RR 808x454

کورونا ویکسین : میگنٹ چپ اور بلب کے بعد اب مرنے کی افواہ

97 views

دنیا بھر میں جہاں کورونا ویکسی نیشن کا عمل کا جاری ہے وہیں ویکسین سے متعلق من گھڑت اور جھوٹی افواہوں کا بھی بازار گرم ہے۔

غانیہ نورین

پاکستان میں اس وقت کورونا ویکسی نیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے جہاں معمر حضرات کے بعد اب ملک بھر کے نوجوانوں کو عالمی وباء سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جارہی ہے۔

مگر اس دوران سوشل میڈیا بازو پر میگنٹ چپکنے سے لیکر بلب جلنے تک کی جھوٹی ویڈیوز کا گڑھ بن گیا ، جسے دیکھ کر لوگوں میں کورونا ویکسین سے متعلق تشویش پائی جارہی ہے جبکہ کئی افراد نے ویکسین لگانے کا ارادہ بھی ترک کردیا تو کئی باشعور افراد نے ویڈیوز کو سازشی جال قرار دیا ہے۔

پاکستان میں ایسی دلچسپ افواہیں آئے روز سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں جس کے بعد صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے ان کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہیں۔

مزید پڑھیں: جسم میں چپ لگ گئی؟؟ ویکسی نیشن سے ہوگئی سب کو ٹینشن

ایسی ہی ایک افواہ واٹس ایپ پر موضوع گفتگو ہے جس میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان لوک مونٹگینیئر سےمنسوب بیان شیئر کیا جا رہا ہے کہ ’تمام ویکسینیٹڈ لوگ دو سال کے اندر ہی مر جائیں گے۔

تاہم جعلی خبروں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق لوک مونٹگینیئر کے ویڈیو انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پھیلایا گیا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وبا کے دنوں میں ویکسین لگوانا ناقابل یقین ہے کیونکہ اس سے وائرس مزید طاقتور ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سائنسدان لوک مونٹگینیئر سے متعلق سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے بیان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

انڈین میگزین انڈیا ٹو ڈے کے اینٹی فیک نیوز وار روم کے مطابق بھی اگرچہ لوک مونٹگینیئر نے اپنے انٹرویو میں یہ ضرور کہا ہے کہ ’وبا کے دوران لوگوں کو ویکسین لگانا ایک ناقابل قبول غلطی ہے۔‘ لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جن افراد نے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین لگوائی ہے وہ دو سال میں مر جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی مہم میں فیس بک بھی آگے

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ پیغام مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے پھیلایا گیا جبکہ اس پیغام کو اردو میں ترجمہ بھی کیا گیا جس کے بعد پاکستانی صارفین میں ویکسین کے حوالے سے اضطراب دیکھا گیا جبکہ کچھ نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ خبر غلط ہے۔

دوسری جانب دو سال بعد مرجانے والی خبر سے خوفزدہ ہوگئے اور اپنے کم وقت رہ جانے کے بارے میں سوچنے لگے تو کچھ صارفین نے پہلے کی طرح  اس خبر کو بھی جھوٹی افواہ قرار دیا ۔

 

خیال رہے کہ روئٹرز کا کہنا ہے کہ لوک مونٹگنیئر کو 2008 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ مونٹگنیئر پر ایچ آئی وی اور قوت مدافعت پر تبصرے کے حوالے سے بھی تنقید کی گئی تھی۔

ان کو سارس کو 2 جو کورونا وائرس کا سبب ہے، کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایک لیبارٹری سے پھیلا ہے۔

Source:Urdu News
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *