.انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن

.انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن

24 views

عالمی ادارہ صحت نے تمباکو کی تباہ کاریوں کی وجہ سے 1987ء سے 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کے نام سے منانے کا اعلان کیا جو آج تک منایا جاتاہے۔

صبحین عماد

سگریٹ نوشی و تمباکو نوشی ایک طرف خون پسینے کی کمائی کو دھویں میں اڑانے کا موجب ہے تو دوسری طرف تپ محرقہ،کینسر،پیھپڑوں ،دل،دماغی بیماریوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔دنیا بھر سمیت پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سگریٹ نوشی کا استعمال تیزی سے پھیل رہاہے۔عالمی اداری صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے باعث ہر چھ سیکنڈ میں ایک شخص موت کے منہ میں جا رہا ہے۔

دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کی شرح بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے 2019 میں 1.1 ارب افراد تمباکو کے عادی ہوئے؛ تمباکو نوشی کرنیوالوں کی مجموعی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ایک تحقیق میں کہا گیا ہے محققین کو پتہ چلا کہ دراصل شرح 1990 سے کم ہوئی ہے لیکن آبادی میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے اندازے کے مطابق عالمی سطح پر تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 1.3 ارب ہے لیکن شرحوں کا رجحان آخر کار نیچے کی جانب ہے۔

تجزیے میں سال بہ سال خرابی نہیں پیش کی گئی لیکن خبردار کیا کہ پچھلے 30 سالوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی اصل تعداد میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین تعلیم نے تخمینہ لگایا کہ 1990 سے، جب صرف 900 ملین تمباکو نوشی کرنے والے تھے، مردوں میں شرح 27.5 فیصد اور خواتین میں 37.5 فیصد تک کم ہوئی ہے ۔ محققین کے مطابق دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والے تمام افراد میں سے 30 فیصد (341 ملین) چین میں ہیں۔ ٹیم نے یہ تخمینہ بھی لگایا کہ برطانیہ کی تعداد 10 ملین کے لگ بھگ ہے جو دوسرے اندازوں سے قدرے زیادہ ہے۔ اسی اعداد و شمار میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ تمباکو نوشی سے 7.7 ملین اموات ہوئیںجن میں دنیا بھر میں پانچ اموات میں سے ایک مرد کی موت شامل ہے اور 89 فیصد نئے سگریٹ نوشی کرنے والے 25 سال کی عمر تک نشے کے عادی ہوگئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی عالمی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کی مستقل طور پر اعلیٰ شرحوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔

اگرچہ سگریٹ کی تشہیری مہم پر پابندی سے اس کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی ہوئی لیکن دفاتر،تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر اس کے کھلے عام استعمال کی روک تھام بارے سخت قوانیں بنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔سالانہ اربوں روپے کا ریونیو،سگریٹ نوشی اور درآمد کی مد میں اٹھنے والی ہولناک بیماریوں کے علاج میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی نذر ہو کر ضائع ہو رہا ہے

سگریٹ نوشی کے صحت پر ضمنی اثرات کی بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سگریٹ نوش کو لمحہ بہ لمحہ قبرستان کی طرف گھسیٹنے والی بیماریاں چاروںاطراف سے گھیر لیتی ہیں۔ تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں میں بعض کا خیال ہے کہ حقہ سگریٹ کی نسبت کم خطرناک ہے حالانکہ یہ خام خیالی ہے حقہ زیادہ دیر کش لگانے کی بنا پر سگریٹ سے بھی مضر ہے ۔سگریٹ سے دماغ کو خون کی فراہمی کی کمی سے یاداشت،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور استدلال کی قوتیں شدید متاثر ہوتی ہیں۔سگریٹ پھیپھڑوں کے خلیوں کو تباہ کر کے کینسر کا مؤجب بنتے ہیں

source: media reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *