mata 808x454

کورونا دیوی :بھارت واسی قوم پرستی کے بوجھ تلے

193 views

بھارت میں قوم پرستی ہندو انتہا پسندوں کی رگوں میں خون کی طرح سرایت کررہا ہے، عالمی وباء سے نمٹنے کے بجائے بھارت واسی نے اندھے ہندو عقیدے کو اپنا حل بنالیا۔

غانیہ نورین

دنیا میں عالمی طاقتیں اور سپرپاور ممالک جس تیزی سے ترقی کررہی ہیں وہیں نام نہاد سیکولر ملک بھارت قوم پرستی اور ہندومت مذہب کے اندھے عقیدے کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں جو ناصرف ملک میں انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں بلکہ بھارتی معیشت کا بھی بیڑا غرق کردیا ہے۔

بھارت میں عالمی وباء کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا حال پوری دنیا کے سامنے ہیں،  ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک بھارت میں کورونا وائرس ایک قہر کی طرح برسا، لاکھوں قیمتی جانیں چند ہی پلوں میں ختم ہوتی جارہی ہے جبکہ بڑی بڑی ریاستوں میں صحت کا نظام بری طرح بیٹھ چکا ہے۔

مگر بھارت میں ان سنگین صورتحال کا ذمہ دار صرف مودی سرکار اور اسکی کٹھ پتلی نہیں بلکہ عوام کی آنکھوں پر بندھی ہندومت کے اندھے عقیدے کی پٹی بھی ہے جہاں بھارت واسی کورونا کے علاج کیلئے گاؤ موتر اور گوبر کو ترجیح دیتے ہیں وہیں کورونا کو بھارت سے بھگانے کیلئے کورونا دیوی کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔

بھارتی ریاست اُتر پردیش کے گاؤں شُکلاپور کے رہائشیوں نے گزشتہ دنوں ’کورونا ماتا‘ کا مندر بھی بنا لیا ہے۔

شُکلاپور گاؤں میں کورونا ماتا کا یہ مندر نیم کے ایک درخت کے نیچے بنایا گیا ہے جہاں نہ صرف اس گاؤں سے، بلکہ آس پاس کے دیہات سے بھی لوگ آکر کورونا ماتا کی پوجا کرتے ہیں اور نذرانے چڑھا کر ’کورونا دیوی‘ کو خوش کرتے ہیں تاکہ وہ کووِڈ 19 کی وبا سے محفوظ رہیں اور اس وبا کا خاتمہ ہوجائے۔

People flock to pray in Uttar Pradesh Corona Mata temple

بھارتی میڈیا کے مطابق، شُکلاپور گاؤں کے ایک شہری نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا سے روزانہ ہزاروں لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ کر مقامی لوگوں نے فیصلہ کیا کہ نیم کے درخت تلے کورونا ماتا کا مندر بنا دیا جائے جہاں ’کورونا ماتا‘ کی پوجا کرکے اسے خوش کیا جائے تاکہ وبا کا زور ٹوٹے اور لوگوں کو اس تکلیف سے نجات ملے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے مندر میں ’کورونا ماتا‘ کا سفید مجسمہ بھی رکھا گیا ہے، جس کے چہرے پر حفاظتی ماسک ہے۔

Indian village prays to 'goddess corona' to rid them of the virus | Reuters

لوگ اس مندر میں کورونا ماتا کی پوجا کرنے کے علاوہ مٹھائی اور نقدی بطور نذرانہ بھی چڑھاتے ہیں، گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرکے کورونا ماتا کا یہ مندر تعمیر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کوویڈ19: بھارت میں لاشوں کا انبار،حالات خراب کیسے ہوئے؟؟

بھارت میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر اپنانے کے بجائے اسکی پوجا شروع کردی گئی ہے،بھارت میں کبھی کورونا کو تھالی بجا کر بھاگیا جارہا ہے تو اسکی پوجا کر کے اس کے غصے کو کم کیا جارہا ہے۔اس سے قبل بھی بھارتی ریاست اُترپردیش میں خواتین نے کورونا وائرس کو دیوی کا درجہ دیتے ہوئے ’کورونا مائی‘ کی پوجا شروع کی تھی جو 21 روز تک جاری رہے تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، اترپردیش کے گاؤں واراناسی اور کشی نگر میں خواتین کی بڑی تعداد روزانہ ندی کنارے گھنٹوں تک ’کورونا مائی‘ کی پوجا کرتی تھی تاکہ اس دیوی کا غصہ ختم ہوجائے، وبا کا زور ٹوٹ جائے اور مرتے ہوئے لوگوں کی جانیں بچ جائیں۔

تاہم اس پوجا کے دوران سماجی فاصلے کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا تھا۔

گزشتہ ماہ کے ہر اتوار کے روز بھی کشی نگر سے ملحق ندی کے کنارے سیکڑوں خواتین قطار باندھ کر کھڑی ہوتی تھیں اور انہوں نے کورونا مائی کی پوجا شروع کرتی تھی۔

Corona Devi pujas held to ward off coronavirus, superstition sends Twitter into frenzy | Trending News – India TV

ایک مقامی خاتون نے صحافیوں کو بتایا کہ کئی پنڈتوں نے کہا ہے کہ انہیں 21 روز تک دیوی ’کورونا مائی‘ کی پوجا کرنا ہوگی، جس کے بعد یہ وبا ختم ہوجائے گی۔

سماجی فاصلہ نہ رکھنے کے بارے میں ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ جب وہ کورونا مائی کی پوجا کررہی ہیں تو اس کے علاوہ انہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

خاتون نے کہا کہ ’’کورونا مائی ہم پر مہربانی کرے گی اور ہمیں (اس وبا سے) خود ہی محفوظ رکھے گی،‘‘ ۔

مزید پڑھیں: بھارت کے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر آکسیجن کی بھیک مانگتی عوام

بھارت میں کورونا وائرس کی خطرناک صورتحال مذہبی تہوار ہولی اور کمبھ میلے کا انعقاد تھا جہاں لوگوں نے کورونا سے بچاؤ کیلئے سماجی فاصلہ اور فیس ماسک کو بھی ترک کردیا تھا۔جس کےنتیجے میں بھارت میں خوفناک لہر کی طرح بڑھتے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔

بھارت میں قوم پرستی کے نام پر بڑھتی نفرتیں اور تشدد کی خبریں آئے دن عالمی میڈیا سمیت خود بھارتی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں شامل رہتی ہیں جن پر آواز اٹھا کر شاید ظلم تو مٹ سکتا ہے مگر عالمی وباء کی خطرناک لہر کو کم کرنے کیلئے بھارت واسیوں کو اپنے اندھے عقیدے اور قوم پرستی سے باہر نکالنے کے لیے پہلے خود میں تبدیلی لانی ہوگی جو کہ ایک ناممکن سی بات ہے۔

Source: Media Reports
Content :Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *