جڑواں بچوں کے بعد خاتون کےہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

جڑواں بچوں کے بعد خاتون کےہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

386 views

جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بیک وقت 10 بچوں کی پیدا کرکے سب کو حیران کردیا ، اس سے قبل خاتون نے جڑواں بچوں کو بھی جنم دیا تھا۔

غانیہ نورین

کچھ وقت قبل جہاں جڑواں بچوں کی پیدائش پر لوگ حیران ہوتے تھے وہیں اب لوگ ایک ساتھ 7، 8، 9 اور 10 بچوں کی بیک وقت پیدائش پر حیران ہوتے ہیں کیونکہ کچھ ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ مراکش کی خاتون نے 9 بچوں کو ایک ساتھ جنم دیا اس کے بعد اب حال ہی میں جنوبی افریقہ سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایک 37 سالہ خاتون گوسیام تامارا سیٹھول نے ایک ساتھ 10 بچوں کو جنم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: خاتون کے ہاں ایک ساتھ 9 بچوں کی پیدائش

ساؤتھ افریقہ ڈاٹ ای این اور گلف نیوز کے مطابق ایک خاتون کے ہاں میٹرنیٹی ہوم میں ایک ساتھ 10 بچے پیدا ہوئے جن میں سے 7 لڑکے اور 3 لڑکیاں ہیں۔ والد کی خوشی تو دیدنی ہے۔

پیٹریوؤرٹیکا نیوز جوکہ ساؤتھ افریقہ کا مقامی نیوز چینل ہے اس سے بات کرتے ہوئے خاتون گوسیام تامارا سیٹھول نے کہا کہ میرے پہلے بھی 2 جڑواں بچے تھے، مگر اب 10 بچے ایک ساتھ پیدا ہوگئے اور اب میں دنیا کی سب سے پہلی 10 بچے پیدا کرنے والی خاتون بن گئی ہوں، مجھے اس پر خوشی تو حد سے زیادہ ہے، لیکن ساتھ ہی میں فخر سے یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ میرے بچے خدا کی طرف سے دیئے ہوئے تحفے ہیں کوئی ٹیسٹ ٹیوب بے بی نہیں ہیں۔ میں ابھی تک حیران ہوں کہ یہ سب میرے ہی بچے ہیں۔ 6 سال قبل جب ایک بچے کی امید کی تو 2 ملے اور ابھی بھی 1 بچے کی امید کی تھی، مگر مجھے 10 ملے۔

جب والد سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے اتنے سارے بچوں کو پالیں گے جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 6 سال قبل بھی میرے دو جڑواں بچے ہوئے تھے، ان کی خوشی مجھے اب تک ہے اور شاید ہمیشہ ہی رہے گی اور اب یہ 10 بچے میری جان ہیں، خرچہ پورا ہوجائے گا اور میری کوشش ہوگی کہ ہم ان کو ایک کامیاب اور با اختیار شخص بنائیں۔

Source:Urdu Point
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *