کیا نیا مالی سال کا بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق ہے ؟؟

کیا نیا مالی سال کا بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق ہے ؟؟

126 views

وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بجٹ سیشن میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ تو اس موقع پر صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ خان صاحب کیا عوام دوست بجٹ ہوگا؟ اس پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سب خوش ہوں گے۔

تو کیا سچ مچ خان صاحب کی بات کو مان لیا جائے کہ بجٹ ایسا ہے کہ جس سے سب خوش ہونگے۔

تحریر: فہمیدہ یوسفی
ترتیب و تدوین:غانیہ نورین

اپوزیشن کے روایتی شور شرابے میں پاکستان تحریک انصاف کی  وفاقی حکومت نے  آئندہ مالی سال 2021-22  کیلئے اپنا تیسرا وفاقی بجٹ جو تقریباً8 ٹریلین روپے (8ہزار ارب روپے) 2021-22 پیش کردیا ہے جبکہ مجموعی خسارہ 3050 ارب ر وپے  ہے۔

بجٹ کے خاص مندرجات

٭آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 8487 ارب روپے ہے ، دستاویز

٭کل جاری اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے لگایا گیا ہے،

٭قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے 3060 ارب روپے مختص،

٭آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 900 ارب روپے مختص ،

٭صوبوں کو گرانٹ کی مد میں 1168 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭پینشن کیلئے 480 ارب روپے مختص،

٭آئندہ مالی سال دفاع کیلئے 1370 ارب روپے مختص،

٭سول حکومت کیلئے 479 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،

٭سبسڈی کیلئے 682 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭ہنگامی حالات کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭تنخواہ اور پنشن کیلئے 160 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭حکومت نے آئندہ مالی سال کل محاصل 7909 ارب روپے کا تعین کیا ہے ،

٭ایف بی آر کے محاصل 5829 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭غیر ٹیکس محاصل 2080 ارب روپے رکھے گئے ہیں،

٭صوبوں کا محاصل میں حصہ 3412 ارب روپے رکھا گیا ہے،

٭نجکاری سے 252 ارب روپے کی آمدن کا اندازہ لگایا گیا ہے،

 ٭ٹی بلز اور سکوک سے 681 ارب روپے حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے،

٭بیرون ملک سے 1246 ارب روپے کا اندازہ لگایا گیا ہے،

وزیر خزانہ شوکت ترین کی بجٹ تقریر

ریونیو

شوکت ترین نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی ریونیو کا تخمینہ 7909 ارب روپے ہے اور ریونیو میں اضافہ کا ہدف 24 فیصد ہے، ایف بی آر کا ہدف 24 فیصد گروتھ کے ساتھ 5829 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے اور نان ٹیکس ریونیو گروتھ کا ہدف 22 فیصد رکھا گیا ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2704 ارب روپے سے بڑھا کر 3411 ارب روپے کردیا ہے، صوبوں کو 707 ارب روپے اضافی دیے جائیں گے۔

تنخواہیں اور پنشن

وزیر خزانہ نے کہا کہ یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاؤنس کو 14000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر ساڑھے سترہ ہزار روپے ماہانہ کیا جائے گا، اسی طرح گریڈ ایک سے پانچ کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الاؤنس کو ساڑھے چار سو روپے سے بڑھا کر 900 روپے کیا جارہا ہے، کم آمدنی والے افراد پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کیلئے کم سے کم اجرت بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کی جارہی ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ میں اخراجات جاریہ 14 فیصد اضافہ کے ساتھ 6561 ارب روپے سے بڑھا کر 7523 ارب روپے کیا جارہا ہے، سبسڈیز کیلئے 682 ارب روپے رکھے جارہے ہیں، کورونا ویکسین کی درآمد پر 1.1 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جون 2022 تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

پاک چین اقتصادی راہداری

سی پیک کے 13 ارب ڈالر کے 17 بڑے منصوبے مکمل کر لیے گئے اور 21 ارب ڈالر مالیت کے مزید 21 منصوبے جاری ہیں، اسٹریٹجک نوعیت کے 28ارب ڈالر کے 26 منصوبے زیر غور ہیں، بجٹ میں کراچی لاہور موٹروے کی تکمیل ترجیحات میں شامل ہے۔

دفاعی بجٹ

نئے سال کا دفاعی بجٹ مجموعی قومی بجٹ کا 16 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.8 فیصد ہے، جس میں سے پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا 7 فیصد ہے۔

آبی ذخائر

وزیر خزانہ نے کہا کہ آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 91 ارب روپے، داسو ہائیڈور پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لیے 57 ارب روپے مختص، دیامبر بھاشا ڈیم کے لیے 23ارب، مہمند ڈیم کے لیے 6ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں، جب کہ نیل جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کے لیے 15ارب روپے کی تجویز ہے۔

توانائی

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے 118 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اسلام آباد اور لاہور میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے لیے ساڑھے سات ارب روپے اور داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ساڑھے آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ

آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے مقرر کیا گیا جس میں سے وفاقی وزارتوں کو 672 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 4 ارب 29 کروڑ، کابینہ ڈویژن کو56ارب2کروڑ روپے ، موسمیاتی تبدیلی 14ارب روپے، کامرس ڈویژن 30 کروڑ روپے، وزارت تعلیم و تربیت کیلئے9 ارب روپے، وزارت خزانہ 94ارب روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن 37 ارب روپے ، ہاؤسنگ و تعمیرات کیلئے 14 ارب94 کروڑ، وزارت انسانی حقوق 22 کروڑ، وزارت صنعت و پیداوار 3 ارب، وزارت اطلاعات 1 ارب 84 کروڑ روپے، وزارت آئی ٹی 8 ارب روپے، بین الصوبائی رابطہ کیلئے 2 ارب 56 کروڑ، وزارت داخلہ 22 ارب روپے، امورکشمیر اورگلگت بلتستان کیلئے61ارب، وزارت قانون و انصاف 6 ارب، امور جہازرانی و میری ٹائم کیلئے 4 ارب 95 کروڑ، وزارت انسداد منشیات کیلئے 33 کروڑ، وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب ، نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22ارب82 کروڑ، قومی ورثہ و ثقافت کیلئے 4 کروڑ 59 لاکھ، پٹرولیم ڈویژن 3 ارب 7 کروڑ روپے، وزارت منصوبہ بندی 99 ارب 25 کروڑ، سماجی تحفظ 11 کروڑ 89 لاکھ، ریلوے ڈویژن کیلئے 30 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی 8 ارب 11 کروڑ، آبی وسائل 110 ارب روپے، این ایچ اے 113 ارب 95 کروڑ روپے، پیپکو کے لیے 53 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر ضروریات و ایمرجنسی کیلئے 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارے

اس بجٹ سے پہلے پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشاریے  اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب  بہتری کی جانب گامزن ہے ذرا نظر ڈالتے ہیں ان اشاریوں کی جانب کرونا وائرس کے ساۓ میں جی  ڈی پی گروتھ ریٹ جو گزشتہ سال منفی میں چلاگیا تھا اور رواں سال کیلئے تخمینہ 2.9 لگایا گیا تھا اب یہ شرح 3.9فی صد رہنے کی توقع ہے جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔

جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے بڑھنے کے اسباب میں برآ مدات میں اضافہ ‘ در آ مدات میں کمی ‘ ترسیلات زر میں اضافہ ‘ گندم ‘ چاول اور گنے کی اچھی فصل ‘ لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی شرح میں اضافہ ‘ کنسٹرکشن سیکٹر میں تیزی ہے۔

 ایف بی آر نے پچھلے سال سے کی نسبت 18 فی صد زیادہ ریونیو وصول کیا ہے پہلی مرتبہ ر یو نیو کی وصولی چار ہز ا ر ارب سے بڑھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کی معیشت بحال ہونا شروع،اکنامک سروے جاری،وزیر خزانہ ۔۔ 

ترسیلات زر میں اضافہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2021 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی شاندار کارکردگی جاری رہی اور ترسیلات مسلسل بارہویں مہینے 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں جو ریکارڈ ہے۔

مئی 2021 میں موصول ہونے والی ترسیلات 2.5 ارب ڈالر تھیں جو گذشتہ سال کے اسی مہینے سے 33.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ ترسیلات جولائی تا اپریل مالی سال21  کے دوران 2.4 ارب ڈالر کی ماہانہ اوسط سے بھی زیادہ تھیں، ماہ بہ ماہ بنیاد پر کارکنوں کی ترسیلات مئی 2021  میں اپریل 2021 کے مقابلے میں 10.4 فیصد گر گئیں۔یہ کمی متوقع تھی کیونکہ عموماً عیدالفطر کے بعد کے زمانے میں ترسیلات کی رفتار آہستہ ہوجاتی ہے۔ چونکہ عید وسط مئی 2021 میں آئی تھی اور مارکیٹیں ایک ہفتہ پہلے بند ہوگئیں اس لیے اپریل 2021میں ترسیلات کی کچھ فرنٹ لوڈنگ ہوئی۔

تاہم مئی 2021میں ہونے والی موسمی کمی مالی سال 2018-2019کے دوران دیکھی گئی اوسط کمی کے نصف سے نیچے تھی، مالی سال 2020 میں خلیجی ممالک میں عید کے بعد کے زمانے میں کووڈ لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے ترسیلات میں بھاری اضافہ ہوا، مجموعی بنیاد پر جولائی تا مئی مالی سال 21کے دوران ترسیلات بڑھ کر 26.7 ارب ڈالر ہوگئیں جو پچھلے برس کی اسی مدت سے 29.4 فیصد زیادہ ہے۔

مالی سال 21کے پہلے 11 ماہ کے دوران ہی ترسیلات زر پورے مالی سال 20کی سطح سے 3.6 ارب ڈالر زیادہ ہوچکی ہیں۔جولائی تا مئی مالی سال 21کے دوران موصول ہونے والی ترسیلات زر زیادہ تر سعودی عرب (7.0 ارب ڈالر)، متحدہ عرب امارات (5.6 ارب ڈالر)، برطانیہ (3.7 ارب ڈالر) اور امریکہ (2.5 ارب ڈالر) سے آئیں۔

مالی سال 21 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کو ریکارڈ سطح پر لانے میں جو عوامل مددگار رہے ہیں ان میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی زائد آمد کی حوصلہ افزائی کی خاطر حکومت اور اسٹیٹ بینک کے فعال پالیسی اقدامات، کورونا کی وبا کے باعث سرحد پار سفر کا محدود ہونا، وبا کے دوران بہبودی رقوم کی پاکستان کو منتقلی اور بازار مبادلہ میں استحکام کی صورت حال شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ترسیلات زر کی شرح گزشتہ سال سے زیادہ ہوگئی، اسٹیٹ بینک

صنعتوں کی پیداوار15سال کی بلند ترین شرح

کورونا کی عالمی وبا کے باوجود پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے9 ماہ(جولائی تا مارچ ) بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار15سال کی بلند ترین شرح 9 فیصدسے بڑھ گئی،سب سے زیادہ ترقی ٹیکسٹائل،فوڈ،مشروبات اورآٹوموبائل کے شعبوں میں ہوئی۔

اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ جوجمعرات کو جاری کی گئی کے مطابق 2007ء کے بعد کسی بھی سال میں یہ سب سے بلند شرح ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی  اعشاریے چاہے  جتنے بھی ا چھے ہوں اگر  اس کے اثرات عام آ دمی تک نہیں  پہنچ رہے  تو حکومت کو سوچنا پڑیگا  اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تبدیلی سرکار کے لیے  مہنگائی سب سے بڑ اچیلنج ہے ۔

مہنگائی کی وجہ سے اس وقت بہت  پریشان ہیں ۔ تو وزیر اعظم صاحب سب تو اس وقت خوش ہونگے  جب  آپ مہنگائی اور غربت پر قابو پالیں

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *