہی مبہم تھا۔اس لیے ٹیم ٹوئٹرکے دفتر میں گئی ہے تاکہ کسی ذمہ دارشخص کو نوٹس تھمایا جاسکے۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ’’مسخ شدہ میڈیا‘‘ کا ٹیگ ان پوسٹوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں ایسی ویڈیوز ،آڈیو اور امیجز شامل ہوتے ہیں جنھیں دھوکا دہی سے تبدیل کیا گیا ہو یا جعل سازی سے بنایا گیا ہے۔تاہم اس نے اس معاملے پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: اداکارہ کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ۔۔مگر وجہ کیا تھی ۔۔؟؟

واضح رہے کہ ٹوئٹر کی بھارتی شاخ اورمودی انتظامیہ کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔بھارتی حکومت کروناوائرس کی وبا کے دوران میں کئی مواقع پر سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم سے اپنے خلاف تنقیدی پوسٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

مودی حکومت نے گذشتہ ماہ ٹوئٹر سے بیسیوں ٹویٹس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ان میں سے بعض مقامی قانون سازوں نے پوسٹ کی تھیں۔ان میں کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بھارت میں اب تک کووِڈ-19 کے دوکروڑ ساڑھے67لاکھ کیسوں کی تصدیق کی ہے۔امریکا کے بعد وہ کروناوائرس کے کیسوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پرہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہریوں کی مودی پرجوتوں اور چپلوں کی برسات

بھارت میں اب تک کووِڈ-19 سے تین لاکھ سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔اسی بناپر مودی حکومت کو کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔

Source:Media Reports
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *