کراچی کی سڑکوں پر علم بانٹتا مسیحا،درد بھری کہانی عبدالحادی کی زبانی

کراچی کی سڑکوں پر علم بانٹتا مسیحا،درد بھری کہانی عبدالحادی کی زبانی

79 views

علم و ادب کے خزانے میں چھپا ایک نایاب ہیرہ اپنی کتابوں کی دنیا سجائے گاہکوں کے منتظربیتھے ہیں

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے یہ تو ہم نے بارہا سنا ہے، لیکن موجودہ دور میں جیسے جیسے نوجوان دن بہ دن جدید ٹیکنالوجی سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، کتاب سے دوستی دم توڑتی جا رہی ہے۔کتابوں کی جگہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن معلومات کا فوری ذریعہ بن چکے ہیں۔،تفریح کے جدید ذرائع کی موجودگی میں کتب بینی صرف لائبریریوں یا چند اہل ذوق تک محدود ہو گئی ہے، جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خاص طور پہ نوجوان نسل اور بچوں میں کتب بینی سے لا تعلقی اور غیر سنجیدہ رویہ پایا جاتا ہے آج کل بک شاپس یا لائبریریوں میں نہیں بلکہ برانڈڈ کپروں کی دکانوں میں آپ کو خوب رش دیکھنے کو ملتا ہے ۔ماضی میں کتاب پڑھنے والوں کے ذوق کا یہ عالم تھا کہ رات کو بنا مطالعہ کیے نیند نہیں آتی تھی اور آج کے نوجوان تو کورس کی کتاب تک کھولنے کی زحمت نہیں کرتے ۔

کتاب پڑھنے کے شوقین افرد کی تو کمی ضرور ہوگئی ہے لیکن ابھی کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے آج بھی علم کی شمع کو اس آس پر روشن رکھا ہوا ہے کہ کوئی تو بھولا بسرا اس کتب نگری میں بھی آئے گا علم کی لازاوال کہانیوں کی دکان سجائے عبد الہادی کو کتابوں کے ساتھ 40 سال گزر گئے ہیں وہ آج بھی کراچی کی مشہور مارکیٹ  طارق  روذ کے قریب اپنی کتابوں کی دنیا لیے گاہکوں کے انتظار میں بیتھے رہتے ہیں راوا کی ٹیم نے ان سے جب بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے کا دور اچھا تھا جب لوگ کتاب خریدتے اور پڑھتے تھے اب تو ہر کسی کے ہاتھ میں مابائل ہے کتابوں کا کروبار تو جیسے اب ختم ہی ہوگیا ہے،جبکہ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ہر طرح کی کتاب وہ بھی انتہائی کم قیمت پر موجود ہیں کتابوں کی ایک وسیع رینج تھی جو ہمیں وہاں دیکھنے کو ملی جس میں اردو انگلش ناول بچوں کی کہانیاں،پکوان کے رسالے اور کورس کی کتابیں بھی موجود تھیں ۔

علم کی روشنی کو جب تک معاشرے میں پھیلا یا ہی نہیں جائے گا، جہالت کے اندھیرے کیسےختم ہوں گے۔کتاب کو انسان کا سب سے اچھا دوست قرار دیا جاتا ہے،مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ خود اس دوست سے دشمنی کی جارہی ہے۔کسی پڑھے لکھے شخص سے پوچھیں کہ اس نے آخری کتاب کب خریدی تھی یا اس نے آخری کتاب کب پڑھی تھی۔کچھ نوجوان یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وقت کی کمی کے باعث ہم مطالعہ نہیں کر پاتے، جب کہ کچھ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ کتابیں مہنگی بہت ہیں۔زندگی بہت فاسٹ ہوگئی ہے تو یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کتابیں تو آج بھی اپنے دوست کے انتظار میں ہیں لیکن شاید ہم نے خود کو اتنا مصروف کرلیا ہے کہ اب نہ دوست بنانے کا وقت رہا ہے نہ اسے سمجھنے کا ۔

تو اگر آپ بھی اچھی کتابوں کے متلاشی ہیں تو عبدالحادی کی دکان اور وہاں موجود کتابیں آپکی منتظر ہیں

source: rava news
content: Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *