kainat 808x454

گھوٹکی ٹرین حادثہ کائنات کی معصوم پکار کون سنے گا

526 views

زندگی میں مجھے سب سے مشکل کام کسی  کو پرسہ دینا لگتا ہے میرے لیے  یہ مرحلہ کبھی بھی آسان نہیں ہوتا اور آج تو میرے سامنے  ایک شدید زخمی معصوم بچی تھی  جو پٹیوں میں جکڑی  ہے  اور مجھے دیکھ کر مسکرا کر اس نے کہا کہ دعا کریں کہ میں جلدی سے اپنے پیروں پر چل کر اپنے گھر چلی جاؤں ۔

فہمیدہ یوسفی

وہاں اب امی ابو تو نہیں ہونگے لیکن میرا بھائی تو ہے نا میرے پاس اور  پھر ہنستے ہنستے روکر کہا کہ  تکلیف میں تو بہت ہوں لیکن بہادر بھی بہت ہوں ۔میں اپنے امی ابو کے جنازے میں نہیں تھی نا لیکن ان کے لیے دعا کررہی ہوں آپ بھی کردیں ۔

اس  معصوم کی اس  حالت کو اپنے لفظوں میں کیسے قید کروں اس کے لیے کیا کہوں اور کیا لکھوں  اس کو یہ دلاسہ کیسے دوں کہ تم جلدی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی اس کو یہ امید کیسے دوں کہ  تمہارے ماں باپ گھر پر اپنی اکلوتی گڑیا کا انتظار کررہے ہیں۔ کیسے کروں اس معصوم سے تعزیت،  جملے ہیں کہ ٹوٹ ٹوٹ جارہے ہیں ضبط ہے جو چھوٹ چھوٹ  جارہا ہے۔

کراچی کے سب سے بڑے ہسپتال کے بستر  پر لیٹی پٹیوں میں جکڑی یہ تیرہ سالہ معصوم مریض خوش قسمت تو  اتنی ہے جو گھوٹکی ٹرین حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں شامل ہے  اور بد قسمت اتنی ہے اس کم عمری میں ماں باپ اور بھائی کو کھودیا ہے ۔

مزید پڑھیں: گھوٹکی:دو ٹرینوں میں تصادم ،30 افراد جاں بحق ،درجنوں زخمی

ابھی تو جسم پر پڑے زخموں کی تکلیفوں نے اس کو یہ سوچنے کی مہلت  نہیں دی ہے کہ زندگی بھر ان زخموں کو جھیلنا ہے  جو روح پر نشتر کی طرح چھبنے والے ہیں  ابھی تو اس کو یتیمی اور یسیری کا دکھ جھیلنا ہے ابھی تو اس کی خالی نظروں نے ماں کو ڈھونڈنا ہے۔ ابھی تو اپنوں کے  بدلتے رنگ دیکھنے ہیں ابھی تو زمانے کے وہ سبق پڑھنے جو اسکول میں نہیں پڑھتے ہیں اس کی عمر کے بچے ۔

کبھی ہنستی ہے کبھی روتی ہے کبھی کہتی ہے جو ہوا وہ تو اللہ کی مرضی ہے تو کبھی کہتی ہے میرے ساتھ کیوں ہوا ۔ کبھی ادھر دیکھتی ہے کبھی ادھر دیکھتی یہ تیرہ سالہ بچی کائنات ہے جو اس وقت شدید زخمی حالت میں اغاخان

ہسپتال میں زیر علاج ہےجس کو مالی نہیں بلکہ جذباتی مدد کی بھی ضرورت ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثے  نے جہاں ایک بار پھر ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے  وہیں  اپنے پیچھے کئی الم ناک کہانیاں بھی چھوڑیں ہیں ان کہانیوں کو جب بھی  یاد کیا جائیگا تو ہر صاحب  دل کی آنکھوں میں آنسو تو ضرور آئینگے۔

ایک ایسی ہی وائرل ہونے والی جذباتی ویڈیو  میں ایک تیرہ سالہ بچی  جو گھوٹکی ٹرین حادثے  میں بچ گئی ہے ۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ  ’اس کا کسی اچھے ہسپتال میں علاج کروایا جائے کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس کے علاج پر لاکھوں روپے کا خرچہ ہوگا  جو وہ  تو برداشت نہیں کر سکتی

 اس تیرہ سالہ بچی کی اس  جذباتی وڈیو  کا نوٹس لیتے ہوۓ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کائنات کو مزید علاج کے لیے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے  جہاں اب اس کا علاج کیا جارہا ہے ۔

 اس حادثے میں  کائنات  کی تو  کائنات اجاڑ دی ہے  اس نے  اپنے ماں باپ  اور جوان  بھائی سمیت خاندان کے پانچ افراد کو کھودیاہے۔ خود کائنات اس ہولناک واقعے میں  شدید زخمی ہے اسکے پیروں میں فریکچر ہیں ہاتھ میں بھی اب نہ جانے کب وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے گی ۔

جب میں اس سے ملنے پہنچی تو اسکی حالت دیکھ کر سمجھ بھی تو نہیں آرہا تھا کہ کہوں بھی تو کیا دلاسہ بھی دوں  تو کیا پوچھوں بھی تو کیا پوچھوں ۔

 حادثے کے بارے میں بات کرتے ہوۓ اس کا کہنا تھا کہ  ہم بھائی کی شادی کے لیے کراچی سے ٹوبہ ٹیک سنگھ جارہے تھے  میں اوپر برتھ پر سورہی تھی جب حادثہ ہوا تو مجھے بس یہ یاد ہے کہ توہ نیچے گر گئی تھی  اور جب ہوش آیا تو منہ میں مٹی تھی اور ٹانگیں بھی مٹی میں  تھیں جبکہ  مجھے اپنی مما کی بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آرہی تھیں اس کے بعد شدید تکلیف سے میں بے ہوش ہو گئی جب ہوش آیا تو منہ میں مٹی تھی اور ٹانگیں بھی مٹی میں  تھیں پھر مجھے وہاں سے نکال کر باہر لٹادیا گیا  مگر میری مما کو کسی نے نہیں بچایا ۔

کائنات  کو سب سے پہلے مقامی ہسپتال پہنچایا گیا او اس کے بعد رحیم یار خان میں واقع شیخ زید ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔اس کے بعد کراچی میں ریلوے ہسپتال میں پہنچایا گیا جبکہ اس کو جناح ہسپتال بھی لایا گیا تھا تاہم فیمیل وارڈ میں جگہ نہ ہونے کے باعث  اور انفیکیشن سے خطرے  کے باعث  واپس ریلوے ہسپتال شفٹ کیا گیا تھا جہاں  ناکافی  سہولیات اور وڈیو نوٹس کے بعد اور

 پاکستان نیوی کے حکام کی تجویز پر کائنات کو پاکستان نیوی کے شفا ہسپتال  منتقل کردیا گیا تھا اور اس کے بعد  اسکو آغا خان میں شفٹ کیا گیا ہے اور سندھ حکومت کے مطابق وزیر اعلی اور بلاول بھٹو کی خصوصی ہدایت پر کائنات کو ہر ممکن علاج کی سہولیات دی جارہی ہیں ۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں: بلڈ کینسر سے لڑنے والا 7 سالہ ننھا بہادر۔۔راوا اسپیشل ۔۔

کائنات کا کہنا تھا یہ ہسپتال تو بلکل کہانیوں میں جیسے محل ہوتے ہیں ویسا ہی ہے اور سب بہت اچھے ہیں میرا خیال بہت رکھتے ہیں۔

مجھ سے بہت لوگ ملنے آرہے ہیں مجھے درد تو بہت ہے لیکن میں بہادر بھی بہت ہوں ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ تم جلدی ٹھیک ہوجاؤگی۔

اس کو کیا پتہ اب درد تو اس کو تاحیات رہیگا ۔

ہسپتال اسٹاف نے کائنات کے بارے میں بات کرتے ہوۓ کہا کہ بہت پیاری بچی ہے اور بلاوجہ تنگ بھی نہیں کرتی ہے اسکی حالت پہلے سے تو بہت بہتر ہے  لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اب اپنے پیروں پر کب کھڑی ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی ایک ٹانگ میں شدید فریکچر ہے اسی میں راڈ بھی  ڈالی ہے  جبکہ اس کے ہاتھ میں بھی فریکچر ہے۔  زرد چہرے اور سوکھے ہونٹوں والی بچی کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ لگانا تو بلکل مشکل نہیں ہے کہ اس میں خون کی بھی شدید کمی بھی ہے۔ جبکہ اسٹاف کے مطابق بچی شدید جذباتی دباؤ میں ہے اس کو نفسیاتی مدد کی بھی ضرورت ہے۔

‘ٹیم راوا سے بات کرتے ہوۓ کائنات نے وزیر اعظم عمران خان  بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ ان سب کا بہت شکریہ کہ وہ میرا اتنا اچھا علاج کروارہے ہیں اور اب میری ان سے ایک اپیل ہے کہ میرے بھائی کو جاب دے دیں ہمیں ایک چھوٹا سا گھر دے دیں اور میرے پڑھنے  کا ماہانہ  خرچہ دے دیں کیونکہ اب میرے ابو بھی نہیں ہیں ۔

Sindh Govt To Look After Ghotki Rail Accident Survivor Girl Kainat | Daily Outcome

واضح رہے کہ کائنات کے والد ریاض ملک گذشتہ 25 سالوں سے کراچی میں رہائش پذیر تھے۔ وہ بلال کالونی میں کرائے کے گھر میں رہتے تھے  جہاں وہ اسٹیٹ ایجنسی کے ساتھ لائف انشورنس کا بھی کام کرتے تھے۔ جبکہ کائنات اس وقت تکبیر ہایٔ اسکول میں نویں جماعت کی طالبہ  ہیں اور ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ۔

اس لحاظ سے تو  کائنات خوش قسمت ہے کہ اس کی وڈیو کا نوٹس ہوگیا اور اس کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔

 لیکن جب اس کا علاج ہو جائیگا تب کیا ہوگا اس  یتیم غریب  بچی کے پڑھنے لکھنے  کا خرچہ اب کون دیگا  مہینے کے خرچے کے لیے اس کی آنکھیں کس  کی طرف دیکھ رہی ہونگی ۔

اس کی اس معصوم اپیل کو کون سن رہا ہے  وعدے دعوے تو بہت ہوتے ہیں  لیکن آگے بڑھ کر اس کو سھنبالنا  تو ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

کائنات  کے  پیروں کے نیچے زمین نہیں ہے سر پر سائبان نہیں ہے اب ریاست کو  اس کا سائبان بننا ہوگا اسکی معصوم سی پکار کو سننا ہوگا کیونکہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے  ۔

تو انتظار رہیگا مجھے کہ اس  معصوم کی  پکار کون  سنتا ہے اور اسکا ہاتھ پکڑتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *