کون بال بال بچا،کون مظلوم ہے؟سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کی کی جبگ ۔۔

کون بال بال بچا،کون مظلوم ہے؟سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کی کی جبگ ۔۔

136 views

شوبز ستاروں کی دوستی اور پھر علیحدگی کے بعد سوشل میڈیا پر اداکاروں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے جس نے پورے ہی سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن حقیقت ہے کیا اور کس نے کس کو چھوڑ دیا

صبحین عماد

حال ہی میں ہانیہ عامر کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی تھی جس پر سوشل کی میڈیا صارفین نے ہانیہ عامر کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر تنقید کی کہ اس طرح کی ویڈیوز بنا کر ہانیہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں ویڈیو میں ہانیہ عامر عاشر وجاہت کے ساتھ ہیں اور وہ بیڈ پر کمبل اوڑھے لیٹے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر کی یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے، صارفین اس ویڈیو کو معاشی اقدار کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

 جبکہ سوشل میڈیا پر ہانیہ کی ویڈیو جنگل میں آگ کی طرح وائرل ہوئی صارفین کی جانب سے تنقید کے بعد ہانیہ عامر نے وہ ویڈیو ڈلیت کردی تھی جبکہ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انھیں روتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے انہون نے اپنی پوسٹ ایک لمبا چوڑا پیغام بھی دیا ۔

دوسری جانب  پاکستان میوزک انڈسٹری کے نوجوان گلوکار اور اداکارہ ہانیہ عامر کے سابقہ دوست عاصم اظہر کے حالیہ سوشل میڈیا پیغام نے مداحوں کو کشمکش میں مبتلا کردیا۔

گزشتہ روز عاصم اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مختصر مزاحیہ ویڈیو شیئر کی جو بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر کی فلم کے ایک سین پر بنائی گئی ہے۔

ویڈیو میں انوپم کھیر بھاگتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بال بال بچ گیا۔‘

عاصم اظہر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں ’الحمداللّہ‘ لکھا اور ساتھ ہی قہقہوں والا ایموجی بھی بنایا۔

گلوکار کے اس ٹوئٹ نے مداحوں کو کشمکش میں مبتلا کردیا صارفین کا کہنا ہے کہ عاصم اظہر نے ہانیہ عامر کی حالیہ وائرل ویڈیو پر یہ ردِعمل دیا ہے۔

ایک صارف نے گلوکار کے ٹوئٹ پر لکھا کہ ’ہانیہ بھابھی نے دھوکہ دے دیا۔

کہانی میں ایک اور موڑ آیا جب یہ ٹو ئٹ سوشل میڈیا پر ہر طرف وائرل ہوگیا اور صارفین کی جانب سے کہا گیا کہ عاصم نے ہانیہ عامر کی ویڈیو پر تنقید کے بعد ہی یہ پوسٹ شیئرکی ہے ۔

جبکہ اب عاصم اظہر کے حالیہ میم والے ٹوئٹ پر اداکارہ و ماڈل ہانیہ عامر کی جانب سے سخت الفاظ میں ردّعمل دیا گیا ہے۔

ہانیہ عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ یا تو سیلیبرٹی ہوسکتے ہیں یا تلخ ماضی۔‘

اداکارہ نے اپنے اس ٹوئٹ میں کسی کو مخاطب نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہانیہ عامر نے یہ ٹوئٹ عاصم اظہر کے حالیہ ٹوئٹ کے جواب میں کیا ہے۔

جبکہ اب سوشل میڈیا اور فنکار برادری میں بھی دو ٹیمیں بن گئی ہیں ایک وہ جو ہانیہ کی حمایت میں بول رہے ہیں جبکہ ایک وہ ہیں عاصم کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں

اور اب جب سوشل میڈیا پر اس جنگ نے ہر طرف ہلچل مچا دی ہے تو عاصم اظہر نے ایک تفصیلی پوسٹ ڈال کر خاموشی کو مکمل توڑ دیا ہے

انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں عاصم اظہر نے کہا کہ ” اب بات یہاں آ ہی گئی ہے تو گزشتہ ڈیڑھ سال سے وہ لوگ اور ان کے حمایتی  کہاں تھے جب ہر چیز کا نشانہ میں تھا، لوگ مجھے لگاتار ہراساں کر رہے تھے اور میرے خلاف باتیں کر رہے تھے، میں پورا ڈیڑھ سال خاموش رہا اور اب ایک ہی ایسی پوسٹ سے سب کے جذبات مجروح ہوگئے ہیں جو اصل میں کسی کیلئے تھی ہی نہیں ۔

گلوکار نے اپنی پوسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ پوسٹ اس لیے کی تھی کیونکہ وہ پچھے ڈیڑھ سال سے اپنے کام سے کام رکھ رہے ہیں اور بہت خوش ہیں، وہ اپنی فیملی کو وقت دے رہے ہیں اور بہترین موسیقی تخلیق کر رہے ہیں۔

گلوکار نے شکوہ کیا کہ جب پوری دنیا ” کٹ گیا، کٹ گیا” کہہ کر مزے لے رہی تھی تو ان کی مدد کیلئے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا، کچھ لوگ تو اپنی پوسٹس کے نیچے میرے خلاف کیے گئے کمنٹس کو پِن کر رہے تھے۔ بالواسطہ کیپشن بھی لکھ رہے تھے، لائیو سیشنز میں میرے بارے میں باتیں کر رہے تھے، اور اب سب کچھ کرکے مظلوم بن رہے ہیں؟ منافقت کی بھی حد ہوتی ہے۔

گلوکار نے واضح کیا کہ ہانیہ عامر کا ٹاپک آج کے بعد ان کیلئے بند ہوگیا ہے، ویسے تو پہلے سے ہی یہ بند تھا اور انہوں نے اس بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا لیکن اب کچھ لوگوں بتانا ضروری ہے کہ انسان کی سننے کی بھی حد ہوتی ہے، اگر آپ انسان ہیں تو میں بھی انسان ہی ہوں، اس وقت جو بھی ہو رہا ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے، امید ہے کہ سب لوگ اس سے سبق حاصل کریں گے۔

source: media reports
content: Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *