queen1 808x454

ملکہ برطانیہ شہزادہ ہیری کے امریکی ثقافت اختیار کرنے پر پریشان

89 views

ملکہ الزبتھ دوئم پوتے شہزادہ ہیری کے شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر امریکا میں رہائش اختیار کرنے اور وہاں کی ثقافت میں ڈھلتا ہوا دیکھ کر پریشان ہیں۔

غانیہ نورین

شہزادے ہیری اور اداکارہ میگھن مارکل کی شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد شہزادے اور ملکہ برطانیہ کے درمیان خاندانی خلش پروان چڑھنے لگی۔ گزشتہ سال اداکارہ میگھن کے تہلکہ خیز انکشافات نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔

دونوں کے درمیان اکثر ملکی اور غیرملکی خبروں کی زینت بنی رہتی ہے جبکہ شاہی خاندان سے متعلق افواہیں بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں: میگھن کے تہلکہ خیز انکشافات، ملکہ برطانیہ پر شدید دباؤ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، شاہی مبصر انگریڈ سیورڈ نے بتایا ہے کہ جذباتی محاذ آرائی سے نمٹنے کے لیے شاہی محل ہمیشہ سے منفرد انداز کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملکہ برطانیہ کو یہ بات منظور نہیں ہے کہ شہزادہ ہیری ہر بار معاملات غلط ہونے پر عدالت میں مقدمہ چلائیں۔

شاہی مبصر نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملکہ پرنس ہیری کو خوش دیکھناچاہتی ہیں لیکن ان کی پریشانی کی وجہ ہیری کا امریکی انداز سے مسائل کو حل کرنا ہے کیوں کہ اس سے ہر بار معاملات مزید بگڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان میں چھپے حیران کن راز

خیال رہے کہ پرنس ہیری اور اُن کی اہلیہ میگھن مارکل نے برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنی بیٹی کے نام سے متعلق بے بنیاد خبریں پھیلانے پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔

شاہی جوڑے کی جانب سے اس خبر پر ردِعمل بھی سامنے آیا تھا کہ ملکہ برطانیہ ہی سب گھر والوں میں سے وہ پہلی ممبر تھیں جنہیں اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ شاہی جوڑے کے ترجمان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اگر ملکہ برطانیہ اس حوالے سے اجازت نہ دیتی تو وہ یہ نام استعمال نہیں کرتے۔

شہزادہ ہیری اور اداکارہ میگھن مارکل کے ہاں بیٹی کی پیدائش 4 جون کو ہوئی تھی جس کے بعد بیٹی کے نام سے مختلف قیاس آرائیاں اور بے بنیاد خبروں نے جنم لے لیا تھا۔

مزید پڑھیں: شہزادہ ہیری اورشہزادی میگھن مارکل کاشاہی خاندان سے علیحدگی کا فیصلہ

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *