سوشل میڈیا ٹرینڈز: اداکارہ صبا قمر اور مولانا عزیزالرحمن میں کیا تعلق ہے؟؟

سوشل میڈیا ٹرینڈز: اداکارہ صبا قمر اور مولانا عزیزالرحمن میں کیا تعلق ہے؟؟

908 views

حال ہی میں سوشل میڈیا پر عمر رسیدہ استاد مفتی عزیز الرحمٰن کے بارے میں مدرسہ کے ایک طالبعلم صابر شاہ کے ساتھ بداخلاقی کی گردش کرتی ویڈیو نے ایک الگ ہی بحث چھیڑ دی  ہے

صبحین عماد

 تفصیلات کے مطابق شمالی چھائونی کے علاقہ میں ایک معروف مدرسہ جامعہ منظور الاسلامیہ کے عمر رسیدہ استاد مفتی عزیز الرحمٰن کے بارے میں مدرسہ کے ایک طالبعلم صابر شاہ کے ساتھ بداخلاقی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دکھایا جا رہا ہے کہ استاد صاحب طالبعلم کے ساتھ بداخلاقی کر رہے ہیں، ویڈیو جنگل میں آگ کی طرح پھیلی طالبعلم سے زیادتی کے بارے میں الزام علیہ مفتی عزیز الرحمٰن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کو انہوں نے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ۔

یہ پڑھیں: بزرگ نما انسان درندہ صفت نکلا ، نوجوان کی شکایت پر مقدمہ درج

تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایک الاگ کہانی زیر گردش ہے جس میں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ وہی مفتی صاحب ہیں جنہوں نے صبا قمر کے مسجد میں گانا فلمانے پر کہا تھا کہ مسجد کا تقدس پامال ہوا ہے جبکہ ان ہی کی جانب سے صبا قمر پر مقدمہ بھی دائر کیا تھا

سماجی راپطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر صبا قمر ٹاپ ٹرینڈ میں زیر گردش ہیں جبکہ صارفین کی جانب سے یہی کہا جارہا ہے دوسروں پر الزام لگانے اور تقدس پامالی کے سرٹیفیکٹ دینے والے آج خود کھل کر سامنے آگئے ہیں

دوسری جانب مفتی عزیز الرحمٰن کے مطابق مدرسہ کی انتظامیہ انہیں مدرسہ سے نکالنے کی بڑی دیر سے سازش کر رہی تھی وہ اس مدرسہ میں 40سال سے تدریس کا کام کر رہے ہیں وہ ۔اس وقت 70سال کے ہیں، الزام لگانے والا طالبعلم صابر شاہ مدرسہ کے کچھ افراد کے کہنے پر ایسا کر رہا ہے

یہ بھی پڑھیں : مسجد وزیرخان میں شوٹنگ، گلوکار بلال سعید اور صبا قمر کی وضاحت

 میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کام نہیں کیا تقریباً دو اڑھائی سال قبل یہ ویڈیو بنائی گئی ہے مجھے چائے میں نشہ آور چیز ملا کر پلائی گئی۔ ویڈیو سے ظاہر ہو رہاہے کہ میں ہوش و حواس میں نہیں ہوں۔

source: twitter
content: Saabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *