india varient 808x454

پاکستان میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کا پہلا کیس رپورٹ

82 views

ملک میں عالمی وباء کی مہلک بھارتی قسم کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی میں بھارتی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

غانیہ نورین

بھارت میں تباہی اور قہر برسانے کے بعد کورونا وائرس کی مہلک قسم نے پاکستان کا بھی رخ کرلیا، کوویڈ19 کی انڈین ویرینٹ کا پہلا کیس پاکستان پہنچ چکا ہے۔

این سی او سی نے کورونا وائرس کی بھارتی قسم سے متاثر ہونے والے پاکستانی شہری کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی مسافروں کی مؤثر اسکریننگ اور قرنطینہ سے ملک کو وائرس کی قسم (B.1.617.2) کے ثانوی انفیکشنز سے بچا لیا گیا۔

اپنے بیان میں سینٹر نے قوامی ادارہ صحت (این آئی ایچ) سے موصول تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قسم 39 سالہ پاکستانی شہری میں پائی گئی جنہیں کوئی علامت نہیں تھی، شہری کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ خلیجی ملک سے لوٹے تھے۔

مزید پڑھیں: کوویڈ19: بھارت میں لاشوں کا انبار،حالات خراب کیسے ہوئے؟؟

بیان میں کہا گیا کہ یہ کیس 8 مئی کو بین الاقوامی مسافروں کے لیے لگائے گئے اسکرین نظام کے ذریعے سامنے آیا اور ایئرپورٹ پر مسافر کا ریپڈ ٹیسٹ مثبت آیا، جس کے بعد انہیں ایس او پیز کے تحت سرکاری مرکز میں قرنطینہ کردیا تھا جہاں ان کے پی سی آر ٹیسٹ نے بھارتی قسم کی موجودگی کی تصدیق کی۔

این سی او سی نے کہا کہ تاہم مسافر میں قرنطینہ کے دوران معمولی علامات تھیں اس لیے انہیں مکمل صحتیاب ہونے اور ضروری آئیسولیشن مکمل کرنے کے بعد ضروری ہدایات کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے مسافر کے اہلخانہ اور رابطہ رکھنے والے دیگر افراد کو ٹریس کرکے نمونے لیے جو منفی آئے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر آکسیجن کی بھیک مانگتی عوام

این آئی ایچ کی ٹیم دوران سفر ممکنہ طور پر ان سے رابطے میں آنے والوں کو ٹریس کر رہی ہے تاکہ دیگر افراد کے متاثر ہونے کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔

کورونا کی ’بھارتی‘ قسم کیا ہے؟

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں پھیلنے والا ’ڈبل میوٹنٹ کورونا وائرس‘ کیلیفورنیا، برطانیہ اور جنوبی افریقا میں پائی گئی کورونا وائرس کی نئی اقسام سے مل کر بنا ہے۔

بھارت میں ڈبل میوٹنٹ کورونا وائرس کی منتقلی کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ اس کے علاہ بھارت میں کورونا کی نئی قسم ’اے پی‘ بھی بیماری پھیلانے میں پہلے دریافت ہونے والی کورونا کی بھارتی اقسام سے 15 گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے۔

LGA responds to COVID-19 vaccine announcement | Local Government Association

بھارت کے سیلولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی سینٹر کے ماہرین کے مطابق ’اے پی ویرینٹ‘ بھارت میں پہلے سے موجود کورونا کی نئی اقسام سے بہت زیادہ طاقتور ہے اور یہ وائرس منتقلی کی 15 گنا زیادہ صلاحیت کا حامل ہے۔

کورونا کی نئی اقسام سے کورونا مریضوں کی حالت تین یا چار دنوں میں تشویشناک ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: این سی او سی کا شادی ہالز،تعلیمی ادارے اور سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ

خیال رہے کہ ملک میں کورونا کا خونی وائرس مزید 43 افراد کی جانیں نگل گیا جب کہ 2 ہزار 117 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس وقت ملک میں کورونا کے مجموعی مصدقہ مریضوں کی تعداد 9 لاکھ 21 ہزار 53 ہوگئی ہے جبکہ ملک میں اس وبا سے جاں بحق ہونے والوں کی مصدقہ تعداد 20 ہزار779 ہے۔

Source: Media Reports
Content :Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *