پاکستان اسرائیل تعلقات اور سی بریز مشقیں

پاکستان اسرائیل تعلقات اور سی بریز مشقیں

183 views

 پاکستان اسرائیل کے عالمی سطح پر باقاعدہ تعلقات بہت حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ان تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے ملک گیر ردعمل کی فی الحال متحمل نہیں ہوسکتی ۔

فہمیدہ یوسفی

پاکستان اسرائیل کے باضابطہ تعلقات اندرونی طور پر وفاقی حکومت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں اس وقت خطے میں جاری صورتحال جس میں سب سے اہم افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے اور پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے ۔جبکہ پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ پاکستان کا کشمیر کی خودمختاری پر موقف کمزور ہوگا ۔

جبکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ تر اسلامی ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر رکھے ہیں جن میں مصر اور ترکی شامل ہیں جبکہ اب عرب ممالک کی جانب سے بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرکے سفارتی تعلقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ ،جو میں نے دیکھا

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل ایک بڑی معاشی ہی نہیں بلکہ دنیا کی اہم فوجی طاقت بھی ہے دیکھا جاۓ تو پاکستان کے قریبی دوست سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کی راہیں ہموار کر لی ہیں ۔

سفارتی ماہرین کے مطابق ملکوں کے تعلقات ان کے اپنے اپنے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دوست کل کے دشمن ہوتے ہیں ۔

Pakistan: Impediment on Israel | ORF

یہ بھی حقیقت ہے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کا فائدہ اس خطے میں بھارت کو ہوا ہے۔ آج کل ایک بار پھر پاکستان اسرائیل تعلقات کے بارے میں چہ مگوئیاں کی جارہی ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی ذلفی بخاری نے نومبر 2020 میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کا خفیہ دورہ کیا۔

کبھی وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے حوالے سے خبر سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں توکبھی پاکستان بحریہ کے حوالے سے خبر سامنے آتی ہے کہ پاکستان بحریہ اسرائیل کے ساتھ سی بریز مشقوں کا حصہ ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ پاکستان بتدریج اسرائیل سے اپنے تعلقات کم از کم فوجی سطح پر بحال کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: اندھیرے ہار گئے زندہ باد پاکستان

ان خبروں کا سلسلہ تب سے شروع ہوا جب اسرائیلی اخبار نے اسلام آباد ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی ذلفی بخاری نے نومبر 2020 کے آخری ہفتے میں اسرائیل کا ایک مختصر خفیہ دورہ کیا جس میں انہوں نے موساد چیف سے ملاقات کی اور ایک اہم شخصیت کی طرف سے پیغام بھی پہنچایا، دورے کا مقصد سینیئر اسرائیلی عہدیداروں سے ملاقات کرنا تھا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دورہ اور ملاقاتیں متحدہ عرب امارات کے دباؤ پر کی گئیں۔

Disqualification case: SC serves notices to PM Imran Khan, Zulfi Bukhari -  Business Recorder

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کا بحیرہ اسود میں امریکی نیوی کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کا امکان ہے۔ حیران کن طور پر اسی خبر کو ایک اور اسرائیلی اخبار کے ایڈیٹر نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ جبکہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی ذلفی بخاری نے اپنے مبینہ خفیہ دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش افواہوں کی سختی سے تردید کی اسی ضمن میں وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی اسرائیلی اہلکاروں سے ملاقاتیں نہیں ہوئی اور نہ ہی انھوں نے کبھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔

اسی حوالے سے پاکستان کی اپوزیشن نے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور حکومت سے وضاحت بھی طلب کی ہے اب ذرا چلتے ہیں اس خبر کی جانب جو اس وقت سوشل میٖڈیا پر زور و شور کے ساتھ زیر گردش ہے اور مختلف ٹویٹر اکاؤنٹس سے ٹویٹ کی جارہی ہےاور اسی سلسلے میں ایک دو کالم بھی شائع ہورہے ہیں اور وہ خبر یہ کہ پاکستان بحریہ اس وقت بحیرہ اسود میں اسرائیل کے ساتھ Sea Breeze مشقوں میں حصہ لے رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افواج اپنی زمین اپنے سمندر اور اپنی ہواؤں کی محافظ

اس سے پہلے بات کریں کہ پاکستان بحریہ وہاں کس حییثیت میں موجود ہے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ Sea Breeze مشقیں کہاں اور کیوں ہورہی ہیں ۔ امریکہ اور یوکرائن کی بحریہ ان مشقوں کا مشترکہ انعقاد کررہے ہیں جو 28 جون سے 10 جولائی تک بحیرہ اسود میں جاری رہینگی ان مشترکہ بحری مشقوں کی سرگرمیوں میں زمینی جنگ ، ڈائیونگ آپریشنز ، سمندری مداخلت کی کارروائیوں ، فضائی دفاع ، خصوصی آپریشنوں میں انضمام ، اینٹی سب میرین وارفیئر اور سرچ اور ریسکیو آپریشن شامل ہیں ۔

Sea Breeze 2021 kicks off in Black Sea region

واضح رہے کہ یہ مشترکہ مشق 1997 سے ہر سال منعقد کی جارہی ہے۔ جس کا مقصد بحیرہ اسود کی بیشتر اقوام اور نیٹو کے اتحادیوں اور شراکت داروں کو ایک ساتھ لانا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے حصول میں نیٹو کے ممبران ایکدوسرے کے ساتھ تربیت اور سمندری چیلینج پر کام کر سکیں بحریہ اسود میں جاری بحری مشقوں میں خاص طور پر ، تیونس ، متحدہ عرب امارات ، مراکش اور مصر بطور مشاہدہ کار کے طور پر شامل ہیں ۔

ان مشقوں کو نیٹو کی جانب سے ایک اہم دفاعی بحری ایونٹ سمجھا جاتا ہے ، حالانکہ درجنوں غیر نیٹو ممالک بھی اس میں بطور مبصر شریک ہوتے ہیں بحیرہ اسود میں ان مشقوں میں حصہ لینے اور بطور مبصر اس وقت امریکہ ، یوکرین ، برطانیہ ، اسرائیل ، البانیہ ، آسٹریلیا ، برازیل ، بلغاریہ ، کینیڈا ، ڈنمارک مصر ، ایسٹونیا ، فرانس ، جارجیا ، یونان ، اٹلی ، جاپان ، لیٹویا ، لتھوانیا ، مالڈووا ، مراکش ، ناروے ، پاکستان ، پولینڈ ، رومانیہ ، سینیگال ، اسپین ، جنوبی کوریا ، سویڈن ، تیونس ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی بحریہ کی نمائندگی موجود ہے ۔

مزید پڑھیں: اناطولین ایگل مشقیں: پاک فضائیہ کے جے ایف17 تھنڈر طیاروں کی شرکت

دل چسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک کے آپس میں باضابطہ تعلقات نہیں ہیں یا جن کے تعلقات تناؤ کے نازک دور سے گذر رہے ہیں ، جیسے اسرائیل اور پاکستان جن کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات موجود ہیں ان بحری مشقوں کے لیے وہاں موجود ہیں۔ تو پاکستان بحریہ کیا واقعی ان مشقوں میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہے اور کیا پاکستانی جہاز کسی قسم کی دفاعی مشقوں کا حصہ ہیں اس ضمن میں بحریہ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہم عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان ان مشقوں میں بطور مبصر کے طور پر شریک ہے ۔

Georgia Participates in Sea Breeze 2021 Exercise – Civil.ge

ہمارے میزبان ، یوکرین کے ساتھ اچھے دفاعی تعلقات ہیں اس لیے پاکستان بطور مبصر وہاں موجود ہے یوکرائنی ڈی اے (ڈیفنس اتاشی) نے پاک بحریہ کے امن مشق -2021 میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ اسی وجہ سے ہم نے صرف اپنے ڈی اے(ڈیفنس اتاشی) کو مبصر کی حیثیت سے شرکت کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پاکستانی جہاز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا۔

لہذا ، پاکستان نیوی کی ترک بحریہ اور اسرائیلی بحریہ کے ساتھ کسی قسم کی دفاعی سرگرمیوں میں شمولیت وہ ڈس انفو مہم کا حصہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ کے کسی بھی بین الاقوامی فورم میں اسرائیلی بحریہ کے ساتھ بالواسطہ روابط / دفاعی تعلقات نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستان بحریہ اس ضمن میں خارجہ پالیسی کے ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ مشقوں میں شرکت کا ہرگز مطلب نہیں کہ اسرائیل پر پالیسی تبدیل ہوگئی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امن: امن مشقیں سال 2021

پاکستان کے وزیر اعظم کا اسرائیل پر موقف دوٹوک ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستانی افواج چاہے وہ بحری ہو ں بری ہوں یا پھر فضاٰئی کسی بھی دور میں بھی اسرائیلی افواج کے ساتھ کسی قسم کے باضابطہ رابطے میں نہیں رہی ہیں اور نہ ہی کبھی مشترکہ مشقوں کا حصہ بنی ہیں ۔

اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ڈس انفو مہم ایک بار پھر خطے میں جاری صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے جاری ہے جس کے تانے بانے ایک بار پھر پڑوس میں جاکر جڑینگے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *