خون دینے کا عالمی دن ۔۔

خون دینے کا عالمی دن ۔۔

41 views

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خون کے عطیات کی اہمیت، مسائل اور زندگی بچانے کے لیے اس کی افادیت کو اجاگر کرنا ہے۔

صبحین عماد

خون کے عطیات سے ہر سال لاکھوں انسانوں کو نئی زندگیاں ملتی ہیں۔ بعض خطرناک بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور پیچیدہ سرجری میں خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں کسی انسان کو خون کا عطیہ دینا اسے نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال پینتیس لاکھ خون کے عطیات اکٹھے کیے جاتے ہیں۔

خون جسم انسانی کا ایک لازمی جزو ہے جو کہ دل اورشریانوں کے ذریعے جسم کے مختلف اعضاء میں گردش کرتا رہتا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق ہر بالغ انسان کے جسم میں تقریبا 1.2 گیلن سے 1.5 گیلن تک یعنی 4.5 لیٹر سے 5.5 لیٹر تک خون ہوتا ہے۔ جبکہ کسی بھی حادثاتی صورتحال ، شدید بیماری یا سرجری کی صورت میں انسان کو خون، پلازما، وائٹ سیل کی ضرورت ضرورت پیش آسکتی ہے ۔ قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے خون کے عطیات انتہائی اہم اور ضروری ہیں۔ کسی بھی ضرورت مند مریض کو خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ میں شمار ہوتا ہے

خون دینا صحت کے لیے خراب ہے ؟؟

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ خون عطیہ کرنے سے انسان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ یہ بات بالکل درست نہیں۔ ہر تندرست انسان کے بدن میں تقریباً ایک لیٹر (یعنی دو سے تین بوتلیں) اضافی خون ہوتا ہے، ماہرین صحت کا کہناہے کہ ہر تندرست انسان کو سال میںکم از کم دو بار خون کا عطیہ ضرور د ینا چاہئے اس سے صحت پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ، بلکہ خون کا عطیہ دینے والے افراد صحت مند رہتے ہیں ۔ خون عطیہ کرنے میں جتنا خون لیا جاتا ہے وہ انسانی جسم تین دن میں پورا کرلیتا ہے، جبکہ خون کے سیلز 56 دن میںبن جاتے ہیں اور نئے خون کے خلیات پرانے خون سے زیادہ صحتمند اور طاقتور ہوتے ہیں جو انسان کو کئی امراض سے بچاتے ہیں۔

خون دینا صحت کے لیے مفید ہے ۔۔؟

ماہرین کے مطابق جسم میں آئرن کی زیادہ مقدار اور اس کے کم اخراج کی وجہ سے آئرن انسان کے دل ، جگر اور لبلبہ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں آئرن کی مقدار کو بیلنس رکھنے کیلئے خون عطیہ کرنا ایک نہایت مفید عمل ہے۔ اس عمل سے رگوں میں خون کے انجماد کو روکنے اور جسم میں خون کے بہتر بہاؤ میں مدد ملتی ہے۔ باقاعدگی سے خون دینے والے ڈونرز موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ خون دینے کا عمل جسم کی چربی کو کم اور وزن کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ خون عطیہ کرنے کے بعد نئے خون کے بننے سے چہرے میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور یہ چہرے پر بڑھاپے کے اثرات کو زائل کرتا ہے۔

خون کی اقسام ۔۔

خون کی محفوظ منتقلی کے لیے خون کا گروپ معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے ، بنیادی طور پر خون کے گروپس کو چار اقسام یعنی A , B , O , اور AB میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ہر ایک قسم کی Positive اور Negative میں مزید تقسیم ہے۔ گروپ O خون کو تمام گروپس کے مریضوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے جبکہ گروپ A خون کو A اور AB ، گروپ B کو B اور AB اور گروپ AB خون کو صرف AB گروپ کے مریضوں کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔جبکہ ہر وہ شخص جس کی عمر17سے 50سال اور وزن تقریباً50کلو سے زائد ہو وہ خون کا عطیہ دے سکتاہے۔اس کے علاوہ خون کا عطیہ دیتے وقت ڈونر کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس بی سی، ایڈز ، ملیریا اور آتشک کے ٹیسٹ شامل ہیں، جس کی وجہ سے ڈونر اپنی کسی بھی پوشیدہ بیماری سے بھی اس کے لاعلاج ہونے سے پہلے آگاہ ہو جاتا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں خون کا عطیہ دینے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں صرف1سے 2 فیصد ایسے افراد ہیں جوکہ رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دیتے ہیں جبکہ دیگر افراد حادثات یا دیگر سنگین صورتوں میں خون عطیہ کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ہمارے جسم میں خون کی زندگی محض 120 دن ہوتی ہے تو کیوں نہ ہم وہ خون ضائع ہونے سے بچائیں، اپنے اندر خدمت خلق کا جذبہ بیدار کریں ، خون کا عطیہ دیں اور کسی کی زندگی بچائیں۔

source: media reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *