work 808x454

عالمی ادارہ صحت نے زیادہ کام کرنے والوں کو خبردار کردیا

34 views

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

غانیہ نورین

کسی بھی چیز کی زیادتی انسانی صحت کیلئے خطرناک ہوتی ہے ، زیادہ کھانا ، زیادہ سونا ،مشروبات زیادہ پینا ،زیادہ ادویات لینا، روز مرہ زندگی میں الیکڑونک مشین کا زیادہ استعمال حتی کہ کام کی زیادتی بھی انسانی ذندگی کو موت کے منہ میں ڈال سکتا ہے۔

کہتے ہیں کسی بھی الجھن سے نکلنے کیلئے اپنے آپ کو کام میں مصروف کرلے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ کام کرنا بھی آپ کی موت کا سبب بن سکتا ہے؟؟

اقوام متحدہ نے زیادہ کام کرنے والوں کو خبردار کردیا ہے،  عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ میں کام کے طویل اوقات سے انسانی صحت پر پڑنے والے بُرے اثرات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایک تہائی اموات کی وجہ سامنے آگئی

اس رپورٹ کے مطابق کام کے طویل اوقات کی وجہ سے انسانی صحت پر اتنے بُرے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اقتصادی عدم اطمینان کی وجہ سے کئی لوگوں کو طویل اوقات تک کام کرنا پڑتا ہے اور یہ صورت حال عالمی وبا کورونا کے ایام میں خاص طور پر زیادہ دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے انسانوں کو مختلف امراض کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں عارضہ قلب سب سے زیادہ ہے۔

سال 2016 میں کام کے طویل اوقات کی وجہ سے دنیا بھر میں 7 لاکھ 45 ہزار افراد اپنی زندگی سے محروم ہو گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کی موت ہارٹ اٹیک اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ اضافہ سال 2000 کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔

ریسرچ میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں کام کے زیادہ اوقات کا سامنا کرنے والی آبادی نو فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جہاز سے متعلق 4 ایسی حیران کن باتیں جو کردیں آپ کو حیران

ڈبلیو ایچ او کے شعبہ ماحولیات و صحت کی ڈائریکٹر ماریہ کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں پچپن گھنٹے کام کرنے سے صحت کے شدید مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے لیے عام لوگوں تک بنیادی معلومات پہچانا اور ملازمین کی صحت کا تحفظ بھی بہت ضروری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس آڈہانوم گیبرائسس کا کہنا ہے کہ حکومت اور اداروں کو اپنے ملازمین کی صحت کو مقدم سمجھنا چاہیے جبکہ ملازمین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ زندگی کے سامنے روزگار کی کوئی اہمیت نہیں اور بہتر ہے کہ کام اس طرح کیا جائے کہ ہارٹ اٹیک یا اسٹروک سے محفوظ رہا جائے۔

مزید پڑھیں: ٹریفک کے شور نے گنگناتی چڑیوں کو خاموش کردیا

Source:HumNews
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *