arooba faridi 808x454

ایرو اسپیس انجینئر: عروبہ فریدی نے پاکستانی لڑکیوں کو نیا راستہ دکھادیا

149 views

عروبہ فریدی پاکستان کا وہ چمکتا ستارہ جس نے محض 23 سال کی عمر میں ایرو اسپیس انجینئر بن کر ناصرف اپنے والدین کا نام روشن کیا بلکہ پاکستانی خواتین کیلئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے نئی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔

غانیہ نورین

گزشتہ 2 دہائیوں میں پاکستان میں خواتین کا شرح خواندگی کافی بڑھا ہے اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی ایک نمایاں تعداد سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق مضامین میں تعلیم حاصل کر رہی ہے اس کے باوجود ملکی یا بین الاقوامی سطح پر عملی سائنس اور تحقیق میں بہت کم خواتین آگے آرہی ہیں جس کی وجہ ہمارا سماجی نظام اور لوگوں کی تنگ نظری ہے۔

تاہم پاکستان کی چند خواتین اور لڑکیاں ایسی بھی جنھوں نے سماجی نظام کی بیڑیوں کو اپنے پیروں سے نکال پھینکا ہے اور تعصب و ہچکچاہٹ کو پار لگاتے ہوئے سائنسی مضامین میں کیریئر کی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔

مزید پڑھیں: سائنسی میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی خواتین

کراچی سے تعلق رکھنے والی عروبہ فریدی کا نام بھی انہیں خواتین کی فہرست میں شامل ہوتا ہے جھنوں نے تنگ نظری کی پرواہ کیے ایرواسپیس انجیئرینگ کو اپنا منزل مقصود سمجھا اور ملک و قوم کا نام روشن کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن حدید کی رہائشی عروبا کے والد پاکستان اسٹیل ملزمیں الیکٹریکل انجینئر ہیں اور ان کے بھائی نے بھی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ پانچ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر موجود عروبا نے بچپن سے ہی برقی آلات سے کھیلنا شروع کردیا تھا۔ والد کی بدولت انہیں انجینئرنگ کے شعبے میں جانے کا شوق ہوا۔

اپنے شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے انٹرمیڈیٹ کے بعد ایک نجی ادارے ہاک ایوی ایشن سروسز سے وابستگی اختیار کرلی جو ایوی ایشن سے متعلق بین الاقوامی اداروں کا تسلیم کردہ ادارہ ہے۔

عروبا کہتی ہیں کہ انہیں بچپن سے ہی جہازوں میں دلچسپی تھی جہازوں کو دیکھ کر، ان میں سفر کرنے سے زیادہ ان کو یہ تجسس ہوتا تھا کہ یہ جہاز کیسے اڑتے ہیں اور ان کی مرمت کس طرح کی جاتی ہے۔

May be an image of 2 people, people standing, headscarf and text that says "OTHER SIDE A-ÃOORA Meet Arooba Pakistan's youngest female Aerospace engineer"

عروبا نے 2014میں نجی انسٹی ٹیوٹ سے وابستگی اختیار کی اور 2019میں لائسنس کے لیے اپلائی کیا انہیں اپنا لائسنس حاصل کرنے میں 6 سال لگے، انہوں نے تربیت لینے کے بعد ساڑھے پانچ سال تک عملی کام کیا۔

عروبہ کے مطابق انہیں اپنے خواب کی تکمیل کرنے کیلئے مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا بھی پڑا تاہم والدین اور سینئر کی سپورٹ کی وجہ سے وہ انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔

پاکستان میں آج بھی کتنی ہی خواتین اوربچیاں تعلیم کے راستے میں آئی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے رہ جاتی ہے لیکن جن میں ہو اپنا مقصد حاصل کرنے کی لگن اور جستجو وہ عروبہ فریدی کی طرح ناصرف کامیاب ہوتی ہیں بلکہ معاشرے میں ایک رول ماڈل کا کردار ادا کرتی ہیں۔

Source: Media Reports
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *