PM Imran 808x454

وزیراعظم عمران خان کی تقریر ، اس سے پہلے نہ سنی گئی نہ دیکھی گئی

215 views

ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کا پرسکون انداز جبکہ تقریر کے دوران وزیراعظم نے  عوامی مسائل پر بات تو کی لیکن ساتھ ہی انتہائی دلیرانہ پاکستان کا فیصلہ سنایا جو اس سے پہلے نہ دیکھا گیا اور نہ ہی سنا گیا۔

غانیہ نورین

بدھ کے روز وزیراعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی تقریر انکی ایسی تقریر تھی جو کسی شور شرابے کی نذر نہیں ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی بنا کسی اعتراض وزیراعظم کی تقریر سنی۔

وزیراعظم کی ایوان میں کی جانے والی تقریر اس انداز سے بھی منفرد تھی کہ انہوں نے سال 2014 سے اب تک تقریباً ہر تقریر میں اپوزیشن جماعتوں پر الزام تراشی اور تنقید نہیں کی بلکہ ایک سلجھے پارلیمانی رہنماؤں کی طرح انہیں مذکرات اور بات کرنے کی دعوت دی۔

انہوں نے پہلی بار اپوزیشن جماعتوں کو این آر او کے بجائے انتخابی اصلاحات پر کھل کر بات کرنے اور اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کی پیش کش کی۔

پارلیمانی وزراء نے خان صاحب کی اس تقریر کو ان کے کیریئر کی بہترین تقریر قرار دے رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے عوامی مسائل پر ناصرف بات کی بلکہ ملکی اور غیرملکی تعلقات پر بولڈ انداز پر گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان ایک بار پھرعوام کے دل جیتنے میں کامیاب

تقریر کے دوران وزیراعظم نے پروقار اور خودمختاری کا عملی جامہ اوڑھ رکھا تھا انہوں نے مشکل حالات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کا شکریہ کیا وہیں امریکا اور مغربی ممالک کا پاکستان کے ساتھ رویے پر شدید نکتہ چینی بھی کی۔

عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے اور افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا دوٹوک اعلان بھی کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی اس تقریر نے ملک کی تاریخ کے ان عوامی رہنماؤں کی یاد دلائی جنھوں نے ماضی میں اپنے شاندار خطاب کے ذریعے عوام  مسائل کو ناصرف اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی عوام کو بحثیت خود مختار قوم کی شناخت دلائی۔

وزیراعظم کی شاندار تقریر

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری پر پارٹی اور اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کے لیے دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات جمہوریت کا مستقبل ہے، اس ملک میں 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازع ہوئے، سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں بھی تنازعات سامنے آئے، 2013 کے الیکشن میں 4حلقے کھولنے کی درخواست دی، ڈھائی سال بعد چاروں حلقوں میں دھاندلی نکلی، اصلاحات نہیں کریں گے تو ہر الیکشن میں ایسا ہوگا۔

انتخابی اصلاحات

عمران خان نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں اپوزیشن نے پہلے دن ہی کہا کہ انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیسے ٹھیک نہیں ہوئے، صاف شفاف الیکشن کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ ای وی ایم ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے انتخابات میں شفافیت آئے گی، اگر اپوزیشن کے پاس کوئی اور تجویز ہے تو ہم سننے کو تیار ہیں، یہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں بلکہ جمہوری مستقبل کا مسئلہ ہے، وقت آگیا ہے کہ الیکشن لڑیں اور کسی کو فکر نہ ہو کہ دھاندلی سے ہرا دیا جائیگا، ایسے الیکشن ہونے چاہئیں جن کے نتائج ہارنے والے بھی تسلیم کریں، اگر ہم نے الیکشن اصلاحات نہ کیں تو آئندہ بھی دھاندلی کے الزامات لگتے رہیں گے۔

بجٹ

عمران خان نے کہا کہ وزیرخزانہ نے میرے نظریہ کے مطابق بجٹ بنایا، جب ہماری حکومت آئی تو سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تھا، معیشت کو بہتر کرنے کیلئے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑے، اسی وجہ سے عوام کو مشکلات پیش آئیں اور اب بھی ہیں، جب ملک مقروض ہو جائے تو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، اس مشکل وقت میں سعودی عرب اور چین نے ہماری مدد کی اور ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچایا، ہم نے پوری کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہ پڑے، مگر دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے اس کے پاس جانا پڑا۔

ریاست مدینہ

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلامی فلاحی ریاست کا نظریہ پاکستان نے دیا ہے، ہمارے اکابرین نے یہ نظریہ ریاست مدینہ سے لیا تھا، ضروری ہے کہ پاکستان اپنے اکابرین کے اصولوں پر واپس جائے، کیونکہ اگر ہم اس نظریہ سے پیچھے ہٹ جائیں تو مقصد ختم ہو جائے گا، جب حضور اکرمؐ مدینہ پہنچے تو انہوں نے ریاست مدینہ میں جو اصول طے کئے اس کی گواہ دنیا کی تاریخ ہے، اس ریاست کے قیام کے 13 سے 14 سال کے اندر قیصر و کسریٰ نے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، ہم اس وقت علم و سائنس میں آگے تھے مگر بعد میں یورپ نے انہیں اپنالیا، پاکستان نے اگر آگے بڑھنا ہے تو ریاست مدینہ کے ان تین اصولوں انسانیت، انصاف اور خودداری پر عمل کرنا ہوگا۔

زراعت

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس بار گندم، چاول اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی کیونکہ پیسہ پہلی بار کسانوں کو براہ راست منتقل ہوا جو انہوں نے فصلوں پر لگایا، ہم نے فیصلہ کیا کہ کسان کو گنے کا پیسہ بروقت ملے، اسی وجہ سے ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہمارا خاندانی نظام نہ ہو تو لوگ یہاں بھوکے مریں، ہمارا خاندانی نظام اپنے غریب افراد کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے، ہم نے پانچ سو ارب روپے کامیاب پاکستان کے لیے رکھا ہے، چالیس سے پچاس فیصد نچلے طبقے کو اس کامیاب پاکستان پروگرام میں لارہے ہیں، جس میں بلاسود قرض دیا جائے گا، کسانوں کو تین لاکھ روپے تک قرض دیا جائیگا۔

یہ بھی پڑھیں: ہم بھوکے عوام پر مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے:وزیراعظم عمران خان

صحت

عمران خان نے بتایا کہ جب کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو قرض کی وجہ سے سارا گھر غربت میں چلا جاتا ہے، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے تمام عوام کو ہم ہیلتھ انشورنس دیں گے، ترقی یافتہ ملکوں میں ہیلتھ پریمیئم دینا پڑتا ہے مگر ہم مفت دے رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ اب کسی بھی اسپتال میں استعمال ہوسکتا ہے، حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اسپتال بنائے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ اوقاف اور متروکہ املاک کی سستی زمینیں اسپتالز کے لئے دیں گے۔

قانون کی حکمرانی

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اب فلاحی ریاست کی جانب جارہا ہے، جب وزیراعظم پیسہ چوری کرکے باہر بھیجتا ہے تو ملک تباہی کی طرف جاتا ہے جبکہ وہ معاشرہ اوپر جاتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، ملک پٹواری کی نہیں وزیراعظم اور وزرا کی کرپشن سے تباہ ہوتا ہے، گزشتہ روز سندھ کے ایم این اے کو نیب پکڑنے گیا تو لوگوں نے نیب کے اہلکاروں کو مارا، پہلی بار نیب بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہا ہے اس لیے شور ہورہا ہے کہ اب نیب برا ہوگیا، دس سال یہ حکومت میں رہے مگر کیوں قانون تبدیل نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مدینے کی ریاست میں حکمرانوں نے محلات نہیں بنائے:وزیراعظم عمران خان

عمران خان نے کہا کہ لاہور میں سرکاری زمین سے قبضہ چھڑایا گیا تو کہا گیا ظلم ہورہا ہے، ماضی میں جب ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تھا تو سب خاموش تھے، ایک مہذب ملک اس طرح نہیں چل سکتا جب تک بڑے کرپٹ لوگوں کو نہیں پکڑا جاتا، قانون کی حکمرانی ایک معاشرے کی بنیاد ہے، آج سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سب آزاد ہے، ہم کسی جج کوفون نہیں کرتے، طاقتور لوگوں کو جب تک قانون کے نیچے نہیں لائیں گے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

افغان جنگ

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لا الہ الااللہ غیرت دیتا ہے اور کوئی ملک غیرت کے بغیر نہیں اٹھتا، جو اللہ کے سامنے جھکتا ہے وہ کسی سپر پاور کے سامنے نہیں جھکے گا، ہم نے امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا جس سے زندگی میں سب سے زیادہ ذلت محسوس ہوئی، امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی حماقت کی، امریکا نے جو کہا وہ ہم کرتےرہے، میں نے کہا ہم دوسروں کی جنگ کا حصہ کیوں بنیں، ہم اپنے لوگوں کی جانوں کی قربانیاں دوسرے ملک کے لیے کیوں دیں، جب کہا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا۔

ڈرون حملے

عمران خان نے مزید کہا کہ امریکا ڈرون حملے پاکستان کی حکومتوں کی اجازت سے کرتا رہا جسے ہماری حکومتیں چھپاتی رہیں، 30 سال سے لندن میں ہمارا دہشت گرد بیٹھا ہے، اسے مارنے کے لیے کیا برطانیہ ہمیں اجازت دے گا کہ پاکستان لندن میں ڈرون حملہ کرے؟ کبھی نہیں، تو پھر ہم کیوں اجازت دیتے رہے، دنیا نے نہیں ہم نے خود اپنے آپ کو ذلیل کیا، اس سے ہم نے ایک سبق سیکھا ہے کہ کبھی اس قوم نے کسی کے لیے کسی خوف سے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا، میں نے امریکا کو فوجی اڈے دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر خان صاحب کی تقریر نے دھوم مچائی اور اپوزیشن جماعتوں کے خاموش تماشائی بننے والے عمل پر حیرت کا اظہار کیا، وزیراعظم کی تقریر کے بعد ان کے حامیوں نے تو حسب سابق تعریفوں کے پل باندھ دیے مگر غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے بھی ان کی تقریر کو سراہا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ میں دونوں اطراف سے جس طرح کی سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ کب تک قائم رہے گا کیونکہ ایوان میں ہونے والی پارلیمانی وزراء کی ایک دوسرے پر لعن طعن کی اخلاقی پسماندگی بھی سب کے سامنے ہیں جو اکثر پڑھے لکھے ان پڑھ رہنماؤں کی روایت بنتی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کی تقریر نے ملکی خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی طوفان برپا کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں طوفان بدتمیزی عروج پر، گالم گلوچ، اراکین بھی زخمی

Source:Media Reports
Content:Ghania Naureen
مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *