PM Im 808x454

خواتین کے لباس پر وزیراعظم کا بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث

132 views

فحاشی کے بیان پر ایک بار پھر وزیراعظم تنقید کی زد میں ۔۔۔۔ سوشل میڈیا پر جب نئی بحث چھیڑی تو کچھ ہوئے کپتان سے ناراض تو کسی نے کی خان صاحب کی حمایت ۔  

غانیہ نورین

راوا نیوز کے مطابق گزشتہ سال وزیراعظم عمران خان کی جانب سے زیادتی کے ملزم کو نامرد کرنے کی سزا کی منظوری کے بعد ہر کسی نے سکھ کا سانس لیا تھا اور ملک میں جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی کیلئے پرامید دکھائی دیئے تھے۔

مزید پڑھیں: بڑی خبر! زیادتی کے مجرموں نامرد کرنے کے قانون کی منظوری

مگر چند دن قبل ملکی میڈیا پر زینت بننے والے مفتی عزیز الرحمٰن کی نازیبا ویڈیو نے ایک پھر ہنگامہ برپا کردیا، سوشل میڈیا پر ویڈیو جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی jجس پر ہر کسی نے دل کھول کر بھڑاس نکالی، ہر کوئی نے واقعے پر شدید مذمت کی، تاہم ان تمام صورتحال پر کسی حکومتی نمائندوں کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن سونے پر سہاگا اس وقت ہوا جب حاکم پاکستان وزیراعظم عمران خان نے ملک میں فحاشی اور زیادتی کے واقعات کا ذمہ دار خواتین کے مختصر لباس کو ٹھرایا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو سوائے روبوٹ کے مردوں پر اثر تو پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے معاشرے کے لیے مضمرات ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو لامحالہ اس سے مرد پر اثر پڑے گا الا یہ کہ وہ روبوٹ ہو، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں صارفین اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور بیشتر صارفین اس بیان پر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا ٹرینڈز: اداکارہ صبا قمر اور مولانا عزیزالرحمن میں کیا تعلق ہے؟؟

نا صرف سوشل میڈیا بلکہ پاکستانی مین اسٹریم میڈیا میں بھی مختلف ٹاک شوز میں اس موضوع پر بات چیت کی جا رہی ہے، صحافی سے لیکر شوبز اور معروف شخصیات نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر کھل کر تبصرہ کیا۔

 

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں بڑھتے زیادتی اور جنسی حراساں کرنے کے واقعات کوئی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک سانحہ ہوتا ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے، کیونکہ یہ واقعات معاشرے میں بگاڑ کی دلیل بنتے ہیں۔

 Content:Ghania Naureen
Source:Media Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *