hg 1 808x454

کیا ریپ صرف لباس کی وجہ سے ہوتا ہے ؟

157 views

مرد کوئی روبوٹ نہیں ہے، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا، وزیر اعظم عمران

فہمیدہ یوسفی

امرتا پریتم نے کہا تھا کہ ہماری عزت کا سب سے چھوٹا اور بڑا حوالہ عورت ہے۔

پاکستان میں سرکاری  اعداد و شمار  کی  رپورٹ کے  مطابق   اس وقت روزانہ   کم از کم 11 خواتین جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں ۔

واضح رہے کہ  یہ تعداد پولیس اور متعلقہ داروں کے پاس موجود موصو ل ہونے  والی شکایات  کے نتیجے میں یہ  رپورٹ مرتب کی گئی۔

دوسری جانب لا  اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015 سے اب تک مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے 22 ہزار 37 مقدمات درج ہوئے جن میں سے چار ہزار 60 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اب تک 77 مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور صرف 18 فیصد کیسز پراسیکیوشن کی سطح تک پہنچے ہیں۔

How to Prevent Rape – Inside a Rapist's Mind | Mokh Libnene

سال 2020 میں جنسی تشدد، گینگ ریپ اور کام کی جگہ پر ہراسانی کے ساتھ ساتھ کم عمری کی شادی کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ ایسے واقعات کا ڈیٹا نامکمل ہے کیونکہ بہت سارے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

اسی طرح سال 2020 میں  لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا بیشتر وقت آن لائن گزرا جس کی وجہ سے ملک میں سائبر ہراسانی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین صحافیوں کے حیران کن ہراسانی کے انکشافات

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سائبر ہراسانی کے حوالے سے قائم ہیلپ لائن پر سال 2020 میں مجموعی طور پر 3246 شکایات موصول ہوئیں  جن میں آن لائن کے علاوہ گھریلو تشدد کی شکایات بھی درج کرائی گئیں۔ سائبر ہراسانی کی شکایات میں 68 فیصد خواتین سے متعلق تھیں۔دیکھا گیا کہ  لاک ڈاون میں سائبر ہراسانی کے رجحان میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ان دنوں میں شکایت کی شرح 189 فیصد بڑھی۔

As ruling party fans spew online abuse, Pakistan's female journalists call  for government action - Committee to Protect Journalists

تسلسل سے یکھا گیا ہے جنسی ہراسانی کے  کیسز رپورٹ  ہی نہیں کیے جاتے جبکہ کوشش کی جاتی ہے کہ مقدمےکا  اندراج  نہیں کیا جاۓ اور تصفیہ کرلیا جاۓ یہاں تک کہ  زیادہ تر پولیس  بھی متاثرہ خواتین کے مقدمات ہی درج نہیں کرتی جو ریپ کا شکار ہوئی ہوں۔

بدقسمتی سے ملک  میں  جنسی ہراسانی کے واقعات کے   مقدمات میں سزائیں ملنے کی شرح پانچ فی صد سے بھی کم ریککارڈ کی گء ی ہے ۔ اس ضمن میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں تفتیش کے نظام میں موجود خامیاں، شہادتیں اور گواہی جمع کرنے کے نظام میں نقائص کے ساتھ ٹرائل کے مرحلے پر بعض قانونی پیچیدگیاں ہیں جس کی وجہ سے ملزمان کو سزا نہیں مل پاتی ہے۔

 ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صنفی فرق 0.7 فیصد پوائنٹس اضافے کے بعد 55.6 فیصد ہوچکا ہے اور اسی باعث اس کا شمار صنفی مساوات کے لیے بدترین ممالک میں کیا جارہا ہے ۔

مزید پڑھیں: صنفی مساوات انڈیکس: پاکستان 153 واں نمبر پر

قابل غور بات یہ ہے کہ اس فہرست میں صرف عراق، یمن اور افغانستان ہی پاکستان سے بدتر ممالک ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان میں خواتین کو لیکر عدم برداشت کا رویہ کس قدر شدت اختیار کررہا ہے ۔

  اور ایسے میں جب وزیر اعظم پاکستان ایک بار نہیں دوسری بار اس طرح کا بیان دیں جس سے ایک بار پھر بحث ریپ کے  اصل محرکات سے  ہٹ کر وہاں الجھ جائے کہ  خواتین سے ریپ  شاید صرف خواتین کے لباس سے جڑا ہے۔

اس سے پہلے بات کریں کہ وزیراعظم عمران خان نے کیا کہا  ذرا

 دیکھتے ہیں کہ سال 2018  میں بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک نمائش کے دوران ریپ کے متاثرین کے کپڑے رکھے گئے تھے یہ  نمائش بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے مولنبیک نامی قصبے میں کی گئی جسے ’کیا یہ میرا قصور ہے؟‘ کا نام دیا گیاتھا۔

لیکن آخر اس کی وجہ تھی کیا  اس کی بینادی وجہ تھی کہ اس روایتی تاثر کو زائل کیا جا سکے جس میں جنسی جرائم کا ذمہ دار لباس کو قرار دیا جاتا ہے۔

کپڑے

اب ذرا چلتے ہیں عمران خان کے بیان کی جانب جس میں انہوں نے امریکی ٹی وی سے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں ہے، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا۔

تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے کہ  عمران خان نے اس طرح کا بیان دیا ہو اس سے پہلے بھی  عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پردہ کا تصور معاشرے میں برائی کی جانب اکسانے سے روکنے کے لئے ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے میں فحاشی کو پھیلنے سے نہ روکا جائے تو اس کے نتائج ہوں گے۔ بہت سے افراد میں خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

 اس وقت بھی ان کے بیان پر سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ ہوگیا تھا اور ان سے  موافی تک مانگنے کا مطالبہ کیا گی اتھا جبکہ ان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے ان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئےٹویٹ کیا تھا۔

جس عمران کو میں جانتی تھی وہ تو کہتا تھا کہ مرد کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہیے ناکہ عورت پر’۔

اور اب ایک بار پھر ان کے اس بیان پر خواتین کی جانب سے ردعمل سامنے آرہا ہے۔

 مریم نواز نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جو چھوٹے بچے بچیاں زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں، کیا وہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے غلط کپڑے پہنے ہوئے تھے؟ انہیں اس قسم کی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے، انہوں نے بہت پست سوچ کی عکاسی کی جس پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کراتی ہوں‘۔

جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کسی مرد کو یہ حق نہیں کہ وہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور جرائم کا الزام خواتین یا اُن کے لباس پر عائد کرے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کی وجہ خواتین کا کوئی فیصلہ یا اقدام نہیں ہوتا، بلکہ مردوں کا گھٹیا اور ناپاک فیصلہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے  بیان  کے حق  میں ملیکہ بخاری   نے کہا کہ وزیراعظم نے اینٹی ریپ قانون بنانے کا کہاپہلے کبھی کسی وزیراعظم نے خصوصی عدالتیں بنانے کا نہیں کہا۔

زرتاج گل نے  کہا کہ تحریک  پاکستان کے بعد خواتین کو پاکستان تحریک انصاف نے موبلائز کیا ہے ۔

جبکہ سوشل میڈیا پر عمران خان کے  بیان کی حمایت اور مخالفت میں میدان گرم ہی رہا۔

مزید پڑھیں: خواتین کے لباس پر وزیراعظم کا بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث

تاہم سوال اتنا ہے کہ  قبرستان میں قبر کے اندر خواتین کا لباس مناسب نہیں ہوتا،مدارس،اسکول،کالج یونیورسٹی کے طلباء کا لباس مختصر ہوتا ہے، گھر کے اندر پیمپر پہننے والے بچے بچیوں کا لباس نامناسب ہوتا ہے، اب مرد روبوٹ تو نہیں کہ ان پر اس کا اثر نہ ہو، تو سزا عزیزالرحمن کو نہیں طالبعلم صابر کو ملنی چاہئے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *