canada 808x454

کینیڈا: ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ کے مجسمے گرادیئے گئے

141 views

سینکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے پر کینیڈا میں مظاہرے پھوٹ پڑے، مشتعل مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ کے مجسموں کو گرادیا۔

غانیہ نورین

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں سابق مقامی اسکولوں سے بچوں کی اجتماعی قبروں کی دریافت پرغم و غصے کا اظہار کرنے والے مظاہرین نے صوبے مانیٹوبا کے دارالحکومت وینیپگ میں نصب برطانوی ملکہ وکٹوریا اور ملکہ الزبتھ کے مجسمے گرا دیے۔

مشتعل مظاہرین نے برطانوی بادشاہت کی علامت ان مجسموں کو گرانے سے پہلے ’’نو پرائیڈ ان جینوسائیڈ‘‘ یعنی ‘نسل کُشی پر کوئی فخر نہیں‘ کا نعرہ لگایا۔ یہ کارروائی کینیڈا میں منائے جانے والے ’کینیڈا ڈے‘ کے روایتی جشن کے موقع پر عمل میں لائی گئی۔

TABLEAU | Canada Day / Proteste

واضح رہے کہ اس سال کینیڈا میں متعدد سابق اسکولوں سے بچوں کی اجتماعی قبروں کی دریافت کے بعد معاشرے میں پھیلی ہراس اور شرمندگی کے سبب بہت سے شہروں میں ‘کینیڈا ڈے‘ کے روایتی جشن کو منسوخ کر دیا گیا۔

عوام سمیت حکام اپنی نو آبادیاتی تاریخ کا اس انداز میں سامنے کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دریں اثناء کہا کہ اس سال ‘کینیڈا ڈے‘ سوچ بچار اور ماضی پر غور و فکر کا دن ہے۔

نامعلوم قبروں کی اصل کہانی

  کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا اور ساسکیچیوان کے سابقہ مقامی اسکولوں سے قریب ایک ہزار بغیر نشان والی قبریں دریافت ہوئی ہیں جو بنیادی طور پر کیتھولک چرچ کے زیر نگرانی چل رہے تھے اور ان کی مالی اعانت کینیڈا کی حکومت کرتی تھی۔

TABLEAU | Canada Day / Proteste

165 سال تک اور دور حاضر میں 1996 ء میں کینیڈا کے اسکولوں میں مقامی بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا جاتا تھا، انہیں خوراک سے محروم کر کے کم غذائیت کا شکار بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا جسمانی اور جنسی استحصال بھی کیا جاتا تھا۔ م

قامی بچوں کے ساتھ اس ناروا سلوک کو ‘ ٹروتھ اینڈ ریکنسیلییشن کمیشن‘ نے 2015 ء میں ‘ ثقافتی نسل کُشی ‘ قرار دیا تھا۔

Source:DW
Content:Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *