tiktok 808x454

سندھ ہائیکورٹ کا ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق بڑا فیصلہ

27 views

سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے پی ٹی اے کو ایپ کی بحالی کا حکم دے دیا ہے۔

غانیہ نورین

پاکستان میں ٹک ٹاک کی مقبولیت کے بعد شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن میں آئے روز پابندی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے جبکہ کئی مرتبہ ایپ کو پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

چند روز قبل بھی سندھ ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر فحاش اور نامناسب مواد نشر کرنے پر پابندی کا فیصلہ سنایا تھا تاہم آج بروز جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک پر پابندی سے اچانک بنے ستارے ماند پڑ گئے

تفصیلات کے مطابق جمعے کو سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ پی ٹی اے کی متفرق درخواست پر دیتے ہوئے پی ٹی اے کو ’ایل جی بی ٹی‘ سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دے دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے لِپ سنکنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی درخواست پر سماعت کی جس میں پی ٹی اے کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پی ٹی اے نے 30جون کو ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کر دیا تھا۔

دورانِ سماعت عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل کو کہا کہ پی ٹی اے شکایت کنندہ کی درخواست پر 5 جولائی تک فیصلہ کرے، اس پر پی ٹی اے حکام نے عدالت کو مقررہ تاریخ پر فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مزید پڑھیں: فحاش اور نامناسب ویڈیوز : ٹک ٹک اپلیکیشن بند کرنے کا حکم

عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے ایپلی کیشن پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیااور مزید سماعت بھی 5 جولائی تک ملتوی کردی۔

خیال رہےکہ سندھ ہائیکورٹ نے 28 جون کو ٹک ٹاک معطل کرنے کا حکم دیا تھا اور  پی ٹی اے نے عدالت سے حکم امتناع واپس لینے کی استدعا کی تھی۔

اس قبل پشاور ہائیکورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی تاہم عدالت کے دوسرے بینچ نے اس پابندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکرز کو خوشخبری سنادی

Source: Media Reports
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *