Corona 808x454

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی اقسام کو کونسے نئے نام دیئے ہیں؟

89 views

عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی اقسام کے ناموں کے لیے ایک نئے نظام کا اعلان کیا ہے جس میں یونانی حروف کا استعمال کیا گیا ہے۔

غانیہ نورین

سال 2020 کا آغاز دنیا میں عالمی وباء کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے شکار سے ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں اپنا جال بچھا دیا جس کے بعد سے اب تک اس جان لیوا وائرس کی کئی اقسام سامنے آچکی ہیں۔

جو سب سے پہلے سامنے آنے والے کورونا وائرس کے مقابلے میں کئی زیادہ طاقتور ثابت ہوئے ہیں، کورونا وائرس کی تیسری لہر سابقہ لہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس کی ایک کلیدی وجہ کورونا وائرس کی وہ نئی اقسام ہیں جو بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔

Covid-19 death toll seems Double this winter | Magazineup

عالمی ادارہ صحت عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی اقسام کے ناموں کے لیے ایک نئے نظام کا اعلان کیا ہے جس میں یونانی حروف کا استعمال کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کی نئی قسم،تیسری لہر پہلے سے بھی خطرناک

یعنی برطانیہ میں دریافت ہونے والی قسم کو ایلفا، جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی قسم کو بیِٹا، اور انڈیا میں دریافت ہونے والی قسم کو ڈیلٹا کہا جائے گا۔

نام یونانی حروف تہجی سے منسوب کیوں؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس مقصد اس حوالے سے بات چیت کو آسان بنانا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کے ناموں کے ساتھ جڑنے سے ان ممالک کے بارے میں منفی تاثرات کو رد کرنا بھی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کے پروفیسر برائے مائیکروبیئل جینومکس پروفیسر مارک پیلن اس گروپ کے رکن تھے جس نے یہ نئے نام تجویز کیے۔

How Long Does It Take to Get COVID-19 Results by Test Type?

انھوں نے کہا کہ ملکوں یا علاقوں کے ناموں سے وائرس کی اقسام کو منسوب کرنا جیسے کینٹ یا انڈیا کا مطلب یہ ہے کہ ’آپ نہ صرف درست بات نہیں کر رہے کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ وائرس کی یہ قسم اسی ملک سے نکلی ہو لیکن ساتھ ہی اس سے مختلف گروہوں کو رسوا بھی کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کا پہلا کیس رپورٹ

انھوں نے بی بی سی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے غیر جانبدار، میڈیا دوست نام رکھنا اہم ہے تاکہ اس سے جڑی رسوائی سے بھی بچا جا سکے۔

پیلن کا کہنا ہے کہ حالانکہ یونانی حروف تہجی درجن بھر ہی ہیں لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ انھیں اس سے زیادہ اقسام کو نام دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس سےقبل سائنسدانوں کو خدشہ تھا کہ ان کے ناموں کے لیے ایک ایسا نظام بنانا پڑے گا جس میں مختلف نام دینے کے ہزاروں امکانات ہوں گے۔

Source:BBC
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *