Untitled 1 808x454

تیار ہوجاو۔۔لوگ دیکھنے آرہے ہیں ۔۔

90 views

آو بیٹا چائے لے آو ۔۔بتاہ کیا کرتی ہو ؟ کھانا بنا لیتی ہو ؟ گھر کے کام کر لیتی ہو ؟ پڑھائی کہاں تک کی ؟ ااگے پڑھنا چاہتی ہو ؟ جاب کرنا چاہتی ہو؟ ارے کیا رکھا ہے اس سب میں گھرداری ہی عورت کی اصل زندگی ہے۔ یہی زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔

صبحین عماد

 یہ سوال سن کے شاید کسی کو بھی حیرت نہیں ہوئی ہوگی کیونکہ یہ سوال ہر لڑکی نے اپنی زندگی میں کبھی نا کبھی ضرور سنے ہوتے ہیں اور یہ سوالوں کا سلسلہ بس یہی تک نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل لسٹ ہے جس میں کمی پیشی کیے بغیر سوالات ہر بدلتے دور  کے ساتھ بڑھائے جاتے ہیں ۔

میں آج تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شادی سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے مشکل کام کیوں ہے؟ کون ہیں وہ لوگ جن کے پاس پیمانہ ہے ہر لڑکی کی خامیاں اور خوبیاں ناپنے کا ۔کہنا مناسب نہیں لیکن نہ لکھا تو قلم ناراض ہوگا کہ یہ لڑکی کا رشتے دیکھنے والے آنے سے پہلے اپنے بیتے کو کیوں نہیں دیکھ کر آتے اپنے بیٹے کو چاند اور دوسرے کی بیٹی کو گرہن سمجھنے والے آنکھیں ٹیسٹ کیوں نہیں کرواتے۔؟

پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں شادی کے منتظر لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں ڈھلتی جارہی ہیں۔ اس پریشانی کی اصل وجہ رشتوں کی کمی نہیں بلکہ رشتوں کا معیار پر پورا نہ اترنا ہے اور یہ معیار والدین بچپن سے ہی اسقدر ذہن نشین کردیتے ہیں کہ پھر حقیقت والا چاند بھی چاند نہیں لگتا ۔

شادی کے لیے لڑکے کے والد ین اور گھر کے دیگر افراد نے اپنے معیارات متعین کر رکھے ہیں کہ ان کے گھر میں آنے والی بہو صاحب حیثیت و اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی ہو، اعلیٰ تعلیم یافتہ، پر کشش شخصیت، گوری رنگت، دبلی پتلی، دراز قد، خوش شکل، خوش لباس ہو۔ آواز پست ہو، بولے تو منہ سے پھول جھڑیں، چلے تو قیامت کی چال چلے، امور خانہ داری کی ماہر ہو، ہوسکے تو بہو ڈاکٹر، انجینئر یا بینکار ہو،  گویا لڑکی نا ہو ہر فن مولا ہو جادو کی چھڑی ہاتھ میں لے کر گھومتی ہو بے شک بعد میں جاب کرنے پر پابندی عائد کردی جائے بےشک پھر صرف اس چاند جیسی بہو کو کچن میں گرہن لگا دیا جائے ۔

عجب رسم ہے کہ یہ چاند سی دلہن ڈھونڈنے کی خواہش مند، لڑکے کی ماں اور بہنیں کسی کی بیٹی کو ہر زاویئے سے اور چلا پھرا کر دیکھتی ہیں گویا قربانی کےلیے جانور دیکھا جارہا ہو۔

اس کے علاوہ کٹھن اور چبھتے ہوئے سوال و جواب سے لڑکی کا ہر طور جائزہ لیاجاتا ہے ایسے جیسے بازار میں آئے ہوں ،لڑکی نہ ہوئی گویا کوئی سامان ہوگیا جس کو خریدنے سے پہلے مکمل چھان پھٹک کی جائے گی اور سمجھ نا آیا تو سودا نہیں ہوگا بلکہ آگے دیکھں گے اور ستم یہ کہ جہاں چھوٹی بہن کی شادی ہوچکی ہو وہاں ان کے ہزاروں چبھتے سوالوں میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کی شادی سے پہلے چھوٹی بہن کی شادی کیوں ہوگئی؟ اس موقعے پر دعوتیں اڑائی جاتی ہیں،رشتے کے نام پر شام کی چائے کا مزہ لینے ایک سے دوسرے اور پھر تیسے گھر جایا جاتا ہے  اور پھر کہیں لڑکی پسند نہیں تو لڑکے کے گھر والے، بالآخر انکار کرکے معصوم لڑکیوں کی دل شکنی کرتے ہیں؛ اور پسند نہ آنے کی وجہ بھی بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ لڑکی کی شکل و صورت میں یہ نقص ہے ،رنگ کم ہے ،اچھی ہے بس زرا موٹی ہے،قد چھوٹا ہے اور ناجانے کیا کیا  ایسا کہتے ہوئے نہ ان کا دل کانپتا ہے اور نہ ہی ان کے پیروں کے نیچے سے زمین سرکتی ہے۔

لڑکے والاے ہونے کے غرور میں لڑکیوں کو جانوروں سے بھی کم وقعت سمجھ لیا جاتا ہے اور ان لوگوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ ایک جیتی جاگتی لڑکی کو آپ کے سخت الفاظ کسقدر تکلیف دے گئے ہوں گے لیکن یہ سب تو ان کی بات ہے جس کے دلوں میں خوف خدا ہو۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب یہ لوگ خود اپنی بیٹی کےلیے آنے والے رشتے کا جائزہ لیتے ہیں توان کا معیار بالکل تبدیل ہوتا ہے، اور یہ چاہتے ہیں کہ لڑکے والے صرف ہماری بیٹی کی شرافت، سگھڑ پن اور اس کی سیرت کو دیکھ کر رشتہ طے کرلیں کیونکہ وہ ان کی بیٹی ہے تو چاند ہی ہو گی دوسرے کی بیتی کا بھلے دل چکنا چور کیوں نا کیا ہو ۔

لیکن سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم بیٹے والے بن کر کسی کی بیٹی کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں تب ہم یہ سب کچھ کیوں نہیں سوچتے؟ تب ہمارا معیار کیوں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہوتا ہے؟ کیوں اس وقت صرف صورت یاد رہتی ہے سیرت کیوں نظر نہیں آتی اور کیوں پہلی ہی ملاقات میں اس کے ہاتھ میں ریجیکشن کا سرٹیفکٹ تھما دیا جاتا ہے ؟

انسانوں کو جانور سمجھنے سے بہتر ہے کہ دل بڑا کرکے اسے بھی اپنی بیٹی ہی بنانے کا سوچیں اگر کھانا نہیں آتا تو سیکھ جائے گی،کام نہیں کرتی سر پر پڑے گی تو کر ہی لے گی دیر سے اٹھتی ہے یہ مسئلے اتنے بڑے نہیں جتنا ہم نے انہیں بنا لیا ہے دل کو بڑا کرلیں یہ عام سے دیکھنے والی لڑکیاں دلوں میں گھر کر لیں گی

خیر یہ ایک بحث ہے اور بحث بھی ایسی جس کا کچھ حاصل ہی نہیں کیونکہ ہم بدلنے کی بات تو بڑے زور و شور سے کرتے ہیں بدلتے پھر بھی نہیں نا خود کو نا ہی اپنی سوچ کو ۔۔

content: Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *