مندر کی سیکیورٹی کیلئے مودی سرکار کس سے خوفزدہ ہے؟؟

مندر کی سیکیورٹی کیلئے مودی سرکار کس سے خوفزدہ ہے؟؟

19 views

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندوانتہا پسند بی جے پی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے معروف گورکھ ناتھ مندر کے قریب رہائش پذیر مسلمان خاندانوں کو سیکیورٹی کے نام پر ہٹانے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

غانیہ نورین

یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری دنیا میں کسی بھی ملک میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں قیام پذیرنہیں جتنی تعداد میں بھارت کے اندر ہیں۔ جوباقاعدہ اسلامی ممالک ہیں، ان میں بھارت کے مقابلے میں تعداد کم ہے۔ 20 کروڑ مسلمان بھارت کے  شہری ہیں مگروہ ایسی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں کہ بھارت جیسی بڑی طاقت سے اپناتعلق ظاہرکرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ اتنی بڑی آبادی جومختلف ریاستوں اور صوبوں میں مقیم ہے مگر مسلسل ظلم وستم اورتشددکاشکار ہے۔

آئے دن عالمی اور ملکی میڈیا سمیت پاکستانی میڈیا پر بھی بھارتی مسلمانوں کے ساتھ پیش آئے بربریت کی درد ناک داستانیں ٹی وی چینلز پر شہ سرخیاں بنی رہتی ہیں جہاں ٹی وی اینکرز مودی سرکار کی بے حسی کی رپورٹ پیش کرتے نظر آتے ہیں مگر نام نہاد سیکیولر ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حال ہی میں بھارتی میڈیا سمیت عالمی براڈ کاسٹرز پر ایک بار پھر مسلمانوں پر ڈھائے مودی سرکار کی ہندوپسندانہ رویے کی گونج سنائی گئی، جس کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں سخت گیر ہندو نظریاتی موقف رکھنے والے بی جے پی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے معروف گورکھ ناتھ مندر کے وسیع و عریض احاطے کے قریب 125 برسوں سے رہائش پذیر مسلمان خاندانوں کو ’مندر کی سکیورٹی‘ کے نام پر ہٹانے کی کارروائی شروع کی ہے۔

مزید پڑھیں: یوگا گرو رام دیو کے خلاف ملک بھر میں ڈاکٹروں کا یوم سیاہ

مندر کے قریب رہائش پذیر جن 11 مسلمان خاندانوں کو ہٹانے کی ’جبری کارروائی‘ شروع ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ ’ڈرا دھمکا‘ کر ان سے ایک کاغذ پر دستخط لیے گئے ہیں جس پر کسی سرکاری محکمے کا نام لکھا تھا نہ سرکاری عہدیدار کا۔

تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انڈین ریاست اتر پردیش کے شہر گورکھپور کی انتظامیہ نے ایک قدیم مندر کے قریب بسنے والے مسلمانوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرنے کی تردید کی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اتوار کو گورکھپور ضلع کے مجسٹریٹ کے وجیندرا نے  کہا کہ ’ہم کسی کو گھر چھوڑنے کے لیے مجبور نہیں کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مئی کے آخر میں 11 مسلمان خاندانوں کو جاری ہونے والے نوٹس کے بارے میں کہا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ معاہدے کے مطابق مرضی کے بغیر کوئی زمین نہیں حاصل کر سکتا۔

مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی خدشات‘ کے باعث مندر کے گرد زمین خریدی جا رہی ہے، یہ کارروائی اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی رہنما یوگی ادیتیا ناتھ کی سربراہی میں ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا دیوی :بھارت واسی قوم پرستی کے بوجھ تلے

یوگی ادیتیا ناتھ گورکھناتھ مندر کے پنڈت ہیں۔ یہ مندر 50 ایکٹرز پر محیط ہے اور ریاست میں رہنے والے ہندو اسے مقدس سمجھتے ہیں۔

ضلع حکام کے مطابق 80 سے زیادہ مسلمانوں کو 27 مئی کو نوٹسز جاری ہوئے جن میں انہیں گھر چھوڑنے کے لیے کہا گیا تاہم ان فیملیز نے الزام لگایا ہے کہ انہیں گھر خالی کرنے کے نوٹس پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔

خیال رہے کہ گوکھپور میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کھڈیوں پر کام کرتی ہے جس کا رواج ختم ہونے سے وہ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ اور اب وہ چھوٹے موٹے سٹورز پر کام کرتے ہیں اور آبائی گھر ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

Source: Media website
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *