navy 2 808x454

پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ ،جو میں نے دیکھا

191 views

پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ جو میں نے دیکھا تاریخ چھبیس جون دن ہفتہ اور کراچی کی خوب صورت صبح جب آسمان کو بھی ہلکے ہلکے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا یوں لگ رہا تھا کہ یہ بادل بھی شاید کسی کو سلامی دینے کے لیے موجود ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

اور موجود کیوں نہ ہوتے بادل کیونکہ آج پھر وطن کے کچھ سرپھرے نوجوانوں نے اپنی سانسیں باضابطہ طور پر وطن کے نام لکھنے کا حلف اٹھایا ہے ۔

اپنی سانسوں سے وفا کی نئی داستانیں رقم کرنے کا عہد لیا ہے ۔

ان کا بس ایک ہی خواب ہے کہ بس اے وطن تو سلامت رہے ۔

پاکستان نیول اکیڈمی میں موجود سفید یونی فارم میں ملبوس نوجوانوں کی آنکھوں میں صرف اور صرف ایک عزم جھلک رہا تھا اور وہ تھا کہ کہ اگر کسی نے میلی آنکھ سے اس ہماری جانب نگاہ اٹھائی تو سمندر کے یہ محافظ اپنی جان کی بازی کی لگادینگے مگر کسی ناپاک نگاہ کو اپنی جانب اٹھنے کی جسارت نہیں کرنے دینگے ۔

ان کی آواز میں دشمن کے لیے للکار تھی کہ اس دھرتی کے بیٹے ہر دم تیار ہیں ۔

مزید پڑھیں: اندھیرے ہار گئے زندہ باد پاکستان

یہ احوال ہے پاکستان نیول اکیڈمی میں 115 ویں مڈشپ مین اور 23ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا جس کے مہمان خصوصی چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا تھے۔

پاک بحریہ ترجمان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی بھی تقریب میں شریک تھے۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں کُل 226 افسران نے کمیشن حاصل کیے۔

قائداعظم گولڈ میڈل لیفٹیننٹ معراج خالد خان نے حاصل کیا۔ مڈ شپ مین حمزہ ملک نے اپنی مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر حاصل کی، آفیسر کیڈٹ حزیفہ جاوید نیازی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گولڈ میڈل، مڈ شپ مین عازِق بیگ نے اکیڈمی ڈرک حاصل کی جبکہ کمانڈنٹ گولڈ میڈل آفیسر کیڈٹ حمیرا مریم نے حاصل کیا۔

بحرین ڈیفنس فورسز کے مڈ شپ مین نائف ابراہیم محمدابراہیم الصیاح نے چیف آف دی نیول اسٹاف گولڈ میڈل حاصل کیا۔

جبکہ ان افسران میں گلگت سے تعلق رکھنے والی فاطمہ چنگیزی کے علاوہ سید رئیس الحسن سید محمد علی شیر نواز شاہ ۔شہزاد سد پارہ سعد خان بونجی اور شعیب حیدر گھانچے بھی شامل ہیں۔

ایک  صحافی کی آنکھ وہ دیکھتی ہے جو عام نظر سے اوجھل ہوتا ہے اس تقریب میں ان نوجوانوں کے والدین بھی موجود تھے جن کے چہروں پر خوشی اور آنکھوں میں فخر کے رنگ جھلک رہے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افواج اپنی زمین اپنے سمندر اور اپنی ہواؤں کی محافظ

یہ جانتے ہوئے کہ اب ان کی اولاد ان کی نہیں وطن کی ہوئی ہوسکتا ہے وہ کسی غازی کے والدین ہوں مگر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی شہید کے والدین کہلائیں کسے پتہ کسے معلوم لیکن ان کا حوصلہ بھی کمال ۔

اس تقریب کی سب سے خوبصورت بات بیٹوں کےساتھ بیٹیاں بھی شانہ بشانہ تھیں کہیں کمانڈنٹ گولڈ میڈل آفیسر کیڈٹ حمیرا مریم کے نام تو کہیں گلگت کی فاطمہ چنگیزی نے آفیسر رینک  لگالیا ۔ تو کہیں سب لیفٹینیٹ رشنا اپنے والد کموڈور عارف سعید کو سیلوٹ کیا ۔

کہیں پاس آؤٹ کیڈٹس اپنی ماؤں کے سر پر اپنی ٹوپی رکھ کر اپنی عقیدت کا اظہار کررہے تھے۔ ان خوب صورت اور پر جوش جوانوں کو دیکھ کر دل سے بس یہ  دعا نکلی کہ سمندر کے یہ محافظ ہر محاذ سے کامیاب لوٹیں ۔

جو عہد انہوں نے وطن سے کیا ہے اسے وہ ہمیشہ  نباہ سکیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *