بحریہ ٹاوَن پر حملہ کرنے والے آخر یہ کون تھے؟؟ کوئی متاثرین یا ۔۔؟؟

بحریہ ٹاوَن پر حملہ کرنے والے آخر یہ کون تھے؟؟ کوئی متاثرین یا ۔۔؟؟

129 views

کراچی کی نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ ٹاؤن میں اتوار کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے سرکار کی مدعیت میں تین مقدمات درج کر لیے ہیں جن میں 120 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

صبحین عماد

احتجاج ،مظاہرے نعرے بازی حق انصاف کی بلند ہوتی آوازیں ،زمین کے آصل حقدار کون ہے کی صدائیں اور پھر اچانک ہر طرف بھڑکتی آگ کے شعلے ،محنت سے کھڑے کیے گئے کاروبار کے بکھرے شیشیے ،توڑ پھوڑ جلاو گھراو سوال بہت سارے جواب ایک بھی نہیں ،کون ہیں یہ کراچی  بحریہ ٹاون پر دھاوا بول دیا کون ہیں یہ متاثرین ؟؟ کس نے کس کو لوٹا اہے کس نے کس کی زمین کھائی ہے ؟ؕسوال بہت سے ہیں مگر جواب کون دے گا آخر اس سب کی ااصل کہانی کیا ہے اور جو کچھ گزشتہ روز کراچی میں ہوا اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟؟

اتوار کو کراچی میں واقعی بحریہ ٹاون میں ہنگامہ آرائی اور تور پھوڑ کے واقعے پر بلاول ہاؤس کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی مشیر نثار کھوڑو اور ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ آج بحریہ ٹاؤن میں احتجاج ہوا ہے، مظاہرے کرنے والوں نے آگ لگائی، جس کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

اتوار کو بحریہ ٹاون کے لیے ناجائز طریقے سے زمینیوں پر قبضے کے خلاف اندرون سندھ کے شہریوں نےاحتجاج کیا ، مظاہرین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ زمینوں سے جبری بے دخلی کے معاملے پرپاکستان پپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے بحریہ ٹاون کو معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔

بتایا گیا ہے کہ رینجرز اورپولیس کی بھاری تعداد نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف دھرنے کیلئے جانے والے قافلوں کو سعید آباد کے قریب ٹول پلازہ پہ روک لیا، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ، بعد ازاں مظاہرین نے بحریہ ٹاؤن میں قائم پراپرٹیز، متعدد کاروں اور موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی ،سڑک پر بھی ٹائر نذرآتش کردیے بحرییہ ٹاون کچھ ہی دیر میں جنگ کے میدان کا منظر پیش کرنے لگا ستم یہ تھا کہ مرنے والے کوخبر تھی کہ کیوں مارا جارہا ہوں نہ مارنے والے کو علم تھا کہ کیوں مار رہا ہوں یہی حال گزشتہ روز بحریہ ٹاون میں تھا جہاں جس کو جو دل چاہا اس نے اس انداز میں احتجاج کے نام پر ہنگامہ آرائی کی لوگوں کی ذاتی پراپرٹیز کو بے دردی سے لوٹا اور جلایا گیا غیر قانونی زمین کے معاملے پر غیر قانونی طریقے سے احتجاج کیا گیا احتجاج تو خیر کیا ہی تھا ایک قافلہ تھا جس نے کراچی ہائی وے پر راستوں کو بند کرکے جلاو گھراو کر کرکے ایک دہشت گردی کر کے ایک انوکھا احتجاج کیا ۔

مظاہرہ کس نے کیا۔۔؟؟

بحریہ ٹاون کی جانب سے گوٹھوں کی زمینیں ہتھیانے پر صوبے کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ ایکشن کمیٹی نے مظاہرے کی کال دی تھی۔

کمیٹی میں قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو اور دیگر سندھی قوم پرست رہنما شامل ہیں۔ اس طرح کے متعدد مظاہروں کی قیادت کرنے والی سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس نے بھی مظاہرے کی حمایت کی تھی۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے حفیظ بلوچ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ”جیسے ہی احتجاج پرتشدد ہوگیا تو ہم نے اپنے تمام کارکنان کو واپس بلا لیا تھا اور وہاں جو کچھ ہوا اس میں ہم شریک نہیں تھے البتہ سندھ ایکشن کمیٹی کے ممبر اس میں شامل ہوسکتے ہیں”۔

واضح رہے کہ یہ اتحاد گذشتہ 8سالوں سے مقامی لوگوں کی اراضی کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب سندھ ایکشن کمیٹی کے قادر مگسی نے کہا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کا مظاہرین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ”یہ بحریہ ٹاؤن کے اپنے لوگ تھے جنہوں نے جان بوجھ کر احتجاج کو تشدد کی طرف موڑا۔ ہم پرامن دھرنا دے رہے تھے اس لیے سندھ ایکشن کمیٹی کا بحریہ ٹاؤن میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں”۔

قادر مگسی نے بتایا کہ پولیس نے ایک درجن کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دھرنے کا انعقاد قریبی دیہات کے رہائشیوں نے کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اپنی زمینیں دینے پر انہیں مجبور کیا گیا تھا۔

بحریہ ٹاؤن اراضی کے حصول کے لیے 2015 میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس تشکیل دی گئی تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ملیر کے علاقے میں دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

اتحاد کی سربراہی سلیم بلوچ نے کی تھی جس کی حمایت اس وقت کے وزیر مملکت برائے مواصلات ایم این اے حکیم بلوچ، ملیر کے پی ایس129 کے ایم پی اے حاجی شفیع جاموٹ، مؤرخ گل حسن کلمتی، ملیر کے جام عبد کریم، معروف کارکن یوسف مستی خان اور سابق ناظم خدا ڈنو شاہ نے کی۔

اس وقت انہوں نے اس بات کی دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ نے 2011 میں حکومت کو یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی زمین نجی اداروں کو الاٹ نہیں کرسکتی ہے

اب تک کی تفصیلت کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بحريہ ٹاؤن ميں جلاو گھيراو اور توڑ پھوڑ کے الزام ميں گرفتار 120 مظاہرين کو دو روزہ جسمانی ريمانڈ پر پوليس کے حوالے کر ديا

تفتیشی افسر نے عدالت سے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی نشاندہی پر شریک ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، جس پر عدالت نے مظاہرین کا 2روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *