کراچی سمیت صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں کب بند رہیں گی؟؟

کراچی سمیت صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں کب بند رہیں گی؟؟

86 views

سندھ حکومت نے صوبے میں دو روز کا لاک ڈاؤن ختم کرکے صرف ایک روز کی تعطیل کا فیصلہ کرلیا۔

ترتیب و تدوین:غانیہ نورین

کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق سندھ میں ہفتے میں 2 دن کے بجائے ایک دن کاروبار بند کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اب اتوار کے دن کاروبار بند ہوگا اور باقی دنوں میں کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی، اجلاس میں کورونا کی مجموعی صورت حال اور ویکسینیشن کے عمل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ اب تک 30 لاکھ 35 ہزار 998 کوویڈ ویکسین کے ڈوزز موصول ہوچکی ہیں، جن میں سے 24 لاکھ 66 ہزار 458 ڈوزز استعمال ہوچکی ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت تاجروں پر مہربان،کاروباری اوقات کار میں توسیع

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق نے سندھ کو 742 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب کم کر کے 680 ارب روپے کردیے ہیں اور کہا گیا کہ 62 ارب روپے بھول جاؤ۔

صوبائی وزرائے کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہدف سے کم ٹیکس وصول کیا تو سندھ کا حصہ کم کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ میری ذمہ داری ہےکہ سندھ کے مسائل پر بات کروں اور اگر ایسا کرتاہوں تو چڑ کیوں لگتی ہے اور اسی بنیاد پر مجھے صوبائی سیاست کرنے کا کہا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر معیشت بڑھی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آمدنی بھی بڑھی ہوگی تو پھر سندھ کو جو اس کا حق بنتا ہے وہ دیا جائے۔

علاوہ ازیں مراد علی شاہ نے کہا کہ کل سندھ کا بجٹ بطور انچارج وزارت خزانہ پیش کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کیسز میں اضافہ : کیا سندھ میں کرفیو لگنے والا ہے؟؟

انہوں نے امید ظاہر کی کہ این ایف سی ایوارڈ منعقد ہوگا اور اس میں ہماری صوبائی حکومت کو مزید ٹیکس جمع کرنے کے مواقع دیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارے ساتھ صریحاً ناانصافی ہوئی ہے اور ہم پر انتہائی غیر ضروری منصوبے دے گئے ہیں کیونکہ یہ وہ منصوبے تھے جس پر صوبائی حکومت سے مشاورت ہی نہیں کی گئی۔

سید مراد علی شاہ نے الزام لگایا کہ وفاق ٹیکس میں چوریاں کم کرے تا کہ صوبوں کو ان کا پورا حصہ ملے۔

انہوں نے کہا کہ جس 17 فیصد گروتھ کا ڈھول وفاقی حکومت بجا رہی ہے وہ دراصل تین سال پر مشتمل ہے جبکہ 9.7 ارب روپے کے منصوبے دیے لیکن ریلیز 5 سو ارب کیے۔  اگر میں حقائق پر مبنی بات نہیں کررہا تو مجھے بتائیں میں اپنی غلطی تسلیم کروں گا۔

سید مراد علی شاہ نے پانی کے معاملے پر کہا کہ مجھے ارسا اور وفاق سے اعتراض ہے کیونکہ ارسا صوبائی کو پانی کی فراہمی سے متعلق معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق ارسا پر دباؤ ڈال کر معاہدے پر عملدرآمد کو روکنے کی کوشش کررہا ہے،  اس معاملے پر 2018 سے سی سی آئی میں آواز اٹھائی لیکن تاحال کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور اس وقت اٹارنی جنرل نے سندھ کے مؤقف کی تائید کی تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی میں کاروباری مراکز کب بند رہیں گے؟؟

Source:Media Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *