ik jemima 808x454

خواتین سے متعلق لباس پر وزیراعظم کی سابق اہلیہ نے خاموشی توڑ دی

189 views

خواتین کے لباس سے متعلق عمران خان کے بیان پر سابق جمائمہ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ” ایک بار پھر گہری سانس لیجیے”۔

غانیہ نورین

راوا نیوز کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کا حالیہ انٹرویو صارفین کے تنقید کے نشانے پر ہے، انہوں نے انگلش نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو سوائے روبوٹ کے مردوں پر اثر تو پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو لامحالہ اس سے مرد پر اثر پڑے گا الا یہ کہ وہ روبوٹ ہو، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے جہاں کچھ صارفین وزیراعظم کے مخالف دکھائی دے رہے ہیں تو بعض عمران خان کے اس بیان کو درست اور حقیقت پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کے لباس پر وزیراعظم کا بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث

تاہم اب وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ انٹرویو پر اُن کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ بھی میدان میں آگئی ہیں جس میں انہوں نے خواتین کے لباس زیب تن کرنے اور جنسی تشدد میں اضافے سے متعلق رد عمل دیا۔

جمائمہ گولڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی کوئی پرانی ٹوئٹ کو دوبارہ شئیر کیا جو انہوں نے اپریل میں کی تھی اور اس پر مختصراً لکھا اور ایک بار پھر گہری سانس لیجیے۔

جمائمہ نے اپنی پرانی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ایک مرتبہ جب وہ سعودی عرب میں تھی تو ایک بوڑھی عورت نے نوجوانوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بوڑھی عورت نے عبایا پہن رکھا تھا اور ان لڑکوں سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ اپنا چہرہ چھپالیں۔

جمائمہ گولڈ اسمتھ کے اس ٹوئٹر پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو میں بولے جانے والے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے جو انہوں نے خواتین کے لباس سے متعلق کہا تھا۔

Source:Social Media
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *