کنٹرول لائن پر بھارت- پاکستان کے مابین سیز فائر کا اعلان: اگلا قدم کیا ہو گا

کنٹرول لائن پر بھارت- پاکستان کے مابین سیز فائر کا اعلان: اگلا قدم کیا ہو گا

17 views

؟

پاکستان اور ہندوستان کے مابین معنی خیز اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے 5 اگست 2019 سے قبل جموں و کشمیرکی جمہوری حیثیت کی بحالی ، ہندوستان کے معاندانہ بیانیہ کا خاتمہ اور حکومت اور اس کے میڈیا کا مثبت کردار نہایت ضروری ہے۔

اسلام آباد میں سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی اے ایس ایس) کے زیر اہتمام کنٹرول لائن پر بھارت پاکستان کے مابین سیز فائر کے اعلان پر بحث کرنےکیلے منعقدہ ویبنار کا یہ اہم نتیجہ تھا۔۔

پاکستان اور بھارت کے مقررین نے26 فروری 2021 کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی طرف سے جاری جنگ بندی اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کےاعلان کا تنقیدی جائزہ لیا کہ آیا یہ اعلان محض اعتماد سازی کی کوشش تھا یا یہ دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی کے تمام امور پر ایک جامع بات چیت کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ دونوں اطراف کے مقررین نے امید ظاہر کی کہ بیک چینل مذاکرات باہمی تعلقات کی طرف راغب ہوں گے۔ تاہم ، اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ اس عمل کی راہ میں مختلف رکاوٹوں ، خاص طور پر بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے اور وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے تمام امیدوں پر شکوک و شبہات کے گہرے سائے ہیں۔

اپنے تعارفی ریمارکس میں ، سنٹر برائے ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سینئر ریسرچ فیلو محترمہ ستارہ نور نے خیال ظاہر کیا کہ امن کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے ، لیکن اس امن کی خواہش کا اظہار باہمی اور متفقہ طور پر ہونا چاہئے۔

پاکستان کی 26 ویں وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر نے اس بات پر زور دیا کہ کنٹرول لائن سے آگے بڑھنےاورباہمی معاملات کو آگے بڑہانے کیلیے ہندوستان کو 5 اگست 2019 کے فیصلے کو پلٹنا ہوگا۔ اس عمل کے شروع کیے بغیر کوئی مزید نقل و حرکت ممکن نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان کی عوام کبھی بھی اس کی تائید نہیں کرسکتی ہیں ، اور نہ ہی یہ پاکستان کی ریاست کےمفاد میں ہو گا۔ ان کے مطابق عقل مندانہ سفارت کاری کے ذریعے ہی مذاکرات کو ملک اور عوام کے لئے فاعدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہمیشہ سے بھارت کے طرف سےافغانستان کی سرزمین کو اپنے خلاف پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں بے حد خدشات لاحق رہے ہیں اور ان خدشات کے بارے میں دستاویزات ناصرف بین الاقوامی تنظیموں کے بلکہ ہندوستان کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہیپی مون جیکب کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی کا موجودہ معاہدہ گذشتہ 18 سالوں میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں غیر رسمی بیک چینل مذاکرات نے کلیدی کردار ادا کیا اور اس لئے ان کی تعریف کی جانی چاہئے۔ ان کا خیال تھا کہ مستقبل قریب میں بھارت پاکستان کے ساتھ تجارت اور دیگر امور جیسے کہ سر کریک پر بات چیت کرنے کو تیار ہوسکتا ہے۔ تاہم کشمیر کے بارے میں ہندوستانی فریق سست پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر جیکب نے یہ بھی بتایا کہ آرٹیکل 370 کا ریاست جموں و کشمیر میں واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم ، انہوں نے کہا کہ آج ایک حقیقی امکان موجود ہے کہ مذاکرات کے عمل کے طور پر جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کوبحال کردیا جائے گا۔

سینٹر برائے ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور سابق سیکرٹری خارجہ اور پاکستان کےسابق سفیر (ر) جلیل عباس جیلانی نے مشاہدہ کیا کہ جنگ بندی کے تسلسل اور نتیجہ خیز امن عمل کا آغازکاانحصار اعلی سطح پر سیاسی عزم پر ہوگا۔ وزیر اعظم مودی کو تنازعہ کشمیر اور پاکستان کی طرف جارحانہ انداز کے بارے میں سخت طریق کار کا جائزہ لینا ہو گا۔ جس میں قابل تصدیق معاہدے کی شکل میں جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز، لاک ڈاؤن کو ختم کرکے جموں و کشمیر میں کشمیریوں کوبنیادی سہولتوں کی فراہمی ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور امن عمل میں ان کی شمولیت جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں نائب صدر سنٹر برائے ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز اور سابق نائب چیف آف ایئر اسٹاف ، ایئر مارشل (ریٹائرڈ) فرحت حسین خان نے روشنی ڈالی کہ آرٹیکل 370 اور 35 -اے کو منسوخ کرنے سے جموں و کشمیر کے عوام کو شدید پریشانی لاحق ہوئی ہے۔ ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت اگر امن میں شراکت دار ہونے کا دعوی کرتا ہے تو اس کو اخلاص کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اوراس سلسلے میں پہلے قدم کے طور پرکشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اورکشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کی ضرورت ہے۔ نائب صدر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارت کو جموں وکشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں کرنے کے لئے آباد کاروں کو لانا بند کردینا چاہئے ، اس متنازعہ علاقے کی حیثیت کو 5 اگست 2019 سے پہلے کی طرف موڑنا ہوگا ، اس کے بعد پرامن ذرائع سے معاملات حل کرنے کے لئے جامع مزاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

Source PAF Media Affairs

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *