ویگو ڈالا مرد کے بچے اور بغیر نوکری کے مرتے سسکتے صحافی

ویگو ڈالا مرد کے بچے اور بغیر نوکری کے مرتے سسکتے صحافی

220 views

اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صٖحافت کرنا کسی بھی دور میں آسان نہیں رہا ۔ ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ صحافی صرف “مثبت رپورٹنگ” ہی کریں اور سچ وہاں تک محدود رکھیں جہاں تک حکومت وقت کو گزند نہ پہنچے اور بادشاہ سلامت کو برا نہ لگے ۔

فہمیدہ یوسفی

جی حضوری پر تمغے بٹنا آج کی روایت نہیں اور بغاوت پر سر قلم کرنا بھی کچھ انوکھا نہیں ۔ سر جھکا کر چلنے والے رسم وفاداری کے امین اور سر اٹھا کر چلنے والے تو ہردور کے ہی غدار ہوتے ہیں ۔

اقتدار کی شطرنج پر مہرے سجانے والے اور اپنی مرضی سے پیادوں کو آگے پیچھے کرنے والوں کو کھیل میں بگاڑ اچھا نہیں لگتا اور اسی لیے صحافی تو ہر دور میں ہی معتوب ٹہرے غدار ٹہرے ایمان فروش ٹہرے ۔ ان میں سے کسی کے مقدر میں جیل ، کسی کے نصیب میں کوڑے تو کسی سرپھرے کی نوکری سے برخاستگی اور کسی کسی دیوانے مںصور کے لیے گولیاں بھی لکھ دی جاتی ہیں۔ لیکن یہ بھی تو پاگل ہیں نا کسی صورت ہار ماننے کو تیار نہیں کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں آوازدبادینے سے آواز بند تو نہیں کی جاسکتی ہے۔

عجیب تماشہ ہے جب مسند اقتدار پر ہوں تو یہی صحافی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں جبکہ جب یہی پیادے مسند اقتدار سے اتر جاتے ہیں تو یہ کانٹے آنکھوں کا تارا بنے ہوتے ہیں۔

یہ تو آج کا المیہ نہیں ہے یہ تو ہر دور کا دکھ ہے جس کے نشانے پر صرف صحافی ہوتے ہیں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار صحافت کے لیے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے اور اس کی ایک اور تشویشناک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر دور آمرانہ رہا جس کی وجہ سے جہموری روایات شاید اس طرح نہیں پنپ سکیں جس طرح ہونا چاہیے تھا ۔

Opinion: The decline of media freedom in Pakistan - A journalist tells his story | DW Freedom | Speech. Expression. Media. | DW | 10.12.2019

ریاستی اداروں کا عمل دخل بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے جبری گمشدگیاں اور ان پر حکومتی خاموشیاں بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور اس بات سے ہرگز بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعلقات میں سنگین فالٹ لائن موجود ہے جبکہ تاثر یہی ہے کہ جو بھی مزاج پر گراں گزرے یا پھر لگے کہ شاید حدود کراس کررہے ہیں وہی قصوروار ٹہرتے ہیں اور ان کو سنگین قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعلقات میں بہتری کی کوشش اس جانب سے بھی کی جاتی ہی رہی ہے اور آج انگلیاں اٹھانے والے کل وہاں مہمان بن کر موجود ہوتے تھے اور کبھی میزبان بن کر حق میزبانی بھی ادا کرتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ صحافی برادری کے مسائل کے حل کیلئے پرعزم

اگر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی 2020 کی رپورٹ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ 30 برسوں میں دنیا بھر میں جو صحافی قتل ہوئے ان میں پاکستان، عراق، میکسیکو اور فلپائن کے بعد چوتھے نمبر پر موجود ہے جہاں ان تیس سالوں میں 138 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔

صحافیوں کے خلاف 148 واقعات میں سے 51 اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

Draconian Laws Threaten Press Freedom in Pakistan - CJFE | Canadian Journalists for Free Expression

اس دوران سات صحافی قتل ہوئے سات پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا کیا گیا اور 25 گرفتار ہوئے، 15 کو زدو کوب کیا گیا جبکہ 27 پر مقدمات درج کئے گئے۔

تواتر سے ہونے والے واقعات میں تازہ ترین مبینہ حملہ اسد طور پر ہوا جن کو ان کے فلیٹ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ پانچ ہفتے پہلے ابصار عالم کو اسلام آباد میں گولی ماری گئی۔ جبکہ پچھلے سال جولائی میں مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا اور اسی طرح اعزاز سید کا واقعہ سامنے آیا جس میں انگلیاں ایک جانب ہی اٹھائی گئیں ۔

تاہم کیا تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھنا چاہیے کیا بغیر ثبوت اس طرح ایک طرف انگلیاں اٹھانا درست ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ قانون کے دائرے ان کے لیے نہیں ہیں ۔

مزید پڑھیں: صحافی اسد طور پر مبینہ حملہ ایک بار پھر خبروں کی زینت

تو کیا یہاں یہ سوال نہیں بنتا کہ صحافیوں کا بھی دائرہ طے ہو ان کو بھی مفادات کی جنگ میں کسی ایک طرف جھکنا نہیں چاہیے ۔سوشل میڈیا کے دور میں کیا ایک صحافی کا یا میڈیا ادارے کا واضح جھکاؤ ایک جانب ہونا بھی تو شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے ۔

اسد طور کے حوالے سے حامد میر کی شعلہ بیانی نے ہر طرف آگ لگادی ان کے ساتھ بڑے بڑے صحافی موجود تھے جب اسد طور کے اس مبینہ حملے پر حامد میر ریاستی اداروں کو چیلنج کررہے تھے۔مرد کے بچے ہونے کا طعنہ دے رہے تھے گھر کی باتیں بتانے کے اشارے دے رہے تھے ۔

Image

لیکن یہاں ایک سوال بنتا ہے اور وہ یہ کہ ملک میں اس وقت 43 بین الاقوامی اور 112 مقامی چینلز موجود ہیں لیکن مالکان کی جانب سے میڈیا ورکرز کی ایک بڑی تعداد کو بے روز گا کیا گیا کہیں وجہ معاشی تو کہیں وجہ سیاسی دباؤ بنی ہے تو کہیں میڈیا ورکرز مہینوں سے اپنی تنخواہوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے پھررہے ہیں ۔ اس پر کیا اس طرح سے آوازیں اٹھیں ہیں؟؟

مختلف صحافتی تنظمیں آوازیں اٹھاتی ہیں کبھی ان کی سن لی جاتی ہے اور کبھی نہیں کیونکہ شاید وہ بڑے اور مشہور صحافیوں جتنی مضبوط نہیں ہیں جو نہ صرف مالکان سے بلکہ اقتدار کے ایوانوں سے بھی قریب ہیں ۔

مزید پڑھیں: حامد میر اب کیپیٹل ٹاک نہیں کرینگے آخر وجہ کیا ہے؟

جس قدر شعلہ بیانیاں اور آوازیں اسد طور کے لیے اٹھ رہی ہیں کیا عام معمولی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے اٹھیں جو آج بھی ہاتھوں میں سی وی لیے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔ اس قدر تند و تیز لہجے میں ان مقتدر اور طاقتور حلقوں سے کیوں نہیں پوچھا کی یہ جو تڑپ تڑپ کر سسک کر مررہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟؟

اگر انگلیاں اور اشارے اس سمت اٹھ رہے ہیں جس سمت ویگو ڈالا ہے تو پھر یہ سوال ہمیشہ رہے گا کہ ملکی صحافت کے بڑے بڑے ناموں نےآج تک ہزاروں کی تعداد میں فارغ کئے گئے صحافتی ورکرز کے لئے اتنا غصہ کیوں نہیں دکھایا۔ کیوں نہیں پوچھا ریاست سے کیوں نہیں پوچھا اداروں سے کیوں نہیں پوچھا مالکان سے کیوں نہیں کہا کہ مرد کے بچے ہو تو جاب سے مت نکالو۔

کیونکہ شاید یہ عام سے مرتے سسکتے صحافی اتنے اہم نہیں ہیں جتنے اہم کچھ مفادات اور معاملات ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *