ایک اورہولناک ٹرین حادثہ پاکستان میں ٹرین کا سفر اتنا خطرناک کیوں ؟؟

ایک اورہولناک ٹرین حادثہ پاکستان میں ٹرین کا سفر اتنا خطرناک کیوں ؟؟

135 views

راوا نیوز کے مطابق پا کستان میں پیر کی  صبح کا آغاز اس بری خبر کے ساتھ ہوا ہے  کہ ڈہرکی کے قریب ریتی  ریلوے اسٹیشن پر دو ٹرینیں  ملت ایکسپریس سے سرسید ایکسپریس  ایک دوسرے ٹکرا گئی ہیں  ۔  ٹرینوں کے ٹکراؤ کا  یہ حادثہ  ڈہرکی اور ریتی ریلوے اسٹیشن کے  درمیان پیش آیا۔

فہمیدہ یوسفی

اس خوفناک تصادم کا شکار ہونے والی ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جا رہی تھی۔

تاحال راوا نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس بدنصیب سفر پر جانے والے 40   افراد جان بحق ہوچکے ہیں  جبکہ  100   سے  بھی  زائد زخمی ہیں، جبکہ حادثے میں 7 بوگیاں متاثر ہوئی ہیں جن میں 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں

مزید پڑھیں: گھوٹکی:دو ٹرینوں میں تصادم ،30 افراد جاں بحق ،درجنوں زخمی

جاۓ وقوعہ پر  6 سے 8 بوگیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی ہیں، ان بوگیوں میں متعدد مسافر تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔

جنہیں نکالنے کے لیے بوگیوں کو کاٹا جارہا ہےجب کہ مقامی ریسکیو رضاکار کے علاوہ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق گھوٹکی کے قریب حادثے کے باعث کراچی ڈویژن میں دو انفارمیشن سینٹر قائم کیئے گئے ہیں۔

Prime Minister's Office, Pakistan on Twitter: "PM @ImranKhanPTI expresses grief over the horrific train accident at Ghotki, which claimed lives of 30 passengers. The PM has asked Railway Minister to provide all-out

یہ انفارمیشن سینٹر کراچی کینٹ اور حیدرآباد میں قائم کیئے گئے ہیں۔

حادثے کے متعلق معلومات کے لیئے کراچی اور حیدرآباد  میں درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

Cantt Station Karachi

1) 0331-2716334 (Essa Zardari)

2) 0300-3754200 (Khurram)

Hyderabad

1) 022 9200483

2) 022 9200258

3) 022 9200678

4) 022 9200674

ریلوے حکام نے حادثے کی تحقیقات کے لیے 21 گریڈ کے افسر کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔

ریلوے ترجمان کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 15 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے،

جبکہ زخمیوں کو ان کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے کم سے کم ایک لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ٹرین حادثے پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھوٹکی میں ریلوے کے المناک حادثے پر سکتے میں ہوں، ریلوے کے وزیر کو موقع پر پہنچ کر زخمیوں کی طبی امداد کی ہدایت کر دی ہے۔

وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ تیز گام کی انکوائری رپورٹ:حادثہ کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار

وزیر اطلاعات فواز چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں  کہا ہے کہ وزیر اعظم نے تحقیقات کا کہا ہے دہشت گردی ہے یا تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی ابھی کہا نہیں جا سکتا۔

جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوۓ کمشنر سکھر کو فون کرکے  ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں جبکہ صلعی انتظامیہ کو ریلوے حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی تاکید کی ہے

ملت ایکسپریس اور سرسید کیسے ٹکرا گئی؟؟

راوا  نیوز کو ملنے والی اطلاعات  کے مطابق  ملت ایکسپریس کی 6 بوگیاں ٹریک اتر کر دوسری ٹریک پر چلی گئیں، جبکہ اسی دوران مخالف سمت سے آنے والی سر سید ایکسپریس بھی پہنچ گئی اور ملت ایکسپریس کی اتری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

 غور طلب بات یہ ہے کہ سندھ میں سکھر ڈویژن  ٹریک  کے حالات   بہت خراب ہیں اور  ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق  یہ ٹریک 13  جگہ سے خطرناک ہے اور اس بارے میں حکام بالا کو بار بار مطلع کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب  ریلوے  کے ڈرائیورز کی نااہلی بے پرواہیاں اور سوجانے کے واقعات بھی کسی سے  ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

 آرمی ریسکیو آپریشن

آئی ایس پی آر  کے مطابق  حادثے کی جگہ پرپاک فوج کا ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، پاک فوج کی ٹیمیں راولپنڈی سے ڈسک کٹر،ہائیڈرالک سپریڈرز اورلائف لوکیٹرز لے کرگئیں پاک فوج اور رینجرز کے دستے ریلیف اینڈ ریسکیو کی کوششوں میں مصروف ہیں رحیم یار خان کی ریسکیو 1122 ٹیم بھی ریسکیو آپریشن میں شریک ہے ٹرین کی فریم کٹنگ اور بوگیوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے بیشتر زخمیوں کو رحیم یار خان،گھوٹکی اور میر پور ماتھیلوں کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا،جبکہ  شدید زخمی افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پنو عاقل پہنچایا جارہا ہے۔

گھوٹکی، خیرپور، سکھر لاڑکانہ رحیم یار خان او رصادق آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو  نے گھوٹکی، خیرپور، سکھر اور لاڑکانہ کے تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک محکمہ صحت کا ضروری عملہ جائے حادثہ پر موجود رہے گا۔ جبکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر رحیم یار خان او رصادق آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی رحیم یار خان او رصادق آباد کے ہسپتالوں میں لائے جانے والے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی ہیں اور  ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان کے آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا

سال 2021 سال 2020  اور سال 2019 میں ہونے والے پاکستان میں ریلوے حادثات

ریلوے حکام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنوری سے مئی 2021 کے دوران حادثات میں گزشتہ برسوں کے اسی عرصے میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔

جنوری سے مئی 2020 تک 64 حادثات پیش آئے جس میں پٹڑی سے ٹرین کا اترنا جبکہ مسافروں اور سامان بردار ٹرینوں کے حادثات شامل ہیں۔

 جبکہ اگست 2018ء سے جولائی 2019ء تک ٹرینوں کے 79 چھوٹے بڑے حادثے ہوۓ جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

 پاکستان میں ریلوے حادثات کیوں ہوتے ہیں

اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں ریلوے حادثات کی چند بڑی وجوہات   کچھ یوں ہیں:

1۔ خراب ریلوے ٹریک اور سگنلز

2  ریلوے حکام کی لاپرواہی اور  غفلت

3 ریلوے کے خراب انجن اور بوگیاں

4    افرادی قوت میں کمی

 5 ریلوے خسارہ

آخر ریلوے حادثات پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا ؟

اس افسوسنا ک حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا  کہ گزشتہ  کم و بیش پچیس سال سے ریلوے  کا محکمہ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ  گیا ہے  ۔ بدقسمتی سے جب بھی  ریلوے منسٹر تعینات کیا جاتا ہے وہ اپنے من پسند افسران کو قابلیت نہ ہونے کے باوجود اعلی عہدوں پر فائز کرکے  اپنا کام چلانے کی کوشش کرتاہے۔

جس کی واضح مثال  سابقہ ریلوے منسٹر اور حالیہ  وزیر  داخلہ شیخ رشید  کے دور میں   ناتجربہ کار جنرل مینیجر ریلوے آپریشن آفتاب اکبر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی تھی جبکہ دوسری جانب  ریلوے ٹریک مکمل طور پر بوسیدہ  ہوچکے ہیں ، سگنلنگ سسٹم بھی مکمل کام نہیں کر پا رہے ہیں۔

Image

حیران کن طور پر گزشتہ چند برسوں میں  پاکستان میں ٹرین کے زیادہ تر سنگین  اور خطرناک  حادثات ذیادہ تر سندھ کے علاقوں میں ہوئے۔ جن میں

28 فروری 2020 کو روہڑی میں کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس اور ایک بس کے درمیان تصادم کے بعد  22 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

31 اکتوبر 2019 رحیم یار خان کے قریب  کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں آگ لگنے سے 74 افراد جاں بحق ہوئے۔

11 جولائی 2019 کو رحیم یار خان کے قریب حادثے میں کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ااور  مال گاڑی میں تصادم سے چوبیس مسافر جاں بحق جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے 79 ٹرین حادثات اسعتفی کا مطالبہ

ہر بار  ریلوے حادثہ ہونے پر روایتی بیانات سامنے آجاتے ہیں جن سرفہرست چوبیس گھنٹوں کے دوارن انکوائر ی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے اعلانات کیے جاتے ہیں  ایکدوسرے  کے خلاف سیاست کی جاتی ہے   کوئی بھی اپنی ذمہی داری لینے کو تیار نہیں ہوتا ۔

Image

کیا وزیر کیا مشیر سب کی اپنی ڈفلی اپنا راگ تاہم  شور اور واویلوں کے بعد  تحقیقاتی رپورٹ اگر منظر عام پر آ بھی جائے تو  ریلوے کے اس بوسیدہ نظام کی   خامیوں کا تدارک کرنے کے بجائے چھوٹے  گریڈ کے ملازمین  کو حادثے کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے  اور پھر اگلے  کسی اور حادثے کا انتظار شروع کردیا جاتا  ہے ۔

اس  حادثے کے  ذمہ داروں کا تعین کیسے ہوگا  کون پوچھیگا یہ سوال کہ  جائے حادثہ اور سکھر ڈویژن میں 13 مقامات پر ٹریک کی حالت ٹھیک نہ ہونے کی تحریری رپورٹ کے باوجود  ریلوے حکام  کی جانب سے ایسی مجرمانہ غفلت کیوں  اورکیسے برتی گئی؟

اگر شفاف تحقیقات نہ کی گئی تو  پھر کیسے بدلے گا  یہ نظام کیسے ہوگی تبدیلی کی بات

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *